جرمنی نے ایسٹونیا کو اسلحہ یوکرائن برآمد کرنے سے روک دیا، رپورٹ | حالات حاضرہ | DW | 22.01.2022

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

جرمنی نے ایسٹونیا کو اسلحہ یوکرائن برآمد کرنے سے روک دیا، رپورٹ

جرمنی نے مبینہ طور پر ایسٹونیا کو جرمنی میں بنائے گئے ہتھیار یوکرائن کو فروخت کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ ایسٹونیا اور لیٹویا نے ممکنہ روسی حملے کی صورت میں یوکرائن کی مدد کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

یوکرائن راکٹ

فائل فوٹو

امریکی اخبار 'وال اسٹریٹ جرنل‘ نے جمعے کے روز اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ جرمنی نے ایسٹونیا کو جرمن ساختہ ہتھیار یوکرائن کو فراہم کرنے سے روک دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق برلن حکومت نے اس ضمن میں اجازت نامہ جاری کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

دوسری جانب امریکا نے ایسٹونیا کو امریکی ساختہ ہتھیار یوکرائن کو فروخت کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب یورپ اور امریکا اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ روس یوکرائن پر حملہکر سکتا ہے۔

روس نے اپنے ایک لاکھ سے زائد فوجی یوکرائنی سرحد پر تعینات کر رکھے ہیں۔ روس کا دعویٰ ہے کہ وہ یوکرائن پر حملہ کرنے کا ارادہ تو نہیں رکھتا لیکن اگر روسی مطالبات پورے نہ کیے گئے تو وہ 'کسی قسم کی عسکری کارروائی‘ کر سکتا ہے۔

جرمنی کا یوکرائن کو ہتھیاروں کی فراہمی سے انکار

اگرچہ نیٹو کے دیگر اتحادیوں، بشمول برطانیہ اور پولینڈ، نے یوکرائن کو ہتھیاروں کی براہ راست فراہمی پر اتفاق کر رکھا ہے لیکن جرمنی نے اب تک ایسا کرنے سے انکار کر رکھا ہے۔

اس ضمن میں جرمن چانسلر اولاف شولز نے جمعے کے روز کہا تھا، ''جرمنی نے حالیہ برسوں کے دوران کسی کو بھی ہلاکت خیز ہتھیار برآمد کرنے کی حمایت نہیں کی۔‘‘

وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں جرمن ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایسٹونیا کو جرمن اسلحے کی فروخت کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ بھی جرمنی کی اسی پالیسی کے تحت کیا گیا ہے۔

ایسٹونیا کی وزارت دفاع کے مشیر کریسٹو این واگا کا کہنا تھا، ''امید ہے کہ ہمیں جرمنی سے اجازت مل جائے گی۔ ایسٹونیا نے دکھایا ہے کہ ہم یوکرائن کی ہر ممکن طریقے سے عملی مدد کرنا چاہتے ہیں۔‘‘

دوسری جانب جرمن حکام کا کہنا ہے کہ وہ یوکرائن کو ہتھیاروں کی فراہمی کی مخالفت اس لیے کر رہے ہیں کیوں کہ انہیں خدشہ ہے کہ اس سے کشیدگی میں اضافہ ہو گا اور مذاکرات کی کوششیں مزید مشکل ہو جائیں گی۔

بالٹک ریاستیں یوکرائن کو فراہم کرنے کے لیے تیار

ایسٹونیا، لیٹویا اور لیتھوینیا نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ وہ امریکی ساختہ سٹنگر اور دیگر میزائل یوکرائن کو فراہم کریں گے۔

بیان میں کہا گیا، ''روس کی جانب سے یوکرائن میں اور اس کے ارد گرد بڑھتے ہوئے عسکری دباؤ کی روشنی میں بالٹک ریاستوں نے یوکرائن کی ضروریات کے پیش نظر اسے اضافہ دفاعی معاونت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس امداد سے ممکنہ روسی جارحیت کے خلاف یوکرائن کی اپنے سرزمین اور عوام کے دفاع کی صلاحیتوں میں اضافہ ہو گا۔‘‘

لیتھوینیا کی وزارت دفاع کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ یوکرائن کو اسلحہ 'مستقبل قریب‘ میں فراہم کر دیا جائے گا۔ لیتھوینیا نے اس کے ساتھ یہ بھی کہا کہ 'امید ہے یوکرائن کو یہ ہتھیار استعمال کرنے کی ضرورت‘ نہیں پڑے گی۔

ش ح / ع ت (روئٹرز، اے ایف پی)

ویڈیو دیکھیے 03:17

یوکرائن اور روس کے درمیان مسلح تصادم کے خدشات