ترکی اور پاکستان کو ایک جیسے حالات کا سامنا ہے، ایردوآن | حالات حاضرہ | DW | 24.01.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ترکی اور پاکستان کو ایک جیسے حالات کا سامنا ہے، ایردوآن

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے پاکستانی بحریہ کے لیے تیسرے جنگی بحری جہاز کی تیاری کا افتتاح کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے مابین دفاعی تعاون کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔

ترکی اور پاکستان کے مابین میلگم کلاس کے چار جنگی بحری جہازوں کی تعمیر کی جا رہی ہے۔ صدر ایردوآن نے ہفتے کے روز استنبول میں پاکستانی بحریہ کے لیے بنائی جانے والی تیسری جنگی کشتی کی تیاری کا افتتاح کیا۔ اس تقریب میں ترکی میں تعینات پاکستانی سفیر بھی شریک تھے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوآن نے دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ پاکستان اور ترکی کو مشکل جغرافیائی اور ایک جیسے حالات کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ’امن‘ بحری مشقوں میں پینتالیس ممالک کی شمولیت

صدر ایردوآن نے دہشت گردی اور دیگر خطرات سے نمٹنے کے لیے دفاعی طور پر خود کفیل ہونے کو کلیدی قرار دیا۔ گزشتہ برس دورہ پاکستان کے دوران باہمی تعاون سے متعلق معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے صدر ایردوآن نے مزید کہا کہ اس سے پاکستان اور ترکی کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔

میلگم کلاس جنگی بحری جہاز بنیادی طور پر ترک بحریہ کے لیے تیار کیے گئے تھے۔ اب تک ایسی چار آبدوز شکن جنگی کشتیاں تیار کی جا چکی ہیں۔

پاکستانی بحریہ کے لیے لیے تحریف شدہ ڈیزائن سے بنائی جانے والی کشتیوں کو 'جناح کلاس‘ کا نام دیا گیا ہے۔ ان جنگی بحری جہازوں پر زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل اور دیگر ہتھیار بھی نصب کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان کو خطرہ نہیں، امریکا بھارت کو جدید ڈرون دے گا

پاکستانی بحریہ کے محکمہ تعلقات عامہ نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں لکھا کہ ٹیکنالوجی کی منتقلی یقینی بنانے کے لیے دو جنگی کشتیاں ترکی میں جب کہ دو پاکستان میں تیار کی جا رہی ہیں۔

پاکستانی بحریہ کے مطابق ان جدید جنگی بحری جہازوں کے حصول سے خطے میں امن اور طاقت کا توازن برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔