جرمنی: ’شریعہ پولیس‘ قائم کرنے والوں پر دوبارہ مقدمہ | معاشرہ | DW | 12.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمنی: ’شریعہ پولیس‘ قائم کرنے والوں پر دوبارہ مقدمہ

جرمنی کی وفاقی عدالت انصاف نے ملک میں بے قاعدہ طور پر ’شریعہ پولیس‘ قائم کرنے والے افراد کو بری کرنے کا ایک ماتحت عدالت کا فیصلہ منسوخ کرتے ہوئے ان کے خلاف دوبارہ مقدمہ شروع کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

سخت گیر اسلامی نقطہ نظر رکھنے والے مسلمانوں کے اس گروہ نے جرمنی کے مغربی شہر وُوپرٹال میں ’شریعہ پولیس‘ نامی ایک گروپ بنا رکھا تھا۔ سن 2014 میں اس گروپ کے ارکان رضاکارانہ طور پر وُوپرٹال شہر کی گلیوں میں پولیس کی وردی سے مشابہت رکھنے والی ایسی جیکٹیں پہنے گشت کرتے دیکھے گئے تھے، جن پر ’شریعہ پولیس‘ کے الفاظ درج تھے۔

مسلم شدت پسند خواتین کا نیٹ ورک، جرمن حکام کا ہدف

’سعودی عرب جرمنی میں انتہاپسندی برآمد کر رہا ہے‘

اس گروپ کے ارکان جرمنی کے مغربی شہر وُوپرٹال کی گلیوں میں گشت کرتے تھے اور شراب نوشی، جؤا کھیلنے اور موسیقی سننے کے حوالے سے اسلامی شرعی اصولوں پر عملدرآمد کروانے کی کوشش کرتے تھے۔ پولیس نے اسلام کے سخت گیر نقطہ نظر کے حامل اس گروپ کے سات ارکان کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا تھا۔

تاہم وُوپرٹال کی عدالت نے سن 2016 میں سنائے گئے اپنے ایک فیصلے میں ان تمام ساتوں افراد کو یہ کہتے ہوئے بری کرنے کا حکم دیا تھا کہ ان لوگوں نے جرمن قوانین کی خلاف ورزی نہیں کی۔ وُوپرٹال کی عدالت کے جوڈیشل پینل کا کہنا تھا کہ نازیوں کی تحریک کے سدباب کے لیے بنائے گئے جرمن قوانین صرف ایسی یونیفارم پہننے پر لاگو ہوتے ہیں، جو ’بظاہر جنگجو استعمال کرتے ہیں یا عوام میں خوف کا باعث‘ بنتے ہوں۔

دفتر استغاثہ کی جانب سے وُوپرٹال کی عدالت کے اس فیصلے کے خلاف ملک کی ایک اعلیٰ عدالت میں اپیل کی گئی تھی۔ جمعرات کے روز جرمنی کی وفاقی عدالت انصاف نے زیریں عدالت کی جانب سے ان افراد کو بری کرنے کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وُوپرٹال کی عدالت نے اپنے فیصلے میں ’شریعہ پولیس‘ کے ارکان کی جانب سے کیے گئے اقدامات کے ملکی عوام پر مرتب ہونے والے اثرات کو پیش نظر نہیں رکھا۔

’شریعہ پولیس‘ نامی یہ گروپ ایک جرمن نژاد مسلم سوَین لاؤ نے قائم کیا تھا۔ گزشتہ برس جولائی میں ایک علیحدہ مقدمے میں سوَین لاؤ کو جرمنی میں عوامی مقامات پر شریعت لاگو کرنے کی کوشش کرنے کے الزام میں ایک عدالت نے ساڑھے پانچ برس قید کی سزا سنائی تھی۔ 35سالہ سوَین لاؤ جرمنی کے ایک مغربی شہر میونشن گلاڈباخ میں پیدا ہوا تھا اور اس وقت مسلمان ہوگیا تھا جب وہ ابھی ایک ٹین ایجر تھا۔ عدالتی فیصلے کے مطابق لاؤ پر JAMWA نامی گروپ کی حمایت کا الزام ثابت ہو گیا تھا۔ اس گروپ نے سن 2016 میں ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش کو چھوڑ کر القاعدہ سے اتحاد کر لیا تھا۔

جرمنی: مساجد کا انسداد دہشت گردی مہم میں کردار

جرمنی میں مسلم فیشن دوکانوں کا تعلق شدت پسندوں کے ساتھ؟

ویڈیو دیکھیے 02:54
Now live
02:54 منٹ

جرمنی میں بھی پورے چہرے کے نقاب پر پابندی کے مطالبے

DW.COM

Audios and videos on the topic