حافظ سعید کے عدالتی ریمانڈ میں توسیع | حالات حاضرہ | DW | 24.07.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

حافظ سعید کے عدالتی ریمانڈ میں توسیع

پاکستان میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے کالعدم جماعت الدعوة کے سربراہ حافظ سعید کو مزید چودہ روز کے لیے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔

بدھ چوبیس جولائی کے روز گوجرانوالہ میں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیشی کے موقع پر جج علی عمران نے حکم دیا کہ اس مقدمے کا حتمی چالان سات اگست کو عدالت میں پیش کیا جائے۔ حافظ سعید کو پنجاب کے محکمہ انسداد دہشت گری نے سترہ جولائی کو لاہور سے گوجرانوالہ جاتے ہوئے گرفتار کیا تھا۔ حافظ سیعد پر دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کے الزامات ہیں۔

پاکستان میں حافظ سعید کو ایک مذہبی فلاحی شخصیت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے  لیکن بھارت انہیں ممبئی میں کیے گئے دہشت گردانہ حملوں کا ماسٹر مائنڈ قرار دیتا ہے۔ اقوام متحدہ اور امریکا حافظ سعید کو پہلے ہی دہشت گرد قرار دے چکے ہیں۔

حافظ سعید کو ماضی میں بھی پکڑا اور چھوڑا جاتا رہا ہے۔ لیکن حالیہ برسوں میں پاکستان پر اس حوالے سے عالمی دباؤ بڑھتا ہی گیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے لیے مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔

حافظ سعید کی تازہ گرفتاری وزیر اعظم عمران خان کے دورہ واشنگٹن سے چند روز پہلے عمل میں آئی تھی۔ امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی ایک ٹویٹ میں اس گرفتاری کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کارروائی مسلسل امریکی دباؤ کا نتیجہ تھی۔

پچھلے ماہ جون میں امریکی شہر اورلینڈو میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ایک اجلاس میں پاکستان کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا گیا تھا۔ ایف اے ٹی ایف نے پہلے ہی پاکستان کو اپنی 'گرے لسٹ‘ میں رکھا ہوا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر اسلام آباد نے اب بھی ٹھوس اور قابل یقین اقدامات نہ کیے، تو اکتوبر میں یہ ٹاسک فورس پاکستان کو بلیک لسٹ بھی کر سکتی ہے۔

پاکستانی حکام کا موقف ہے کہ حافظ سعید کے خلاف کارروائی کسی بیرونی دباؤ کا نتیجہ نہیں بلکہ ملک میں مشتبہ دہشت گرد تنظیموں کے خلاف پہلے سے جاری کارروائیوں کا حصہ ہے۔

DW.COM