خراسان اور سیاہ پرچم جہادیوں کے لیے اہم کیوں؟ | حالات حاضرہ | DW | 26.07.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

خراسان اور سیاہ پرچم جہادیوں کے لیے اہم کیوں؟

داعش اور طالبان جیسی جہادی تنظیموں کے لیے خراسان کی کیا اہمیت ہے؟ یہ جاننے کے لیے ڈی ڈبلیو نے اس جغرافیائی علاقے کی مذہبی اور تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی ہے، جو اب مختلف ممالک میں تقسیم ہو چکا ہے۔

جرمن شہر وُرسبرگ میں گزشتہ ہفتے ایک ٹرین پر ہوئے حملے کے بعد انتہا پسند گروہ داعش کی طرف سے جاری کردہ ایک ویڈیو میں خراسان کا حوالہ دیا گیا۔ داعش کی بیعت کرنے والے ایک افغان مہاجر نے یہ حملہ کیا تھا۔ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ اس جہادی تنظیم نے اپنی پرتشدد کارروائیوں کا مذہبی جواز تراشنے کی خاطر خراسان کا حوالہ دیا ہو۔

DW.COM

جب مختلف جہادی گروہ خراسان کی بات کرتے ہیں تو ان کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ اب جدید نقشے کے تحت ایران کے خراسان نامی علاقے بات کر رہے ہیں۔ داعش اور طالبان کے لیے خراسان دراصل ’اسلام کے سنہری دور‘ کی علامت ہے، ماضی کا خراسان یعنی ایک ایسی تاریخی مملکت جس میں موجودہ وسطی ایشیائی ممالک کے علاوہ ایران اور افغانستان کے کچھ علاقے بھی شامل تھے۔

سیاہ پرچم کی مذہبی اہمیت کیا ہے؟

امریکا میں مقیم اسلامی امور کے ماہر عارف جمال کا کہنا ہے، ’’داعش کے جہادی ایسی تاریخی روایات کو سچ تصور کرتے ہیں کہ قیامت سے قبل خراسان سے سیاہ پرچموں (جیسا کہ داعش کا پرچم) کے سائے میں ایک ایسی فوج سر اٹھائے گی، جو کافروں کو ختم کر دے گی۔‘‘ ڈی ڈبلیو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ایسے عقائد کی مخصوص احادیث کی مدد سے بھی تشریح کی جاتی ہے۔

اگرچہ کئی اسکالرز احادیث میں خراسان کے تذکرے پر شبہات کا شکار ہیں تاہم جہادی عناصر کا اس بارے میں یقین پختہ ہے اور وہ ایسی احادیث کو تھوڑا سا بھی ضعیف نہیں سمجھتے۔

پاکستان میں کئی حلقے ماضی میں ایسے خیالات کا اظہار بھی کر چکے ہیں کہ دراصل خراسانی فوج پاکستان کے شمال مغربی علاقوں اور افغانستان کے جنوبی علاقوں سے ہی ابھرے گی۔ ایسے مذہبی رہنماؤں کے خیال میں طالبان عسکریت پسند ہی وہ فوج ہیں، جو ’قیامت سے قبل کفر کا خاتمہ‘ کرے گی۔

داعش کے جہادی عراق اور شام میں اپنی نام نہاد خلافت قائم کرنے کے بعد اب افغانستان میں بھی قدم جمانے کی کوشش میں ہیں۔ اسی شدت پسند گروہ نے تئیس جولائی کو ہزارہ شیعہ کمیونٹی پر کیے گئے حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی۔ عارف جمال کے مطابق خراسان کا نظریہ داعش کے ہاں بھی اتنا ہی مبہم ہے، جتنا کہ یہ اسلامی روایات میں ہے۔

افغانستان میں داعش اور خطرات

روایات کے مطابق قدیم خراسان کی جغرافیائی حدود میں افغانستان، ایران، پاکستان، چین، بھارت اور کچھ وسطی ایشیائی ریاستوں کے علاقے بھی آتے ہیں۔ عارف جمال کے بقول، ’’لیکن ایسے جنگجو گروہوں کے لیے تاریخی اور جغرافیائی حوالوں کے بجائے خراسان کی مذہبی شناخت زیادہ مقدم ہے۔‘‘

بون میں مقیم اسلامی اسکالر اور ماہر تاریخ اسلم سید کا کہنا ہے کہ پیغمبر اسلام سے منسوب خراسان سے متعلق احادیث مستند نہیں ہیں۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’یہ روایات ضعیف ہیں اور ان کی تصدیق ممکن نہیں ہے۔ ماضی میں مسلمان حکمرانوں نے غیر ممالک میں اپنے حملوں کا جواز تلاش کرنے کی خاطر ایسی روایات گھڑی تھیں۔ پیغمبر اسلام نے خراسان کے بارے میں کوئی بات نہیں کی تھی۔‘‘ تاہم اسلم سید کے مطابق خراسان کا علاقہ علمی حوالے سے اسلامی تاریخ میں انتہائی شاندار رہا ہے۔

اسلم سید نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’خراسان دراصل ایک طویل عرصے تک مسلمانوں کے لیے ثقافت، الٰہیات اور علم و دانش کا مرکز تھا۔ جب عربوں نے اسے فتح کیا تو یہ صرف ایک صوبہ تھا۔ تاہم جب بعد میں بغداد میں خلافت کمزور ہوئی، تو یہیں سے حکمرانوں کے کئی سلسلے نکلے، جن میں شیعہ اور سنی دونوں شامل تھے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ بغداد سے نکلنے والی آخری شاہی سلطنت خوارزم کی تھی، جس نے منگولوں کے خلاف لڑائی کی تھی۔ سلجوقی سلطنت کے ماتحت خوارزمی سلطنت گیارہویں صدی میں خود مختار ہوئی تھی۔

خراسان کی ایک خود مختار حیثیت ختم ہو چکی ہے

اسلم سید نے مزید کہا کہ بعد ازاں خراسان مختلف علاقوں میں تقسیم ہو گیا، جو اب افغانستان، ایران، تاجکستان اور ازبکستان میں بھی بٹ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چودہویں صدی میں خراسان کی ایک خود مختار حیثیت ختم ہو چکی تھی۔

ڈاکٹر اسلم سید کے مطابق، ’’عظیم فارسی شعراء رومی اور رودکی کے علاوہ ابن سینا جیسے فلسفہ دان بھی خراسان کے علاقے سے تعلق رکھتے تھے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ یہ علاقہ ایک شاندار ماضی رکھتا ہے لیکن خراسان سے شدت پسندی کی کوئی نسبت نہیں ہے۔

اسلامی امور کے ماہر عارف جمال کا خیال ہے کہ اسلام پسندوں کے لیے خراسان کی ایک خاص اہمیت اس لیے بھی ہے کیونکہ کچھ اسلامی روایات کے مطابق، ’’پیغمبر اسلام نے کچھ مسلمانوں کو نصیحت کی تھی کہ وہ قیامت سے قبل شام میں جا کر رہیں۔ اسی لیے داعش نے شام کو اپنا مرکز بنانے کا فیصلہ کیا۔‘‘