1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

سیاسی پناہ نہ ملی: افغان باشندوں کا ایک اور گروپ جرمنی بدر

12 مارچ 2020

سیاسی پناہ کی درخواستیں مسترد ہو جانے کے بعد مزید 39 افغان شہریوں کو جمعرات کی صبح کابل پہنچا دیا گیا۔ افغان وزارت مہاجرت نے ان افراد کے واپس وطن پہنچنے کی تصدیق کر دی ہے۔

https://p.dw.com/p/3ZHQb
Abschiebeflug nach Afghanistan
تصویر: picture-alliance/dpa/M. Kappeler

بتایا گیا ہے کہ ان تارکین وطن کو لیے ایک خصوصی طیارہ مقامی وقت کے مطابق 12 مارچ کو صبح سات بج کر پچیس منٹ پر کابل میں اترا۔ دسمبر 2016 کے بعد سے جرمنی سے افغانستان واپس بھیجا جانے والا یہ 33واں گروپ تھا۔  بتایا گیا ہے کہ اب تک مجموعی طور پر سیاسی پناہ کے 907 ناکام افغان درخواست گزاروں کو واپس افغانستان بھیجا جا چکا ہے۔

افغان تارکین وطن کی ملک بدری جرمنی میں ایک نہایت متنازعہ معاملہ ہے، جس پر ناقدین کا کہنا ہے کہ سیاسی پناہ کے درخواست گزاروں کو افغانستان واپس بھیجنا ان کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ ناقدین کی رائے کے مطابق افغانستان میں سکیورٹی کی صورت حال بدستور دگرگوں ہے اور ایسے حالات میں افغان تارکین وطن کو جرمنی بدر نہیں کیا جانا چاہیے۔

München Proteste gegen Abschiebungen nach Afghanistan am Flughafen
تصویر: picture-alliance/Zuma/S. Babbar

افغانستان میں طالبان اور دیگر عسکری گروہوں کی جانب سے حملوں کے واقعات تو تواتر سے پیش آتے ہی رہتے ہیں، تاہم حالیہ صدارتی انتخابات کے نتائج پر اختلافات اور وہاں اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے درمیان عداوت ایک نئے سیاسی بحران میں تبدیل ہو چکی ہے۔ صدارتی انتخابات میں صدر اشرف غنی کو کامیاب قرار دیا گیا تھا، تاہم ان کے حریف اور افغانستان کے سابق چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ نے یہ نتائج تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے اپنی فتح کا اعلان کر دیا تھا اور انہوں نے ایک علیحدہ تقریب میں ملکی صدر کے عہدے کا حلف بھی اٹھا لیا تھا۔

پیر کے روز جب دو مختلف مقامات پر اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ صدارتی حلف اٹھا رہے تھے، کابل کے صدارتی محل کے قریب چار راکٹ بھی گرے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش یا 'اسلامک اسٹیٹ‘ نے قبول کر لی ہے۔

رواں ہفتے طالبان کی جانب سے بھی افغانستان کے مختلف مقامات پر حملے دیکھنے میں آئے۔ واضح رہے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے بعد افغانستان سے امریکی فوج کا انخلا جاری ہے، تاہم افغانستان میں سیاسی بےیقینی نے ملک کے مختلف گروہوں کے درمیان کسی ممکنہ امن معاہدے سے متعلق کئی طرح کے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

ع ت / م م (روئٹرز، ڈی پی اے)