تبلیغ کی آڑ میں داعش کے لیے کام کرنے والی خواتین کی تلاش | حالات حاضرہ | DW | 04.01.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

تبلیغ کی آڑ میں داعش کے لیے کام کرنے والی خواتین کی تلاش

کراچی میں القاعدہ چھوڑ کر داعش کے لئے کام کرنے والے داعش کے مبینہ سربراہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ پولیس خواتین کے ایک ایسے گروہ کی تلاش میں بھی ہے، جو تبلیغ کی آڑ میں داعش کے لئے فنڈ ریزنگ میں مصروف ہے۔

پاکستانی سکیورٹی ذرائع کے مطابق داعش کے لیے کام کرنے والے مبینہ عسکریت پسند عمر کاٹھیو عرف جلال گزشتہ برس مئی میں صفورا چوک کے قریب چھیالیس افراد کے قتل کی واردات کا بنیادی سہولت کار ہے اور اس نے دہشت گردوں کو واردات کے لئے گاڑیاں، رقم اور رہائش فراہم کی تھی۔

DW.COM

ذرائع کے مطابق گزشتہ ماہ گرفتار ہونے والے نجی کالج کے چیف آپریٹنگ افسر عادل بٹ نے بھی دوران تفتیشن عمر کاٹھیو کا نام لیا تھا مگر وہ اس مبینہ ملزم کو جلال کے نام سے جانتے ہیں، جو ہر ماہ این ای ڈی یونیورسٹی کی پارکنگ میں ان سے چندے کی رقم لینے آتا تھا۔

جلال کا تعلق القاعدہ کے ڈاکٹر اکمل وحید اور ارشد وحید گروپ سے بھی ہے۔ اطلاعات کے مطابق جلال نے سن دو ہزار گیارہ میں کراچی میں اپنا سیٹ آپ قائم کیا اور سانحہ صفورا کے مرکزی ملزم طاہر منہاس کو گروہ کا سرغنہ مقرر کیا۔ گروہ نے دو ہزار بارہ سے دہشت گردی کی وارداتوں کا آغاز کیا۔

وارداتوں کے لئے عمر عرف جلال کراچی میں تنظیم اسلامی سے الگ ہونے والے تاجر اور دیگر شعبوں سے وابسطہ افراد سے پیسے لیا کرتا تھا جبکہ افغانستان سے اسے حاجی نامی شخص پیسے بھیجا کرتا تھا۔ پولیس عسکریت پسندوں کو فنڈنگ میں مدد فراہم کرنے کے الزام میں کیمیکل کے تاجر شیبہ احمد، پی آئی اے کے سابق چیف انجینئر یوسف خالد بار اور نجی کالج کے سی ای او عادل بٹ سمیت سات افراد کو گرفتار کر چکی ہے۔

کاونٹر ٹیریرزم ڈیپارٹمنٹ سندھ کے سینئر افسر راجہ عمر خطاب نے ڈوچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ فی الحال تو کراچی میں داعش کی موجودگی یا اس کے کسی کاالعدم تنظیم سے براہ راست روابط نہیں ملے مگر گزشتہ برس گرفتار یوسف خالد باری نے دوران تفتیش خوفناک انکشافات کیے تھے اور اس کے تین ماہ بعد گرفتار ہونے والے عادل بٹ نے اس کے تمام انکشافات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کراچی میں خواتین کا ایک انتہائی مضبوط نیٹ ورک موجود ہے، جو تبلیغ کے نام پر داعش سے متاثرہ دہشت گردوں کے لئے چندہ، زکوة، فطرات اور خیرات جمع کرتی ہیں۔

اس نیٹ ورک میں بیس سے زائد خواتین شامل ہیں اور گروہ کی سربراہ یوسف خالد باری کی اہلیہ ہے، جس نے نیٹ ورک کو الذکرہ اکیڈمی کا نام دیا ہے مگر اس اکیڈمی کا کوئی آفس نہیں ہے۔ گروہ میں شامل تمام خواتین تعلیم یافتہ اور کھاتے پیتے گھرانوں سے تعلق رکھتی ہیں، فنڈ ریزنگ کے علاوہ عسکریت پسندوں کی اچھے گھرانوں میں شادیاں کرانا اور زخمی شدت پسندوں کے علاج معالجے کی ذمہ داری خواتین کا یہی گروہ سرانجام دیتا ہے۔ اور اس گروہ میں سانحہ صفورا کے ملزم سعد عزیز کی اہلیہ اور ساس بھی شامل ہیں۔

Pakistan Polizei

صوبائی پولیس نے جہادی تنظیم ’داعش‘ کے حامی بیالیس افراد کو حراست میں لے لیا ہے

ذرائع کے مطابق پاکستان خصوصاﹰ کراچی میں موجود انتہاپسند تنظیموں کے کارکن یا ان سے ہمدردی رکھنے والے افراد داعش کی طرف راغب ہیں۔ کاالعدم تنظیموں کے افراد بھی داعش کے لئے افرادی قوت جمع کرنے میں مبینہ طور پر سرگرم ہیں۔ گزشتہ ہفتے بھی اورنگی ٹاؤن سے جند اللہ نامی تنظیم کا ایک شدت پسند عزیز اللہ گرفتار کیا گیا تھا۔

دوسری جانب پاکستانی صوبے پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ کے مطابق صوبائی پولیس نے جہادی تنظیم ’داعش‘ کے حامی بیالیس افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ وزیر کے مطابق یہ گرفتاریاں گزشتہ ویک اینڈ پر مارے گئے مختلف جھاپوں کے دوران کی گئی ہیں۔ مجموعی طور پر گرفتار ہونے والوں میں اسلام آباد کے لیے ’داعش‘ کے مبینہ امیر عامر منصور، اُس کا نائب امیر عبداللہ منصوری اور صوبہ سندھ کا سربراہ عمر کاٹھیو بھی شامل ہے۔ ثنا اللہ کے مطابق چھاپوں میں ’اسلامک اسٹیٹ‘ کا لٹریچر اور ہتھیار بھی برآمد کیے گئے ہیں۔