جرمن ریڈیو اسٹیشن کو ’نسلی امتیاز ‘ کے الزام کا سامنا | فن و ثقافت | DW | 28.02.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

فن و ثقافت

جرمن ریڈیو اسٹیشن کو ’نسلی امتیاز ‘ کے الزام کا سامنا

باویریا کا ایک ریڈیو اسٹیشن دنیا بھر میں ایک دم مشہور ہو گیا۔ اس کی وجہ ریڈیو پروگرام کے دوران میزبان کا ’بی ٹی ایس بینڈ‘ کے نئے گیت اور البم پر کڑی تنقید تھی۔ کمپیئر نے اب شائقین سے اپنے الفاظ ہر معذرت پیش کر دی ہے۔

جرمنی کی جنوبی ریاست باویریا کے مشہور ریڈیو اسٹیشن بائرن تھری کو 'کے پوپ بینڈ‘ کے لاکھوں شائقین کے غم و غصے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ شائقین اس ریڈیو اسٹیشن کے ایک کمپیئر ماتھیاس ماٹوشِک پر نسلی تعصب کا الزام بھی عائد کر رہے ہیں۔ اس کمپیئر کا قصور یہ ہے کہ انہوں نے 'کے پوپ بینڈ‘ بی ٹی ایس کی ریلیز 'کولڈ پلے‘ سیریز کے 'فِکس یُو‘ البم کے باہری کوَر کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

پُسی رائٹ روسی بینڈ کی پوٹین مخالف ویڈیو ریلیز

کمپیئر کی تنقید

ماتھیاس ماٹوشِک نے 'کے پوپ بینڈ‘ بی ٹی ایس کو کورونا وائرس کی کوئی قسم قرار دیا تھا۔ کمپیئر کا یہ بھی کہنا تھا کہ مستقبل قریب میں اس انہونے وائرس کی ویکسین بھی جلد دریافت کر لی جائے گی۔ ماتھیاس شِک نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے تجویز کیا کہ انہیں اگلے بیس برسوں کے لیے شمالی کوریا چھٹیاں گزارنے کے لیے بھیج دیا جائے تو مناسب ہو گا۔

K-Pop Band - Got7

جنوبی کوریا میں ٹین ایجر لڑکوں کے میوزیکل بینڈ بہت مشہور ہیں

جنوبی کوریائی شائقین نے ریڈیو پریزینٹر کے خلاف تنقید کا زیادہ شور مچایا تو ماتھیاس شِک کا کہنا تھا کہ ان کا ہدف جنوبی کوریا نہیں تھا اور نا ہی وہ اجانب دشمنی کا شکار ہیں۔ اپنے ناقدین کو انہوں نے بتایا کہ وہ جنوبی کوریا میں تیار کی جانے والی موٹر کار استعمال کرتے ہیں۔

کمپیئر کی معذرت

بائرن تھری ریڈیو کے کمپیئر ماتھیاس ماٹوشِک نے بی ٹی ایس نامی جنوبی کوریائی میوزیکل بینڈ پر تنقید اور شائقین کے جوابی ردِعمل پر معذرت پیش کر دی ہے۔ ماٹوشِک نے معذرت پیش کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ان کا مقصد کسی کا دل آزاری یا میوزیکل بینڈ کے فنکاروں کی توہین مقصود نہیں تھی۔

'بی ٹی ایس آرمی‘  کا ردعمل

ماتھیاس شِک کی تنقید کے جواب میں جنوبی کوریا سے تعلق رکھنے والے 'کے پوپ بوائے بینڈ‘ بی ٹی ایس کے شائقین نے سوشل میڈیا پر تنقید کا طوفان مچا دیا۔ یہ شائقین خود کو بی ٹی ایس آرمی قرار دیتے ہیں۔ شائقین کی اس فوج کے اراکین نے بائرن تھری ریڈیو اسٹیشن کے کمپیئر کو نسلی تعصب زدہ قرار دے دیا۔

یہ ’کے کلچر‘ کیوں پھیل رہا ہے؟

یہ امر اہم ہے کہ سن 2019 میں جب چین اور پھر جنوبی کوریا میں کورونا وائرس کی افزائش عام ہوئی تھی تب سے ڈھکے چھپے انداز میں کئی ملکوں کے لوگوں میں تعصب کا رویہ دیکھا گیا۔

بی ٹی ایس آرمی کے نوجوان شائقین نے سوشل میڈیا پر واضح کیا کہ ایسے کلمات کو کسی صورت میں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ شائقین نے کمپیئر کے محض تبصرے پر ان کا احتساب کرنے کی خواہش بھی بیان کی ہے۔

Südkorea Seoul | K-Pop | 2NE1

جنوبی کوریا میں لڑکیوں کے میوزیکل بینڈ کو بھی بہت پسند کیا جاتا ہے

ریڈیو اسٹیشن کا موقف

بائرن تھری ریڈیو اسٹیشن نے اس صورت حال میں اپنے کمپیئر کے تبصرے کو درست اور اس کا دفاع بھی کیا ہے۔ ریڈیو کی انتظامیہ نے کمپیئر کا مکمل ساتھ دینے کا بھی کہا ہے۔ اس بیان میں انتظامیہ نے یہ ضرور اعتراف کیا کہ کمپیئر تبصرے میں کچھ غیر ضروری الفاظ کا استعمال کر گیا تھا اور انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔

آن لائن ہراساں کیے جانے کے بعد گلوکارہ نے خودکشی کر لی

انتظامیہ کے مطابق 'کے پوپ بوائے بینڈ‘ بی ٹی ایس کے البم یا گیتوں کے بارے میں کمپیئر نے کُھلی گفتگو کی اور اس میں دانستہ کچھ بھی نسلی تعصب کے تناظر میں نہیں تھا۔ ریڈیو کے مطابق ایسے کسی پروگرام میں الفاظ کا چناؤ بھی کمپیئر ہی کرتا ہے اور ان کی صاف رائے بدنیتی پر مبنی نہیں تھی لیکن بی ٹی ایس کے شائقین نے کمپیئر کی رائے کو منفی انداز میں غیر معمولی طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے۔

رچرڈ کونر (ع ح، ع آ)