1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
Indien - Ursula von der Leyen in Dehli mit Narendra Mod
تصویر: REUTERS

بھارت کے ساتھ فوجی و تجارتی تعلقات بہتر بنائیں گے، ای یو

25 اپریل 2022

یورپی یونین کی چیف ایگزیکٹو اس وقت بھارت کے دورے پر ہیں۔ انہوں نے اس دورے کے تناظر میں کہا کہ یورپی یونین بھارت کے ساتھ عسکری اور تجارتی تعلقات میں مزید وسعت چاہتی ہے۔

https://www.dw.com/ur/%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%B1%D8%AA-%DA%A9%DB%92-%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE-%D9%81%D9%88%D8%AC%DB%8C-%D9%88-%D8%AA%D8%AC%D8%A7%D8%B1%D8%AA%DB%8C-%D8%AA%D8%B9%D9%84%D9%82%D8%A7%D8%AA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A8%DB%81%D8%AA%D8%B1%DB%8C-%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%AA%DB%92-%DB%81%DB%8C%DA%BA-%DB%8C%D9%88%D8%B1%D9%BE%DB%8C-%DB%8C%D9%88%D9%86%DB%8C%D9%86/a-61579865

یورپی کمیشن کی صدر ارزولا فان ڈیئر لائن کا بھارتی دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ابھی گزشتہ ہفتے برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نئی دہلی میں اپنا دورہ مکمل کر چکے ہیں۔ مبصرین کے مطابق ان دوروں کا ایک اہم مقصد بھارت کو قائل کرنا ہے کہ وہ یوکرین جنگ کے بعد روس کے ساتھ اپنے باہمی تعلقات میں کمی پیدا کرے۔

برطانیہ بھارت کو امریکہ اور یورپی یونین کے مساوی درجہ دے گا

یورپی یونین کے ایک اہلکار نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ کمیشن کی صدر کے دورے کا بنیادی مقصد بھارت کے ساتھ یورپی یونین کے موجودہ تعلقات کو مزید آگے بڑھانا ہے۔ اس اہلکار کے مطابق مغربی رہنماؤں کے بھارتی دورے اس تناظر میں بھی ہیں کہ وہ بھارت کو اپنی جانب راغب کرنے کے لیے کیا کچھ متبادل کے طور پر دے سکتے ہیں۔

Polen Warschau | Aktion
یورپی کمیشن کی صدر ارزولا فان ڈیئر لائن دو روزہ دورے پر بھارتی دارالحکومت نئی دہلی چوبیس اپریل کو پہنچی تھیںتصویر: Kacper Pempel/REUTERS

یہ امر اہم ہے کہ روس کی جانب سے یوکرین پر رواں برس چوبیس فروری کی فوجی حملے کے بعد بھارت نے کُھل کر ماسکو حکومت کے اس اقدام کی مذمت نہیں کی تھی۔ دوسری جانب یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بھارت کو فوجی ساز و سامان دینے والا سب سے بڑا ملک بھی روس ہے۔

فان ڈیئر لائن کا دو روزہ دورہ

یورپی کمیشن کی صدر ارزولا فان ڈیئر لائن دو روزہ دورے پر بھارتی دارالحکومت نئی دہلی چوبیس اپریل کو پہنچی تھیں۔ کمیشن کی صدر کی حیثیت سے یہ ان کا پہلا غیر ملکی دورہ بھی ہے۔ انہوں نے پیر پچیس اپریل کو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات سے قبل انہوں نے بھارت کے ساتھ فوجی، تجارتی اور تکنیکی (Tech) تعلقات کو مزید وسیع کرنے کی بات کی تھی۔

تکینیکی تعلقات میں وسعت کے حوالے سے یورپی یونین کے اہلکار کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کے میدان میں بھارت کے ساتھ تعاون کو بڑھانے کا مقصد اس کو اپنے کیمپ میں شامل کرنا ہے۔

کشمیریوں کا یوم سیاہ: یورپی پارلیمانی اراکین کا اعلیٰ یورپی حکام کے نام خط

نئی ٹریڈ اور ٹیکنالوجی کونسل

 ارزولا فان ڈیئر لائن اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان ہونے والی ملاقات میں اس پر اتفاق کیا گیا کہ اطراف مشترکہ طور پر ایک نئی تجارتی اور ٹیکنالوجی کونسل کا قیام عمل میں لائیں گے۔ اس کونسل کو انہیں خطوط پر استور کیا جائے گا جیسے کہ یورپی یونین اور امریکا کے درمیان ایک کونسل پہلے سے تشکیل پا چکی ہے۔

Indien l Präsidentin der Europäischen Kommission Ursula von der Leyen in Gurgaon
بھارتی دورے کے موقع پر چوبیس اپریل کو یورپی کمیشن کی صدر ایک پودا لگاتے ہوئےتصویر: Money Sharma/AFP

اس کونسل کے تحت ٹینیکل کمپنیوں کے درمیان ڈیجیٹل معلومات کے تحفظ اور ضوابط کو متعارف کرانے کےعلاوہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی نگرانی کے عمل کو بھی مزید مؤثر بنانا بھی ہے۔

ایسا بھی امکان سامنے آیا ہے کہ بھارت اور یورپی یونین آزاد تجارت معاہدے کی معطل شدہ بات چیت دوبارہ شروع کرسکتے ہیں۔ اس مناسبت سے مذاکراتی عمل نو دس برس قبل بنیادی معاملات پراختلافات کی وجہ سے سن 2013 میں منجمد ہو کر رہ گیا تھا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بھارت یورپی یونین کی مئی سن 2021 کی سمٹ کے بعد تعلقات میں مزید گہرائی سامنے نہیں آئی ہے۔

ع ح/ ر ب (روئٹرز)

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

Salman Iqbal

اے آر وائی کے خلاف کارروائی کی ذمہ دار حکومت ہے، سلمان اقبال

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں