جنسی الزامات، کیون اسپیسی کو عدالت نے طلب کر لیا | معاشرہ | DW | 25.12.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

جنسی الزامات، کیون اسپیسی کو عدالت نے طلب کر لیا

معروف امریکی اداکار کیون اسپیسی پر جنسی حملوں کے الزامات ہیں۔ انہوں نے ان الزامات کے جواب میں ایک ویڈیو پیغام بھی جاری کیا ہے۔ تاہم اس کے باوجود انہیں عدالت میں پیش ہونا پڑے گا۔

آسکر ایوارڈ یافتہ اداکار کیون اسپیسی پر پیر کو امریکی ریاست میساچیوسٹس کی ایک عدالت نے ایک اٹھارہ سالہ لڑکے پر 2016ء میں جنسی حملہ کرنے کے الزامات کی صفائی پیش کرنے کے لیے طلب کر لیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ہالی وُڈ کے اس اداکار کو سات جنوری کو نَین ٹکَیٹ کی ایک عدالت میں جج کے سامنے پیش ہونا ہو گا۔

اسپیسی کے خلاف اس شکایت کا تعلق نومبر 2017ء سے ہے، جب بوسٹن ٹیلی وژن کی ایک اینکر ہیدر انروہ نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ اسپیسی نے کس طرح ان کے اٹھارہ سالہ بیٹے پر جنسی حملہ کیا تھا، ’’اسپیسی نے میرے بیٹے کو بار بار شراب پلائی اور جب وہ نشے میں دھت ہو گیا تو اسپیسی نے اس کی پتلون میں ہاتھ ڈال کر اس کے عضو مخصوصہ کو پکڑ لیا۔‘‘ یہ واقعہ ریاست میساچیوسٹس کا ہے، جہاں اکیس برس کی عمر میں شراب نوشی کی اجازت ہے۔

اسپسی اور ان کے وکلاء کی جانب سے ان الزامات پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم اس اداکار نے یو ٹیوب پر پیر کے روز تین منٹ کی ایک ویڈیو جاری کی، جس میں انہوں نے ’ہاؤس آف کارڈز‘ نامی سیریز میں اپنے کردار فرینک انڈروڈ کی آواز میں اپنا پیغام دیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اوہ یقیناً وہ ہمیں جدا کرنا چاہتے ہیں لیکن ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے، وہ بہت طاقتور اور مضبوط ہے۔ ہم نے سب کچھ ایک دوسرے سے بانٹا ہے۔‘‘

اس ویڈیو کا عنوان ہے، Let Me Be Frank۔ اس ویڈیو کے آخر میں انہوں نے کہا، ’’میں یقینی طور پر کسی ایسی حرکت کی قیمت ادا نہیں کروں گا، جو میں نے کی ہی نہیں۔‘‘

اسپیسی پر امریکا اور برطانیہ میں کم از کم ایک درجن سے زائد مردوں نے اسی طرح کے الزامات عائد کیے ہیں۔ ان الزامات کی ابتدا اس وقت ہوئی جب اداکار انتھونی راپ نے گزشتہ برس یہ بیان دیا کہ 1986ء میں اسپیسی جنسی طور پر ان کی جانب مائل ہوئے تھے۔ اس وقت راپ کی عمر چودہ برس تھی۔

کیون اسپیسی کے بقول انہیں بہرحال یہ واقعہ یاد نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اگر نشے کی حالت میں ایسا کچھ ہوا تھا، تو وہ معذرت خواہ ہیں۔  انسٹھ سالہ کیون اسپیسی ان الزامات کے بعد عوامی منظر نامے سے دوری اختیار کر چکے ہیں۔

ویڈیو دیکھیے 03:13

’انکار کرو‘ دراصل ’می ٹو‘ سے مختلف ہے، انجلین ملک

DW.COM