تارکین وطن کے پس منظر والے: یہ اصطلاح استعمال نا کی جائے | حالات حاضرہ | DW | 24.01.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

تارکین وطن کے پس منظر والے: یہ اصطلاح استعمال نا کی جائے

جرمنی میں ’تارکین وطن کے پس منظر والے افراد‘ کی اصطلاح غیر ملکیوں اور مقامی باشندوں دونوں میں مروج ہے اور گزشتہ پندرہ برسوں سے خاص طور پر استعمال میں ہے۔

جرمن معاشرے میں ہر درجے پر 'مہاجرت یا ترک وطن کے پس منظر والے افراد‘ کی اصطلاح ایسے لوگوں کے لیے مختص ہے جو جرمنی میں پیدا نہ ہوئے ہوں لیکن جنہوں نے جرمن شہریت حاصل کر رکھی ہو۔

ایسے افراد کی مجموعی تعداد جرمنی کی کل آبادی کا قریب ایک چوتھائی بنتی ہے۔ یہ لسانی ترکیب ایسے انسانوں کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے جن کے والدین بھی جرمنی شہریوں کے طور پر پیدا نہ ہوئے ہوں۔

یہ بھی پڑھیے:سیاسی پناہ نہ ملی: افغان باشندوں کا ایک اور گروپ جرمنی بدر

حکومتی سطح پر بحث

اس مروجہ اصطلاح کے حوالے سے پائی جانے والی کسی حد تک ناپسندیدہ صورتِ حال پر حکومتی سطح پر بھی غور و فکر جاری ہے۔ برلن میں وفاقی حکومت میں یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ مہاجرین اور تارکین وطن کی حیثیت کو کیسے بہتر بنایا جا سکتا ہے؟

اس مقصد کے لیے چانسلر انگیلا میرکل نے ایک چوبیس رکنی کمیشن تشکیل دیا تھا کہ وہ اس تناظر میں اپنی رائے دے۔ اس کمیشن میں سیاستدانوں اور ماہرین تعلیم کو بھی شامل کیا گیا تھا۔ اس کمیشن نے اب اپنی رپورٹ مرتب کر کے چانسلر کو پیش کر دی ہے۔

میرکل حکومت کے قائم کردہ چوبیس رکنی کمیشن کی سربراہ برلن سے دیریا چالار کو مقرر کیا گیا تھا

میرکل حکومت کے قائم کردہ چوبیس رکنی کمیشن کی سربراہ برلن سے دیریا چالار کو مقرر کیا گیا تھا

صرف جرمن

کمیشن نے سفارش کی ہے کہ ایسی اصطلاحات جن میں 'مہاجرت کا پس منظر‘ وغیرہ کے الفاظ شامل ہوں، ان کا استعمال ترک کر دینا اہم ہے۔ اس کمیشن کی خاتون چیئرپرسن دیریا چالار ہیں۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عوامی سطح پر 'نئے آ کر آباد ہونے والے اور ان کے اہلِ خانہ‘ یعنی immigrants and their descendants کا استعمال کیا جانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے:شامی مہاجر نے جرمن خاتون پولیس اہلکار کو افغان مہاجر کے ہاتھوں ریپ ہونے سے بچا لیا

چالار نے اپنی مثال دیتے ہوئے واضح کیا کہ وہ خود مہاجر نہیں ہیں بلکہ ایک مہاجر آباد کار کی بیٹی ہیں۔ دیریا چالار کا تعلق سوشل ڈیموکریٹ پارٹی (ایس پی ڈی) سے ہے اور وہ برلن کی شہری ریاست کی اسمبلی کی رکن ہیں۔

ان کے والدین ترکی سے ترک وطن کر کے جرمنی میں آباد ہوئے تھے۔ چالار کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کے بچے یقینی طور پر مہاجرت کا پس منظر رکھتے ہیں لیکن وہ صرف جرمن ہیں۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے کمیشن کی رپورٹ کو مفید قرار دیا ہے

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے کمیشن کی رپورٹ کو مفید قرار دیا ہے

اصطلاح میں تبدیلی اہم ہے

جرمن حکومت کی کمشنر برائے سماجی انضمام آنیٹے وڈمان ماؤٹس نے بھی نئی مجوزہ اصطلاح کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے بھی' مائیگریشن بیک گراؤنڈ‘ کے حوالے سے کہا کہ اس میں بے شمار گروپوں کو شمار کیا جاتا ہے اور اس سے اس کے اصل معانی ضائع ہو جاتے ہیں۔ کمشنر برائے سماجی انضمام کا تعلق چانسلر میرکل کی سیاسی جماعت کرسچین ڈیموکریٹک یونین (سی ڈی یو) سے ہے۔

وڈمان ماؤٹس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اکیس ملین افراد میں سے بیشتر پر مائیگریشن بیک گراؤنڈ کی اصطلاح مناسب نہیں لگتی کیونکہ ان میں سے ایک تہائی کی پیدائش تو جرمنی میں ہی ہوئی ہے اور اس اصطلاح کے استعمال سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ جیسے وہ سو فیصد جرمن معاشرے کا حصہ نہ ہوں۔

جرمن سیاسی جماعت آلٹرنیٹو فار ڈوئچ لینڈ مہاجرین کی آمد اور ان کے انضمام کی شدید مخالف ہے

جرمن سیاسی جماعت آلٹرنیٹو فار ڈوئچ لینڈ مہاجرین کی آمد اور ان کے انضمام کی شدید مخالف ہے

رپورٹ کے مندرجات

کمیشن کی یہ رپورٹ دو سو چالیس صفحات پر مشتمل ہے اور اس میں چودہ اہم معاملات پر توجہ دی گئی ہے۔ ان میں نسلی تعصب کا انسداد، نفرت پر مبنی جرائم کا خاتمہ، مساوی تعلیم کے امکانات اور صحت کی سہولیات تک رسائی وغیرہ شامل تھے۔ یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ تارکین وطن اور مہاجرین کا انضمام ایک ایسا سماجی عمل ہے، جو پورے جرمن معاشرے پر اثرات مرتب کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:سیاحتی ویزے پر یورپ آ کر پناہ کی درخواست دیں تو کیا ہوتا ہے؟

دیریا چالار نے اس رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ اس معاملے میں تحمل اور برداشت کے ساتھ ساتھ ایک طویل المدتی حکمت عملی بھی درکار ہے۔ چانسلر انگیلا میرکل نے اس رپورٹ کے مرتبین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ دستاویز ملکی سیاستدانوں کی سوچ کے لیے بھی بہت مفید ہو گی۔

پیٹر ہِلے (ع ح / م م)