جوہری معاہدے پر بات چیت قومی مفاد میں ہو، نو منتخب ایرانی صدر | حالات حاضرہ | DW | 22.06.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

جوہری معاہدے پر بات چیت قومی مفاد میں ہو، نو منتخب ایرانی صدر

ایران کے نو منتخب صدر کا کہنا ہے کہ ایران کے بیلیسٹک میزائل پروگرام پر کسی سمجھوتے یا گفت و شنید کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ انہوں نے پابندیاں عائد رہنے تک اپنے امریکی ہم منصب سے ملاقات سے بھی انکار کیا ہے۔

ایران کے نو منتخب صدر ابراہیم رئیسی نے جوہری معاہدے کی تجدید کے لیے مغربی ممالک سے ہونے والی بات چیت کا خیر مقدم کیا ہے تاہم انہوں نے تنبیہ کی ہے کہ اس عمل میں بہر صورت قومی مفاد کو ضمانت حاصل ہونی چاہیے۔

صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد انہوں نے 21 جون پیر کو اپنی پہلی پریس کانفرنس میں کئی اہم امور پر بات چیت کی اور کہا کہ ویانا میں جوہری معاہدے پر ہونے والے مذاکرات کو وہ بہت طول دینے کی اجازت نہیں دیں گے۔

ایران کے سابق صدر حسن روحانی کے دور میں سن 2015 میں امریکا سمیت مغربی ممالک سے ایک جوہری معاہدہ طے پایا تھا جس سے سابق صدر ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر امریکا کو باہر کر لیا تھا اور ایران پر پھر سے سخت پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ صدر بائیڈن کے اقتدار میں آنے کے بعد اس معاہدے کا از سر نو جائزہ لینے کی کوششیں ہو رہی ہیں اور اسی لیے ویانا میں بات چیت جاری ہے۔

 نو منتخب صدر ابراہیم رئیسی نے کہا کہ ان کی خارجہ پالیسی صرف جوہری معاہدے پر بات چیت تک ہی محدود نہیں رہے گی۔ ان کا کہنا تھا، ''ہم مذاکرات برائے مذاکرات کی اجازت نہیں دیں گے۔ مذاکرات کو بہت زیادہ طول دینا نہیں چاہیے بلکہ ہر نشست کا کچھ نہ کچھ نتیجہ نکلنا چاہیے۔ ہمارے لیے نتائج پر مبنی (مذاکرات) اہم ہیں اور اس کا نتیجہ بھی ایرانی قوم کے مفاد کے لیے ہونا چاہیے۔''

انہوں نے امریکا سے معاہدے میں فوری طور پر واپس ہونے پر زور دیتے ہوئے کہا اسے پابندیاں ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ ان سے جب یہ سوال کیا گیا کہ کیا وہ امریکی صدر جو بائیڈن سے ملاقات کرنا چاہیں گے تو انہوں نے کہا وہ، ''ان سے ملنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ '' 

ان کا کہنا تھا کہ جو بائیڈن نے بھی سن 2015 کے جوہری معاہد ے کو نظر انداز کر دیا اور، ''ایرانی عوام کے خلاف غیر انسانی پابندیوں کی حمایت کی۔ انہیں پہلے پابندیاں اٹھانی ہوں گی اس کے بغیر امریکا کی پہلی جیسی ساکھ بحال نہیں ہو سکتی۔''

اس سے متعلق جب وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات ہی نہیں ہیں اور اعلی سطح پر ایسی کسی میٹنگ کا کوئی منصوبہ بھی نہیں ہے۔

ایران کے نو منتخب صدر نے ملک کے بیلیسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں ایرانی پالیسیوں پر بھی کسی گفت و شنید سے انکار کیا۔ کئی مغربی ممالک اور پڑوسی شام، یمن اور بحرین میں سرگرم مسلح گروپوں کی ایرانی حمایت سے نالاں اور اسے بند کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ نو منتخب صدر نے اس سلسلے میں کسی تبدیلی کا اشارہ نہیں دیا۔

 پریس کانفرنس کے دوران جب نومنتخب صدر سے ان کے انسانی حقوق کے ریکارڈ کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا، ''مجھے فخر ہے کہ میں جس عہدے پر بھی رہا میں نے حتی الامکان انسانی حقوق کا تحفظ کیا۔''

واضح رہے کہ انسانی حقوق کے مبینہ خراب ریکارڈ کی وجہ سے امریکا نے جن شخصیات پر پابندی عائد کر رکھی ہے اس میں ایران کے نو منتخب صدر ابراہیم رئیسی کا نام بھی شامل ہے۔

ص ز/ ج ا  (اے پی، ڈی پی اے)   

ویڈیو دیکھیے 01:06

’ایران سے خطرہ‘، اسرائیل نے میزائل دفاعی نظام فعال کر دیا

DW.COM