جرمنی: برسر روزگار مہاجرین کی تعداد تین لاکھ سے تجاوز کر گئی | مہاجرین کا بحران | DW | 21.08.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

مہاجرین کا بحران

جرمنی: برسر روزگار مہاجرین کی تعداد تین لاکھ سے تجاوز کر گئی

جرمنی کے وفاقی دفتر روز گار کے مطابق رواں برس کے دوران جرمنی میں ملازمت کے حصول میں کامیاب ہونے والے مہاجرین کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ملک میں برسر روزگار مہاجرین کی تعداد تین لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

جرمنی کے وفاقی دفتر روزگار (بی اے) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں مقیم تارکین وطن اور مہاجرین کی ملکی روزگار کی منڈیوں تک کامیاب رسائی کی شرح میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ملک میں برسر روزگار تارکین وطن کی تعداد تین لاکھ چھ ہزار ہو چکی ہے جب کہ گزشتہ برس اسی مہینے کے دوران برسر روزگار تارکین وطن اور مہاجرین کی تعداد دو لاکھ کے لگ بھگ تھی۔

بی اے کے سربراہ ڈیٹلف شیلے نے یہ بھی بتایا کہ ملازمتوں کے حصول میں کامیاب ہونے والے پناہ گزینوں میں سب سے زیادہ اضافہ ان مہاجرین میں ہوا ہے جنہیں جرمن حکومت سماجی بہبود کے لیے رقم مہیا کر رہی تھی۔ صرف ایک برس کے دوران روزگار حاصل کرنے والے ایسے مہاجرین کی تعداد اٹھاسی ہزار سے بڑھ کر دو لاکھ اڑتیس ہزار تک پہنچ گئی۔ شیلے کا اس حوالے سے کہنا تھا، ’’ایسے مہاجرین کا برسر روزگار ہونا اس لیے بھی خوش آئند ہے کہ یہ افراد روزگار کی تلاش میں نہیں بلکہ انسانی بنیادوں پر پناہ حاصل کرنے کے لیے جرمنی آئے تھے۔‘‘

یہاں یہ امر بھی اہم ہے کہ یورپی یونین سے باہر کے ممالک سے تعلق رکھنے والے ایک ملین سے زائد افراد سن 2015 میں جرمنی آئے تھے۔ ان مہاجرین کی اکثریت کا تعلق آٹھ ممالک سے ہے جن میں شام، افغانستان، عراق، نائیجیریا، ایران، اریٹریا، صومالیہ اور پاکستان شامل ہیں۔

شرح کے اعتبار سے روزگار کے حصول میں کامیاب ہونے والے مہاجرین میں پاکستانی، ایرانی اور نائجیرین تارکین وطن سر فہرست رہے۔

ش ح / ع ا (ڈی پی اے، کے این اے)

DW.COM