جب یورپ میں قانونی رہائش کے لیے شادی بھی کام نہ آئے | مہاجرین کا بحران | DW | 27.06.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جب یورپ میں قانونی رہائش کے لیے شادی بھی کام نہ آئے

مہاجرین کے بحران کے دوران ہزارہا پاکستانی بھی مختلف یورپی ممالک پہنچے ہیں۔ ان پاکستانیوں نے مختلف وجوہات کی بنا پر اپنا وطن چھوڑا اور ہر ایک کی اپنی ہی ایک کہانی ہے، تاہم پردیس میں نئی زندگی کا آغاز بہت آسان نہیں ہوتا۔

آڈیو سنیے 02:58
Now live
02:58 منٹ

جب یورپ میں قانونی رہائش کے لیے شادی بھی کام نہ آئے

انہی کہانیوں میں سے ایک صوبہ پنجاب کے شہر نارووال کے پیدائشی افتخار احمد ناگرہ کی بھی ہے۔ افتخار پہلی مرتبہ 2009ء میں یونان آیا تھا، جہاں وہ تین سال تک مقیم رہا۔ 2012ء میں اس نے آپوستولیا (Apostolia) نامی ایک یونانی لڑکی کو پاکستان لے جا کر اس سے شادی کر لی تھی۔ افتخار کی یہ یونانی بیوی ایک سال سے زائد عرصے تک اس کے ہمراہ پاکستان ہی میں مقیم رہی تھی۔

سیاسی پناہ کا قانون صرف کاغذ پر ہی باقی بچے گا

یورپی کمیشن نے سیاسی پناہ کے نئے قوانین تجویز کر دیے

اس دوران افتخار نے یونانی سفارت خانے کو ویزے کے لیے درخواست بھی دے دی تھی۔ افتخار کا کہنا ہے اس نے ویزے کے حصول کے لیے تمام مطلوبہ دستاویزات جمع کرا دی تھیں لیکن اس کے باجود یونانی سفارت خانے نے اسے ویزا نہیں دیا تھا۔

Griechenland Sohn von Pakistanischem Flüchtling Ahmed Iftikhar

افتخار اب اپنے وکیل کی مدد سے یونان میں مقدمے کی پیروی کر رہا ہے اور اس کی خواہش ہے کہ اس کے بیٹے کو اس تک باپ کی اصل پہچان ملنی چاہیے۔

افتخار احمد ناگرہ نے ایک انٹرویو میں ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’ایمبیسی والے مجھے اندر نہیں جانے دیتے تھے۔ وہ صرف میری بیوی سے بات چیت کرتے تھے۔ اس سے پوچھتے تھے کہ اس کے ساتھ میرا اور میرے اہلِ خانہ کا سلوک کیسا ہے۔‘‘

افتخار اور آپوستولیا نے ویزے کے حصول کے لیے یونانی وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ سمیت کئی یونانی محکموں اور یورپی محتسب اعلیٰ سے بھی رابطے کیے لیکن اس پاکستانی شہری کی ویزے کی درخواست پر کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔

اس دوران افتخار کی بیوی، جو حاملہ تھی، اپنے بچے کی پیدائش کے لیے واپس یونان چلی گئی اور جنوری 2014ء میں ان کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا۔ افتخار کے بقول اس کی بیوی کی یونان واپسی کے قریب ایک سال بعد اسلام آباد میں یونانی سفارت خانے نے اس کی ویزے کی درخواست حتمی طور پر مسترد کر دی تھی۔

افتخار اور اس کی بیوی کے مابین اس عرصے کے دوران تو رابطہ تھا لیکن ویزا نہ ملنے کے بعد ان کے تعلق میں خلیج پیدا ہونا شروع ہو گئی۔ افتخار کے مطابق، ’’بیوی سے بات تو ہوتی تھی لیکن پہلے جیسی بات نہ رہی تھی۔ میرا خیال تھا کہ اگر میں کسی طرح اپنی بیوی اور بیٹے کے پاس پہنچ جاؤں تو تعلقات پھر پہلے جیسے ہو جائیں گے۔‘‘

اپنے دل میں یہی امید لیے افتخار نے ایک بار پھر غیر قانونی طور پر یونان کے سفر کا فیصلہ کیا اور وہ ایران کا ویزا حاصل کر کے اس سفر پر روانہ بھی ہو گیا۔ لیکن ایران سے ترکی جاتے ہوئے وہ زخمی ہو گیا تھا اور ایرانی حکام نے اسے گرفتار کر کے واپس پاکستان بھیج دیا تھا۔

پاکستان واپس آنے کے بعد اس نے ایک مرتبہ پھر کوشش کرنے کی ٹھانی۔ اس مرتبہ اس نے ایران کے ساتھ ساتھ ترکی کا بھی ویزا حاصل کیا۔ ترکی پہنچ کر اس نے وہاں موجود دوسرے ملکوں کے بہت سے دیگر تارکین وطن کی طرح بحیرہ ایجیئن کے خطرناک سمندری راستے کا ارادہ کیا۔ پھر یہ ارادہ عملی شکل اختیار کر گیا اور افتخار ایک یونانی جزیرے تک پہنچا ہی گیا۔

یونان میں سیاسی پناہ کی درخواست دینے کے بعد جب وہ اپنی بیوی اور بچے سے ملنے گیا تو وہاں صورت حال کچھ اور ہی تھی۔ افتخار کے بقول، ’’جب میں اپنی بیوی سے ملنے اس کے گھر گیا، تو اس نے مجھے دیکھتے ہی ہمارے بیٹے کو پکڑا اور ایک سڑک پر سرپٹ دوڑنے لگی۔ اس کی بہن نے میرا بازو پکڑ لیا اور ’پولیس، پولیس‘ چلانے لگی۔ شاید انہیں خطرہ تھا کہ میں اپنے بیٹے کو اغوا کر لوں گا۔‘‘

Deutschland Pakistanischer Flüchtling Ahmed Iftikhar

افتخار جرمنی میں بھی سیاسی پناہ کی درخواست دے چکا ہے، جس پر اب تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

اس وقت آپوستولیا اپنے ایک بوائے فرینڈ کے ساتھ رہ رہی تھی اور اس نے سرکاری دستاویزات میں بیٹے کی ولدیت کے خانے میں بھی افتخار کی جگہ اپنے نئے بوائے فرینڈ کا نام ہی درج کرا رکھا تھا۔

آپوستولیا کی منہ بولی ماں کی کوششوں سے افتخار کو اس کے بیٹے سے ملنے کی اجازت تو دے دی گئی لیکن جب وہ ایک کیفے میں اپنے بیٹے سے مل رہا تھا تو آپوستولیا نے وہاں پولیس بلا لی، جس نے افتخار کو حراست میں لے لیا۔

پولیس کی حراست میں اسے معلوم ہوا کہ 2013ء میں اس کی عدم موجودگی میں ایک یونانی عدالت نے اسے تین سال کی سزا سنا رکھی ہے۔ افتخار کا کہنا ہے، ’’یونانی پولیس مجھ پر دباؤ ڈالتی رہی کہ میں جلد از جلد یونان سے نکل جاؤں، بصورت دیگر مجھے تین سال کے لیے جیل بھیج دیا جائے گا۔‘‘ پھر اسی رات پولیس نے اسے رہا کر دیا۔

رہائی کے بعد افتخار نے ایک وکیل کی خدمات حاصل کر کے ایک یونانی عدالت میں اپنے بیٹے کی پرورش کرنے کے حق سے متعلق مقدمہ دائر کر دیا، جس کا ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا۔ تاہم اس دوران یہ پاکستانی شہری یونانی حکام کی طرف سے ملک بدر کیے جانے کے خوف سے جرمنی پہنچ چکا ہے۔ جرمنی پہنچنے کے لیے اس کی مدد مہاجرین اور تارکین وطن کے اس بہت بڑے ریلے نے کی، جس میں شامل ہزارہا افراد زمینی راستے سے گزشتہ برس جرمنی پہنچے تھے۔

افتخار اب اپنے وکیل کی مدد سے یونان میں مقدمے کی پیروی کر رہا ہے اور اس کی خواہش ہے کہ اس کے بیٹے کو اس تک باپ کی اصل پہچان ملنی چاہیے۔ افتخار احمد ناگرہ جرمنی میں بھی سیاسی پناہ کی درخواست دے چکا ہے، جس پر اب تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

ہمیں واپس آنے دو! پاکستانی تارکین وطن

علی حیدر کو جرمنی سے ڈی پورٹ کیوں کیا گیا؟

ویڈیو دیکھیے 03:23
Now live
03:23 منٹ

مہاجر خاندان افغان، مسئلہ مشرقی، مسئلہ مغرب میں

DW.COM

Audios and videos on the topic