جنرل باجوہ کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات | حالات حاضرہ | DW | 07.05.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

جنرل باجوہ کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات

پاکستانی آرمی چیف منگل کو سعودی عرب پہنچے تھے جبکہ وزیراعظم عمران خان آج جمعے سے سعودی عرب کا دورہ شروع کررہے ہیں۔

وزیراعظم کے دورے سے پہلے پاکستانی آرمی چیف کی ان ملاقاتوں کا بظاہر مقصد دونوں روایتی حلیفوں کے درمیان پچھلے دو سال کے دوران پیدا ہونے والی بدمزگی دور کرنا ہے۔

یہ کوششیں ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو خود بھی امریکی دباؤ کا سامنا ہے۔  صدر جو بائیڈن کے اقتدار میں آنے کے بعد سعودی عرب میں انسانی حقوق کی پامالیوں، ترکی میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل اور ایران کے ایٹمی پروگرام جیسے امور پر واشنگٹن کی پالیسی میں تبدیلی نظر آ ارہی ہے۔  

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق جدہ میں ہونے والی ان ملاقاتوں میں آرمی چیف نے سعودی ولی عہد کے علاوہ نائب وزیراعظم،  وزیر دفاع اور نائب وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز السعود سے بھی بات چیت کی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق اس موقع پر جنرل باجوہ نے سعودی عرب کے حکمراں خاندان کو پاکستانی فوج کی خدمات کی بھرپور یقین دہانی کرائی اور کہا کہ '' پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری اور حرمین شریفین کے دفاع کے لیے پُرعزم ہے۔‘‘

پاکستانی فوجی ترجمان کے بقول اس موقعے پر شہزاد ہ محمد بن سلمان نے خطے میں امن و سلامتی کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا۔ گفتگو میں افغانستان میں جنگ بندی کی حالیہ کوششوں، باہمی فوجی تعاون اور علاقائی امن کے لیے مل کر کام کرنے پر بات چیت ہوئی۔

رشتوں میں سرد مہری

اگست سن 2019 میں جموں کشمیر میں مودی حکومت کے یک طرفہ اور متنازعہ اقدامات کے بعد پاکستان کو مسلم دنیا سے توقعات تھیں کہ وہ کشمیریوں کی حمایت میں بولیں گے۔ تاہم سعودی عرب، خلیجی عرب ریاستوں اور اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی نے  کھل کر پاکستان کا ساتھ دینے سے گریز کیا۔

پاکستانی حکومت کو اس پر سخت مایوسی ہوئی جس کا برملا اظہار وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک بیان میں کر ڈالا، جس کے بعد سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات  بظاہر سردمہری کا شکار ہوگئے۔

اس سے قبل او آئی سی میں بظاہر ناکامی کے بعد پاکستان نے ترکی اور ملائیشیا کے ساتھ مل کر کوالالمپور میں مسلم ممالک کی ایک اور کانفرنس میں مسئلہ کشمیر اٹھانے کا اعلان کیا تھا جو سعودی حکومت کو سخت ناگوار گذرا۔ سعودی ناراضگی کے مدنظر بعد میں وزیر اعظم پاکستان کو یوٹرن لیتے ہوئے اس کانفرنس میں جانے سے انکار کرنا پڑا۔

پھر پچھلے سال تعلقات میں اس حد تک سرد مہری آگئی کہ سعودی حکومت نے 2018 میں دیے جانے والے تین ارب ڈالر کے قرض کی واپسی کا مطالبہ کردیا۔

وزیراعظم عمران خان کے دور حکومت میں پاکستانی معیشت کو مسلسل وسائل کی قلت کا سامنا رہا ہے۔

ایسے میں اپنے روایتی حلیف کی طرف سے قرضے کی واپسی کا مطالبہ پاکستان کے لیے مشکل تھا، لیکن پھر حکومت نے چین سے کمرشل بنیادوں پر مزید قرضہ لے کر دسمبر 2020 میں سعودی عرب کو ایک ارب ڈالر کا قرضہ چُکایا دیا۔ اس سے پہلے پاکستان سعودی عرب کو جولائی میں ایک ارب ڈالر کی ادائیگی کر چکا تھا۔

معاشی اور فوجی مفادات

مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو معاشی طور پر سعودی عرب کی سخت ضرورت ہے کیونکہ آج بھی وہاں مقیم لاکھوں پاکستانی ہر ماہ بھاری رقوم وطن واپس بھیجتے ہیں اور تیل کی بھی خاصی درآمد قہیں سے ہوتی ہے ۔ اسی طرح سعودی عرب عسکری معاملات میں  پاکستانی فوج پر انحصار کرتا ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب واشنگٹن میں صدر جو بائیڈن کی حکومت خطے میں کشیدگی کم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور ایران کے نیوکلئیر پروگرام پر دوبارہ پیش رفت کے لیے کوششیں کر رہی ہے، سعودی عرب نے بھی سفارتکاری اور بات چیت کے ذریعے اختلافات کم کرنے کا اشارہ دیا ہے۔

سعودی عرب کے ولی عہد شہزاد ہ محمد بن سلمان نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں ایران کے حوالے سے مفاہمتی لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”ایران ہمسایہ ملک ہے اور ہم ایران کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔‘‘

پاکستان کے نزدیک اگر پڑوسی ملک ایران اور سعودی عرب کے درمیان رابطوں سے یمن میں جاری لڑائی کا حل نکلتا ہے اور علاقائی کشیدگی کم ہوتی ہے، تو پاکستان سمیت یہ پورے مسلم خطے کے لیے نیک شگون ہوگا۔