جنرل اسمبلی سے عمران خان کا خطاب، پھر مودی حکومت پر تنقید | حالات حاضرہ | DW | 26.09.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

جنرل اسمبلی سے عمران خان کا خطاب، پھر مودی حکومت پر تنقید

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے عالمی رہنماؤں کی ورچوئل تقاریر کا سلسلہ جاری ہے۔ پچیس ستمبر کو پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کی پہلے سے ریکارڈ شدہ تقریر نشر کی گئی۔

جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے بھارت کی قوم پرست حکومت کی جانب سے متنازعہ مسلم اکثریتی علاقے جموں و کشمیر پر انتظامی کنٹرول کے سخت اقدامات کرنے پر ایک مرتبہ پھر تنقید کی۔

گزشتہ برس انہوں نے بطور وزیر اعظم پہلی مرتبہ جنرل اسمبلی اجلاس میں تنازعہٴ کشمیر کے حوالے سے مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رواں برس کے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں پاکستانی وزیر اعظم نے مودی حکومت پر تنقید کا سلسلہ گزشہ برس کی تقریر میں جہاں ختم کیا تھا، وہاں سے پھر شروع کیا۔

عمران خان نے واضح کیا کہ بھارتی حکومت کو اسلامو فوبیا شدت سے لاحق ہو چکا ہے اور اس باعث وہاں رہنے والے دو سو ملین مسلمانوں کی زندگیوں کو سنگین خطرات کا سامنا ہے۔ خان کے مطابق قوم پرست حکومت کا دعویٰ ہے کہ بھارت صرف ہندوؤں کا دیس ہے اور بقیہ مذاہب کے ماننے والوں کا درجہ ہندوؤں کے برابر نہیں ہے۔

اقوام متحدہ میں بھارت مشن سے تعلق رکھنے والے سفارت کار میجیتو وینیتو کا پاکستانی وزر اعظم کی تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہنا تھا، ''یہ سفارت کاری میں تنزلی کا ایک اور درجہ ہے، جب کہ تقریر جھوٹ، غلط اطلاعات، بغض اور جنگی جذبات کا اظہار تھی۔‘‘

یہ بھی پڑھیے: ترک صدر مسئلہ کشمیر دوبارہ اقوام متحدہ میں لے آئے

تجزیہ کاروں کے مطابق جوہری ہتھیاروں سے لیس دونوں ہمسایہ ریاستیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے فورم کو ایسے خیالات کے اظہار کے لیے استعمال کرتی رہتی ہیں۔

بھارتی سفارت کار میجیتو وینیتو کا مزید کہنا تھا کہ جب پاکستانی لیڈر نے اپنی تقریر میں نفرت اور تشدد کا پرچار کرنے والوں کو خلاف قانون قرار دے کر پابندی لگانے کی بات کی تو یہ سوال ابھرتا ہے کہ کیا وہ خود کو بھی اسی پابندی کے زمرے میں لانا چاہیں گے۔

یہ امر بھی اہم ہے کہ پاکستانی وزیر اعظم نے دنیا کے مختلف ممالک میں مسلمانوں کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک پر واویلا تو کیا لیکن ان کی تقریر میں ایغور مسمانوں پر چینی حکومت کے جبر کا معمولی سا حوالہ بھی نہیں تھا۔

بین الاقوامی مبصرین کے مطابق چینی صوبے سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں کو ریاستی جبر کا سامنا ہے اور پاکستان سمیت کئی دوسرے با اثر مسلم ممالک کی خاموشی حیران کن ہے۔ ان کے مطابق ان ممالک کی خاموشی کی وجہ چین کے ساتھ استوار اقتصادی روابط ہیں۔

پاکستان اور چین کے معاشی اور سماجی تعلقات کی تاریخ خاصی پرانی تصور کی جاتی ہے۔ چین پاکستانی معیشت کو تقویت دینے کے اقدامات کے ساتھ ساتھ اس کی دفاعی ضروریات کو بھی پورا کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

یہ بھی پڑھیے: سرکاری رازداری قانون، جمہوریت پر لٹکتی تلوار ہے

جنرل اسمبلی سے تقریر کرتے ہوئے عمران خان نے کورونا وائرس کی وبا سے پیدا اقتصادی مشکلات اور مسائل کے تناظر میں غریب ملکوں کی معاشی پیچیدگیوں پر بھی اظہار خیال کیا۔

ان کا یہ کہنا تھا کہ اس وبا میں کوئی بھی اُس وقت تک محفوظ نہیں جب تک ہر ایک محفوظ نہیں ہو جاتا۔ عمران خان کے مطابق امیر ملکوں کے لاک ڈاؤن نے عالمی کساد بازاری کی راہ ہموار کی اور اس باعث غریب ملکوں کی معاشی مشکلات اب دوچند ہو گئی ہیں۔

کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے جنرل اسمبلی کا ورچوئل اجلاس جاری ہے۔ عالمی ادارے کی رکن ریاستوں کے رہنماؤں کی پہلے سے ریکارڈ شدہ تقاریر جنرل اسمبلی کے ہال میں مستقل نمائندوں کی موجودگی میں نشر کی جا رہی ہیں۔

ع ح، ش ح (اے پی)

ویڈیو دیکھیے 03:22

کشمیر: خاتون کی ہلاکت پر صدمہ