تحفظ ماحول کی کوششیں، لندن کانفرنس | سائنس اور ماحول | DW | 27.03.2012
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

تحفظ ماحول کی کوششیں، لندن کانفرنس

رواں ہفتے پیر سے برطانوی دارالحکومت لندن میں ایک چار روزہ ماحولیاتی کانفرنس منعقد ہو رہی ہے، جس میں دُنیا بھر سے گئے ہوئے کوئی تین ہزار ماہرین اور محققین شرکت کر رہے ہیں۔ یہ کانفرنس جمعرات تک جاری رہے گی۔

default

اگرچہ سائنسدانوں کے تخمینوں میں کچھ فرق بھی موجود ہے تاہم زیادہ امکان اسی بات کا ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر سبز مکانی اثر کا باعث بننے والی کاربن گیسوں کے اخراج کو روکنے کے لیے کوئی اقدامات نہ کیے گئے تو سن 2100ء تک زمینی درجہء حرارت میں چھ ڈگری سینٹی گریڈ تک کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کانفرنس میں شریک سائنسدانوں نے زمینی درجہء حرارت میں مسلسل اضافے سے خبردار کرتے ہوئے تحفظ ماحول کی کوششیں تیز تر کرنے پر زور دیا ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق دُنیا اُس خطرناک موڑ کے بہت قریب پہنچ چکی ہے، جس کے بعد زمینی درجہء حرارت کو پھر سے کم کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ قطب شمالی اور قطب جنوبی پر جمی برف، جو زمین کو ٹھنڈا رکھنے کا کام دیتی ہے، پگھل جائے گی اور مسلسل خشک سالی کے باعث اُستوائی خطوں کے جنگلات تباہ ہو جائیں گے۔ ایسے میں محققین نے زمینی درجہء حرارت میں اضافے کو روکنے کے سلسلے میں رواں عشرے کو انتہائی اہم قرار دیا ہے۔

اس معاملے کی تمام تر نزاکت کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ ایک ایسا نیا سمجھوتہ، جس میں دنیا کے سب سے زیادہ آلودگی کا باعث بننے والے ملکوں امریکا اور چین کو بھی اقدامات کرنے کا پابند کیا گیا ہو، کہیں 2015ء ہی میں طے ہوتا نظر آ رہا ہے اور یہ سمجھوتہ کہیں 2020ء ہی میں نافذ العمل ہو سکے گا۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ماحول کے لیے کوششوں کے حوالے سے یہ عشرہ انتہائی زیادہ اہمیت کا حامل ہے

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ماحول کے لیے کوششوں کے حوالے سے یہ عشرہ انتہائی زیادہ اہمیت کا حامل ہے

Planet under Pressure کے نام سے منعقدہ اس کانفرنس کے شرکاء نے کہا کہ پالیسیوں کو ماحول دوست بنانے کے لیے وقت ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ کرہ ارض کے پائیدار اور مستحکم مستقبل کے لیے ضروری ہے کہ سن 2050ء تک دُنیا بھر میں توانائی کی ساٹھ تا اَسی فیصد ضرورتیں ایسے ذرائع سے پوری کی جائیں، جو کم کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتے ہوں۔ آج کل توانائی کی اَسی فیصد ضروریات بڑی مقدار میں کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرنے والے معدنی ذرائع سے پوری کی جاتی ہیں۔

سائنسدانوں کے مطابق سائبیریا کی یخ بستہ زمین کی تہوں میں اندازاً سولہ سو ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ منجمد شکل میں موجود ہے۔ زمینی درجہء حرارت میں اضافے کی صورت میں یہ گیس بھی بتدریج فضا میں شامل ہونے لگے گی۔ حالات بالکل ہی قابو سے باہر ہونے کی صورت میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کا یہ اخراج سن 2040ء تک سالانہ تیس تا تریسٹھ ارب ٹن تک جا پہنچے گا جبکہ سن 2100ء میں یہ اضافہ بڑھ کر 232 تا 380 ارب ٹن ہو جائے گا۔ یہ اضافہ کتنا زیادہ ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آج کل معدنی ایندھن سے سالانہ تقریباً دَس ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہوتی ہے۔

عام طور پر جنگلات کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرنے اور فضا کو صاف کرنے کا کام انجام دیتے ہیں تاہم جنگلات کی تباہی اور دیگر عوامل کے باعث فضا میں اس ضرر رساں گیس کے اخراج کی مقدار بڑھتی جا رہی ہے۔ سمندر بھی اس گیس کو جذب کرتے ہیں اور فضا میں اس گیس کی مقدار بڑھنے سے سمندری پانی میں بھی تیزابیت بڑھتی جا رہی ہے۔

رپورٹ: امجد علی / خبر رساں ادارے

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM