جرمنی کی اقتصادی ترقی کا چھوٹا، لیکن حیران کن راز | معاشرہ | DW | 01.12.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

جرمنی کی اقتصادی ترقی کا چھوٹا، لیکن حیران کن راز

آپ نے کبھی یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ جرمنی کی اقتصادی ترقی کا راز کیا ہے؟ جرمنی کی چھوٹی اور درمیانے درجے کی انڈسٹری ایسی ضروری اشیا تیار کرنے میں مہارت رکھتی ہے جنہیں عام طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

جرمن کاروں اور ٹیکنالوجی کی صنعت دنیا بھر میں شہرت رکھتی ہے۔ ڈی ڈبلیو کی نمائندہ کیٹ فرگوسن کے مطابق تاہم اس ملک کی تیزی سے ترقی کرتی معیشت کے پچھے صرف بڑی صنعتیں نہیں بلکہ معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت درمیانے اور چھوٹے درجے کے کاروباروں کو حاصل ہے۔

'آپ کیا کرتے ہیں؟‘

ڈنر پارٹیوں کے دوران جب یہ سوال پوچھا جاتا ہے تو ہم میں سے اکثر اپنے بیزار کن کام کو بھی دلچسپ بنا کر پیش کرتے ہیں۔ برلن میں ایسی ہی ایک پارٹی کے دوران میں نے اسٹیفان لانگے سے یہی سوال پوچھا تو وہ کہنے لگا کہ وہ برلنر شراؤبن (برلن پیچ) نامی ایک کمپنی میں برانچ مینیجر ہے۔ لانگے نے بتایا، ’’نام ہی میں سب بات واضح ہے۔ ہم کہاں سے ہیں، برلن سے۔ کرتے کیا ہیں؟ پیچ بناتے ہیں۔‘‘

بعد ازاں معلوم ہوا کہ بات اتنی چھوٹی بھی نہیں۔ یہ کمپنی پیچ بھی بناتی ہے اور پائپوں کے جوڑ اور دیگر متعلقہ اشیا بھی۔

’چھپے رستم‘

جرمنی کی معاشی ترقی کے پچھے برلنر شراؤبن جیسی چھوٹی اور درمیانے درجے کی کمپنیوں (ایس ایم ایز) کا بڑا ہاتھ ہے۔ سمال اینڈ میڈیم انڈسٹری (ایس ایم ای) سے مراد ایسی صنعتیں ہیں جن کے ملازمین کی تعداد پانچ سو سے کم اور سالانہ آمدن پچاس ملین یورو سے کم ہو۔

جرمنی میں ایسی چھوٹی صنعتوں کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ کسی ایک خاص پراڈکٹ پر توجہ مرکوز رکھتی ہیں اور تیزی سے کاروبار پھیلانے کی بجائے بتدریج پھیلاؤ کو ترجیح دیتی ہیں۔ لانگے کے بقول، ’’پروفیشنل ازم کا مطلب یہ ہے کہ آپ وہ کام کریں جس پر آپ کو عبور حاصل ہے۔‘‘

جرمنی میں ہر دس میں سے چھ افراد ایسی ہی چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں میں ملازمت کرتے ہیں اور ملکی معیشت میں ایسی صنعتوں کا حصہ پچاس فیصد سے بھی زائد ہے۔

جرمنی میں عوام کی بڑھتی عمر کے باعث تاہم ایسی صنعتوں کو بھی ہنر مند افراد کی قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جسے تارکین وطن بھرتی کر کے پورا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ش ح / ع ب (کیٹ فرگوسن)

DW.COM