جرمنی: ڈبلن ضوابط کے تحت سینکڑوں تارکین وطن زیر حراست | مہاجرین کا بحران | DW | 18.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی: ڈبلن ضوابط کے تحت سینکڑوں تارکین وطن زیر حراست

جرمن حکام نے سیاسی پناہ کی تلاش میں جرمنی آنے والے سینکڑوں تارکین وطن کو ’ڈبلن ضوابط کے تحت حراست‘ میں لیا۔ پناہ کے ان مسترد درخواست گزاروں کو جرمنی سے دیگر یورپی ممالک بھیجا جائے گا۔

وفاقی جرمن پارلیمان میں بائیں بازو کی سیاسی جماعت ’دی لِنکے‘ کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ جرمن حکام نے رواں برس فروری کے آغاز سے لے کر جولائی کے آخر تک پناہ کے 344 مسترد درخواست گزاروں کو ’ڈبلن ضوابط کے تحت حراست‘ میں لیا۔ پیر اٹھارہ دسمبر کے روز ایک مقامی جرمن اخبار میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ان تارکین وطن کو جرمنی سے ملک بدر کر کے یورپی یونین کے دوسرے رکن ممالک میں بھیجا جائے گا۔

پاکستان سے ترک وطن: مسائل اندرون ملک، حل کی تلاش باہر

جرمنی سے نکالے گئے پاکستانی واپس اسلام آباد پہنچ گئے

ڈبلن ضوابط کے مطابق پناہ کی تلاش میں یورپ کا رخ کرنے والے تارکین وطن صرف اسی یورپی ملک ہی میں پناہ کی درخواستیں جمع کرا سکتے ہیں، جس کے ذریعے وہ یورپی یونین کی حدود میں داخل ہوئے ہوں۔ ’ڈبلن ضوابط کے تحت حراست‘ میں بھی ایسے ہی تارکین وطن کو لیا جاتا ہے، جنہوں نے جرمنی آنے سے قبل یونین کے کسی دوسرے رکن ملک میں بھی حکام کو اپنی سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرائی تھیں۔ اسی وجہ سے انہیں حراست میں لے کر واپس اسی ملک بھیج دیا جاتا ہے، اور ان کی سیاسی پناہ کی درخواستوں پر باقی کارروائی بھی صرف اسی یورپی ملک میں ہی کی جاتی ہے۔

جرمن حکام کے مطابق اگر ایسے تارکین وطن کے بارے میں یہ شبہ ہو کہ وہ متعلقہ یورپی ملک واپسی کی بجائے کسی دوسرے ملک میں فرار بھی ہو سکتے ہیں، تو اس صورت میں انہیں حراست میں لے کر ان کی ملک بدری کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ یوں ڈبلن ضوابط کے تحت حراست کا عمل پناہ کے ایسے مسترد شدہ درخواست گزاروں کی گرفتاری سے مختلف ہے، جنہیں حراست میں لیے جانے کے بعد واپس ان کے آبائی وطنوں کی جانب بھیج دیا جاتا ہے۔

جرمن پارلیمان میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے کے دوران وفاقی جرمن پولیس نے انتظامی عدالتوں میں 364 تارکین وطن کو ڈبلن ضوابط کے تحت حراست میں لیے جانے کی درخواستیں دی تھیں، تاہم ایسی بیس درخواستیں رد کر دی گئی تھیں۔

جرمنی میں پناہ کے متلاشی افراد کی تعداد میں کمی کے اعتبار سے ڈبلن ضوابط کے تحت واپسی کا قانون جرمنی کے لیے ایک کارِ لاحاصل کی مانند رہا ہے کیوں کہ رواں برس کی تیسری سہ ماہی کے دوران اٹھارہ سو سے زائد پناہ کے متلاشی افراد کو جرمنی سے دیگر یورپی ممالک بھیجا گیا لیکن اسی عرصے میں انہیں قوانین کے تحت قریب سترہ سو افراد یونین کے دیگر رکن ممالک سے واپس جرمنی بھی بھیجے گئے۔

انہی اعداد و شمار کی بنیاد پر جرمنی کی لیفٹ پارٹی کی سیاست دان اُولا یلپکے نے وفاقی پارلیمان میں تنقید کرتے ہوئے کہا، ’’یہ کس قسم کا کھیل ہے، وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ بی اے ایم ایف کے 316 اہلکار ڈبلن ضوابط کے کیس نمٹانے میں لگے ہیں، جب کہ ان سے جرمنی میں جمع کرائی گئی پناہ کی درخواستوں کو منصفانہ انداز میں اور تیزی سے نمٹانے کا کام لینا زیادہ مفید ہو سکتا ہے۔‘‘

یورپ کی راہ، مگر زندگی کا سفر ایرانی سرحد پر ہی ختم

اٹلی: پناہ کے قوانین میں تبدیلی کا مجوزہ قانون

DW.COM

اشتہار