جبری گمشدگیاں: ’پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کنوینشن کی توثیق کے خلاف‘ | حالات حاضرہ | DW | 28.12.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

جبری گمشدگیاں: ’پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کنوینشن کی توثیق کے خلاف‘

پاکستان کے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق (این سی ایچ آر) نے مطالبہ کیا ہے کہ ملکی حکومت جبری طور پر لاپتہ ہو جانے والے افراد سے متعلق بین الاقوامی کنوینشن پر نہ صرف جلد از جلد دستخط کرے بلکہ اس کی باقاعدہ توثیق بھی کرے۔

کمیشن نے جمعرات کے روز اس ڈرافٹ میں ترامیم کی تجویز بھی پیش کی ہے، جس کے ذریعے حکومت شہریوں کو جبری گمشدگی سے بچانے کے لئے قانون سازی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ سندھ سے کمیشن کی رکن انیس ہارون نے اس ڈرافٹ میں خامیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’یہ ڈرافٹ کسی حکومتی ادارے کی طرف سے گزشتہ حکومت کے دور میں آیا تھا، جس پر اب موجودہ حکومت کام کر رہی ہے۔ ایک مہینہ پہلے سینیٹ کی انسانی حقوق کی کمیٹی نے متعلقہ اداروں کو کہا تھا کہ اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت کر کے ڈرافٹ کو دوبارہ جمع کرایا جائے۔اس ڈرافٹ میں جو افراد لوگوں کو اٹھاتے ہیں، ان کے حوالے سے ذمہ داری کے تعین کی کوئی بات ہی نہیں ہے اور نہ ان کے لئے سزا تجویز کی گئی ہے۔ ہمارا کہنا ہے کہ بغیر ذمہ داری اور سزا کے جبری گمشدگی کے مسئلے کو حل نہیں کیا جا سکتا۔ ہم نے اس حوالے سے تجاویز سینیٹ کمیٹی کو جمع کرا دی ہیں لیکن میرے خیال میں اس پر مزید لوگوں سے مشورے کیے جا رہے ہیں۔‘‘


واضح رہے کہ پاکستان نے انسانی حقوق کے حوالے سے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن اور ٹارچر کے حوالے سے کنوینشنز سمیت کئی دیگر کنوینشنز پر دستخط کیے ہیں لیکن جبری گمشدگی کے معاملے کو حکومتیں کئی برسوں سے ٹال رہی ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ جبری گمشدگی کا معاملہ پاکستان میں سنگین ہوتا جا رہا ہے لیکن پھر بھی حکومت اس اہم کنوینشن پر دستخط نہیں کر رہی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ ’اسٹیبلشمنٹ‘ اس میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن سے تعلق رکھنے والے اسد بٹ کا کہنا ہے، ’’ہمارے ادارے خود ہی جبری طور پر افراد کو گمشدہ کر رہے ہیں تو وہ کیوں دستخط ہونے دیں گے۔ ملک میں چار ہزار سے زائد افراد جبری طور پر گمشدہ کر دیے گئے ہیں، جن میں بلوچ، سندھی، مہاجر اور پختون سیاسی کارکنان کے علاوہ دوسرے لوگ بھی شامل ہیں۔ یہ ایک محتاط اندازہ ہے کیونکہ بلوچ تنظیمیں کہتی ہیں کہ ان کے بارہ ہزار سے زائد افراد غائب کیے گئے ہیں۔ ہماری ایجنسیاں خود اس طرح کی کارراوئیوں میں ملوث ہیں۔ اس لئے وہ حکومت کو دستخط نہیں کرنے دیں گے۔ لیکن بحیثیت انسانی حقوق کی تنظیم کے ایک رکن کے میں یہ کہوں گا کہ ہمیں فوری طور پر اس پر دستخط کرنے چاہیں اور اس میں ملوث افراد کو سخت سزا دینی چاہیے ورنہ ملک انارکی اور لاقانیت کی آماجگاہ بن جائے گا۔‘‘


سینیٹ کی کمیٹی برائے انسانی حقوق کے رکن سینیٹر عثمان کاکڑ نے اس مسئلے پر اپنا موقف دیتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’حکومت اس پر دستخط نہیں کر سکتی کیونکہ یہ مسئلہ اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں میں ہے، یہ حکومت بے بس ہے۔ آپ اس کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ وزیرِ اعظم نے اختر مینگل کو کہا کہ وہ ان کی آرمی چیف سے ملاقات کرا سکتے ہیں تاکہ جبری گمشدگی کے معاملے پر بات چیت ہو سکے۔ تو اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ اختیار کس کے پاس ہے؟‘‘
ماہرین کا خیال ہے کہ اگر پاکستان اس کنوینشن پر دستخط کر دیتا ہے اور اس کی توثیق بھی کر دیتا ہے تو پھر اس کو اس کی پاسداری بھی کرنا پڑے گی اور نہ کرنے کی صورت میں پاکستان کے خلاف پابندیاں بھی لگ سکتی ہیں اور وہ بین الاقوامی برادری میں تنہائی کا شکار بھی ہو سکتے ہیں۔ اسی لئے ملک میں کئی حلقے دعویٰ کرتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کوئی ایسا کام کرنا نہیں چاہتی، جس سے اسلام آباد کو پابندیوں کا سامنے کرنا پڑے یا اسے بین الاقوامی برادری میں تنہائی کا سامنا کرنا پڑے۔ تاہم عسکری حلقوں کا دفاع کرنے والے جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب اس بات کو بے بنیاد قرار دیتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ اس مسئلے پر کوئی مداخلت کر رہی ہے، ’’میرے خیال میں اگر حکومت دستخط کرنا چاہتی ہے تو وہ اس مسئلے کو پارلیمنٹ میں لے جائے اور اس پر دستخط کر دے لیکن ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ انسانی حقوق کے پیمانے ایک جیسے نہیں اور طاقتور ممالک اسے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ جب سعودی صحافی کا قتل ہوا تو امریکا نے انسانی حقوق کے سارے اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کہا کہ وہ نہ ریاض سے تعلقات خراب کرے گا اور نہ ہتھیاروں کے سودے منسوخ کرے گا۔ اس کے علاوہ واشنگٹن یمن میں ہونے والی بمباری اور عوام کی فاقہ کشی پر بھی خاموش ہے، جو ایک بڑا انسانی حقوق کا مسئلہ ہے۔ خود امریکا نے عراق اور افغانستان میں انسانی حقوق کی کیا خدمت کی، وہ سب کو معلوم ہے۔ تو ہمیں اپنے مفادات کو پیشِ نظر رکھ کر اس مسئلے پر بات چیت کرنی چاہیے۔‘‘