حساس مقامات پر فوج تعینات، مظاہرین کے خلاف آپریشن تاحال معطل | حالات حاضرہ | DW | 26.11.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

حساس مقامات پر فوج تعینات، مظاہرین کے خلاف آپریشن تاحال معطل

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں دھرنے کے خاتمے کے لیے گزشتہ روز پولیس کارروائی کی گئی تھی، تاہم پرتشدد جھڑپوں اور متعدد افراد کی ہلاکت کے بعد حکومت نے فوج طلب کر لی ہے۔

شدت پسند مذہبی جماعت تحریک لبیک یا رسول اللہ گزشتہ تین ہفتوں سے دارالحکومت اسلام آباد کے ایک اہم داخلی اور خارجی راستے پر دھرنا دیے بیٹھی ہے اور اس دھرنے کے خاتمے کے لیے حکومت کی جانب سے جاری کردہ وارننگ اور ڈیڈلائن کے خاتمے کے بعد گزشتہ روز پولیس نے اپنی کارروائی کا آغاز کیا تھا، تاہم اس کے نتیجے میں مظاہرین اور پولیس اہلکاروں کے درمیان پرتشدد جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ ان جھڑپوں کے باعث کم از کم چھ افراد ہلاک جب کہ قریب ڈیڑھ سو افراد زخمی ہوئے ہیں۔

فیض آباد آپریشن بند، اسلام آباد میں فوج طلب کر لی گئی

اسلام آباد دھرنے کے خلاف آپریشن+++ اپ ڈیٹس+++

اسلام آباد دھرنے کے خلاف پولیس آپریشن جاری

پرتشدد جھڑپوں کے باعث حکومت نے پولیس اور نیم فوجی دستوں کے ذریعے شروع کیے گئے آپریشن کو روکنے کا اعلان کیا۔ حکومت کا کہنا تھا کہ پولیس کو مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آتشیں اسلحے کے استعمال سے منع گیا تھا اور پولیس نے فقط آنسو گیس اور تیز دھار پانی کا استعمال کیا۔

پاکستانی وزارت داخلہ کی جانب سے بعد میں پولیس کارروائی روکنے اور لاقانونیت کی فضا کی روک تھام کے لیے فوج طلب کرنے کا اعلان کیا گیا۔ وزارتی بیان میں کہا گیا ہے کہ مناسب تعداد میں فوجی دستے حالات کو قابو میں کرنے کے لیے طلب کر لیے گئے ہیں، جو آئندہ حکم تک اسلام آباد میں تعینات رہیں گے۔

ویڈیو دیکھیے 01:02
Now live
01:02 منٹ

مظاہرین سویلین حکومت کو کمزور بنانا چاہتے ہیں، حفیظ نیازی

تاہم اس حکومتی اعلان کے بعد بھی اتوار کی صبح تک فوجی دستے متاثرہ علاقوں میں دکھائی نہیں دیے۔ نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اس بارے میں رائے لینے کے لیے فوج کے ترجمان سے متعدد بار رابطہ کیا گیا تاہم انہوں نے موجودہ صورت حال کے بارے میں کوئی بیان جاری کرنے سے انکار کر دیا۔

اس دھرنے کے خلاف شروع کی جانے والی کارروائی کے بعد ملک کے متعدد دیگر علاقوں میں بھی مظاہروں کا آغاز ہو گیا تھا، جس کے بعد حکومت نے ملک کے نجی ٹی وی چینلز کی نشریات اور سوشل میڈیا ویب سائٹس تک رسائی بند کر دی۔

یہ بات اہم ہے کہ تحریک لبیک یارسول اللہ نامی شدت پسند گروپ وزیرقانون زاہد حامد کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ان مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ حکومت نے دانستہ طور پر ایک پارلیمانی بل سے ’ختم نبوت‘ سے متعلق حلف نامے میں تحریف کی۔ وزیرقانون زاہد حامد نے ’پیغمبرِ اسلام کے آخری نبی ہونے سے متعلق حلف‘ کے الفاظ منہا ہونے کو غلطی قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اسے درست کر دیا گیا ہے۔

 

DW.COM

Audios and videos on the topic

اشتہار