1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
Indien | Uddhav Thackeray
تصویر: AFP/Getty Images

بی جے پی اور شیوسینا ایک دوسرے کے سیاسی حریف کیسے بن گئے؟

صلاح الدین زین ڈی ڈبلیو، نئی دہلی
22 جون 2022

ریاست مہا راشٹر میں تازہ سیاسی بحران کے پیش نظر حکمراں جماعت نے ریاستی اسمبلی تحلیل کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ ادھر ریاستی وزیر اعلی اور اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔

https://www.dw.com/ur/%D8%A8%DB%8C-%D8%AC%DB%92-%D9%BE%DB%8C-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B4%DB%8C%D9%88-%D8%B3%DB%8C%D9%86%D8%A7-%DA%A9%DB%92-%D9%85%D8%A7%D8%A8%DB%8C%D9%86-%DA%A9%D8%B4%DB%8C%D8%AF%DA%AF%DB%8C-%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%B3%D8%AA-%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%B1%D8%A7%D8%B4%D9%B9%D8%B1-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%B3%DB%8C-%D8%A8%D8%AD%D8%B1%D8%A7%D9%86/a-62220367

بھارتی ریاست مہا راشٹر کی مخلوط حکومت میں شامل اہم سیاسی جماعت شیوسینا کے ایک رہنما اکناتھ شندے کی بغاوت کے سبب حکومت اکثریت سے محروم ہوتی دکھ رہی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ تقریبا ڈھائی برس پرانی ادھو ٹھاکرے کی حکومت شدید سیاسی بحران کا شکار ہو گئی ہے۔

ادھو ٹھاکرے کے بہت ہی قریبی خیال کیے جانے والے رہنما اک ناتھ شندے گزشتہ روز پارٹی کے کچھ ارکان اسمبلی کے ساتھ اچانک لا پتہ ہو گئے تھے۔ بعد میں وہ اپنے حامیوں کے ساتھ ریاست گجرات کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں پائے گئے۔ تاہم بدھ 22 جون کو وہ اپنے حامیوں اور ساتھیوں کے ساتھ گجرات سے ریاست آسام پہنچے، جہاں بی جے پی کے رہنماؤں نے ان کا ایئر پورٹ پر شاندار استقبال کیا۔

شندے کا دعوی ہے کہ ان کے پاس شیوسینا کے ارکان اسمبلی کی اتنی تعداد ہے کہ وہ بی جے پی کے ساتھ مل کر ریاست میں ایک نئی حکومت بنا سکتے ہیں۔ بال ٹھاکرے کے صاحبزادے اور ریاستی وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے نے ان سے بات بھی کی، تاہم ان کی واپسی کا امکان بہت کم دکھائی دے رہا ہے۔ اس دوران بعض ارکان اسمبلی ادھو ٹھاکرے کے پاس واپس بھی آئے ہیں۔   

اس سیاسی بحران پر شیوسینا کے ایک سرکردہ رہنما سنجے راؤت نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادھو ٹھاکرے کی حکومت ریاستی اسمبلی کو تحلیل کرنے کی سفارش کر سکتی ہے۔ تاہم اسمبلی تحلیل کرنے کی سفارش تسلیم کرنے کا اختیار گورنر کے پاس ہے اور ریاست کے گورنر بی جے پی کے ایک سرکردہ رہنما ہونے کے ساتھ ہی ماضی میں بی جے پی کے ایک وزیر اعلی بھی رہ چکے ہیں۔

سیاسی گہماگہمی جاری

ادھر شیوسینا کے سربراہ اور ریاست کے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے اپنی اتحادی جماعت کانگریس اور نیشنلسٹ کانگریس کے رہنما شرد پوار سے سیاسی بحران کے حوالے سے صلاح و مشورہ کر رہے ہیں۔ ان دونوں جماعتوں نے حکومت کے ساتھ متحدہ رہنے کی یقین دہانی کرائی ہے اور کہا ہے کہ ان کے تمام ارکان پارٹی کے ساتھ ہیں۔

Indien Politiker Sharad Pawar
تصویر: AFP/Getty Images

وزیر اعلی نے اپنی کابینہ کا اجلاس بھی طلب کیا ہے، جس میں اسی مسئلے پر بھی تبادلہ خیال ہو گا۔ ادھو ٹھاکرے کو کووڈ ہو گیا ہے اور اس لیے وہ اس میں آں لائن شریک ہوں گے۔ اس دوران کئی سیاسی رہنماؤں نے بی جے پی پر طاقت اور دولت کے سہارے ریاستی حکومت کو گرانے کی کوشش کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

ادھر بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھی ریاست میں اپنی نئی حکومت کے قیام کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں۔ ریاست کے سابق وزير اعلی دیوندر فڈنویس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے دیگر سرکردہ رہنماؤں کی بھی میٹنگیں جاری ہیں۔ گزشتہ شام کو بی جے پی کے ایک رہنما نے کہا تھا کہ پارٹی نئی حکومت کے قیام کے لیے تمام امکانات پر غور کر رہی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اس حکومت کے بچنے یا نئی حکومت کے قیام کا معاملہ اب گورنر کے فیصلے پر منحصر ہے۔ تاہم اس بات پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ آخر شیوسینا کے باغی رہنما کو کتنے ارکان اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔

بی جے پی اور شیوسینا ایک دوسرے سے جدا کیسے ہوئے؟

ریاست مہا راشٹر کی علاقائی جماعت شیوسینا ایک سخت گیر دائیں بازو کی ہندو نظریات کی حامل جماعت ہے اور اس طرح سخت گیر ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی سے اس کا اتحاد فطری ہے۔ دونوں نے مل کر کئی سیاسی معرکے بھی جیتے ہیں، تاہم 2019 کے ریاستی اسمبلی کے انتخابات کے بعد سے دونوں ایک دوسرے کے سیاسی حریف ہیں۔

ان انتخابات میں دونوں نے حسب معمول متحدہ ہوکر انتخابات لڑے تھے، جس میں بی جے پی کو 105 سیٹیں ملیں جبکہ شیو سینا کو 58 نشستیں حاصل ہوئی تھیں۔ تاہم، شیوسینا نے وزارت عظمی کے عہدے کی خواہش ظاہر کی تھی اور اس طرح دونوں میں شدید اختلافات پیدا ہو گئے۔

کافی دنوں تک سیاسی تعطل جاری رہا ہے اور پھر بی جے پی نے بعض علاقائی رہنماؤں کی حمایت سے حکومت بھی تشکیل دی، تاہم یہ حکومت چند روز ہی چل پائی۔ اس کے بعد شیو سینا نے کانگریس پارٹی اور علاقائی جماعت نیشنلسٹ کانگریس سے اتحاد کر کے ایک نئی مخلوط حکومت بنائی جو گزشتہ تقریبا ڈھائی برس سے اقتدار میں ہے۔

اس دوران بی جے پی کی مسلسل یہ کوشش جاری تھی کہ وہ کسی طرح ریاست میں پھر سے اپنی حکومت بنا لے اور اس کے نتیجے میں اس نے بالآخر شیوسینا کے بعض ہم خیال رہنماؤں کو اپنے ساتھ ملا لیا اور ادھو ٹھاکرے کی حکومت کے لیے ایک نیا سیاسی بحران کھڑا کر دیا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ اس سیاسی رشہ کشی میں جیت شیوسینا کی ہوتی ہے یا پھر بی جے پی کی، جس نے ماضی میں کئی حکومتوں کا تختہ پلٹ کر اپنی حکومت بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔      

غزوہ ہند، جناح، پاکستان یا ترقی: اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات کا موضوع آخر ہے کیا؟

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

یوکرین پر روسی حملے کے بعد انٹونیو گوٹیرش اور رجب طیب اروآن کا کییف کا یہ پہلا دورہ تھا

یوکرین بحران: گوٹیرش، ایردوآن اور زیلنسکی کے مابین ملاقات

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں