بھارت کی ویکسین ڈپلومیسی شروع | حالات حاضرہ | DW | 20.01.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بھارت کی ویکسین ڈپلومیسی شروع

بھارت نے اپنی ویکسین سفارت کاری کا باضابطہ آغاز کردیا ہے اور کووڈ ویکسین کی پہلی کھیپ بدھ بیس جنوری کو ہمسایہ ملک بھوٹان اور مالدیپ روانہ کی گئی۔

بھارت نے پڑوسی ممالک اور اہم پارٹنر ملکوں کو کووڈ ویکسین فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم اس میں پاکستان کا نام شامل نہیں ہے۔ ویکسین فراہم کرنے کے بھارت کے اس اقدام کو چین پر سفارتی محاذ پر برتری حاصل کرنے کی کوشش بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

بھارت کے سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کے ذریعے آکسفرڈ۔آسٹرازینکا کے تیار کردہ 'کووی شیلڈ‘ نامی ویکسین کی ایک لاکھ خوراک پر مشتمل پہلی کھیپ آج ممبئی ہوائی اڈے سے مالدیپ کے دارالحکومت مالے اور بھوٹان کے دارالحکومت تھمپو روانہ کی گئی۔ اس کے بعد یہ ویکسین نیپال، بنگلہ دیش، افغانستان، ماریشش، سری لنکا، سیشلس اور میانمار بھیجی جائے گی۔

بھارت اپنے اس اقدام کو 'پڑوسی پہلے‘ کی سرکاری پالیسی کے ایک اور ثبوت کے طورپر پیش کرنا چاہتا ہے۔ مودی حکومت نے اس مہم کو 'ویکسین میتری‘  (ویکسین دوستی) کے نام دیا ہے۔

پاکستان، متبادل کی تلاش میں

پاکستان پڑوسی ملک کی 'ویکسین دوستی‘ کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔ تاہم بھارت کے ایک روزنامے میں شائع ہونے والی غیر مصدقہ خبروں کے مطابق اسلام آباد گلوبل ویکسین الائنس (جی اے وی آئی) یا باہمی نظم کے ذریعہ بھارتی ویکسین حاصل کرنے کے متبادل تلاش کررہا ہے۔ اخبار نے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ ویکسین بنانے والی بھارت کی ایک کمپنی نے ویکسین سپلائی کرنے کے سلسلے میں گزشتہ ہفتے حکومت پاکستان سے رابطہ بھی کیا تھا۔

مالدیپ، بھوٹان اور سری لنکا کے علاوہ دیگر ملکوں کے رہنماوں نے بھارت میں کامیابی کے ساتھ  ویکسینیشن پروگرام شروع کرنے اور پڑوسی ملکوں کے تئیں فراخدلی کا مظاہرہ کرنے پر وزیر اعظم مودی کا شکریہ ادا کیا ہے۔

بھارت وعدہ وفا کر رہا ہے

وزیر اعظم نریندر مودی نے 'ویکسین میتری‘ مہم کا اعلان کرتے ہوئے منگل کے روز ایک ٹوئٹ میں کہا، ”بھارت عالمی برادری کے ہیلتھ کیئر  کی ضرورتوں کو پورا کرنے میں ایک دیرینہ اور بااعتماد پارٹنر کے طورپر انتہائی فخر محسوس کرتا ہے۔ مختلف ملکوں کو کووڈ ویکسین کی سپلائی کل سے شروع ہوجائے گی اور آنے والے دنوں میں مزید ملکوں کو ویکسین فراہم کی جائے گی۔"

بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بھی ایک ٹوئٹ میں کہا کہ بھارت انسانیت کو ویکسین فراہم کرنے کے اپنے وعدے کو پورا کر رہا ہے۔ اس سے کووڈ کے چیلنج پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

متعدد ملکوں سے درخواستیں

بھارتی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ حکومت کو پڑوسی ملکوں کے علاوہ دیگر پارٹنر ممالک سے بھارت میں تیار کردہ ویکسین سپلائی کرنے کی درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے، ”ان درخواستوں کے مدنظر بھوٹان، مالدیپ، بنگلہ دیش، نیپال، میانمار اور سیشلس کو امداد کے طور پر ویکسین فراہم کی جائے گی۔ سری لنکا، افغانستان اور ماریشش کے سلسلے میں ضروری ریگولیٹری منظوری کا انتظار ہے۔"

نئی دہلی کو کئی افریقی ممالک کے علاوہ برازیل اور کمبوڈیا کی حکومتو ں سے بھی بھارتی ویکسین فراہم کرنے کی درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔

بھارت کو کمبوڈیا کی جانب سے یہ درخواست ایسے وقت ملی ہے جب دو روز قبل ہی چین نے اسے دس لاکھ خوراک مفت میں دینے کا وعدہ کیا تھا۔ بھارتی سفارتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت سے کمبوڈیا کی درخواست سے پتہ چلتا ہے کہ وہ صرف چین پر منحصر نہیں رہنا چاہتا۔ حالانکہ کمبوڈیا کو چین کا بہت قریبی سمجھا جاتا ہے اس لحا ظ سے یہ پیش رفت کافی اہم ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ گھریلو ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے بھارت دوست ملکوں کو مرحلہ وار طریقے سے ویکسین کی سپلائی جاری رکھے گا۔ ”بیرونی ملکوں کو ویکسین کی سپلائی سے قبل اس امر کو یقینی بنایا جائے گا کہ گھریلو ضرورت کے لیے ویکسین خاطر خواہ مقدار میں موجود رہے۔"

Indien Neu Delhi | Coronavirus: Testlauf vor Impfstart

بھارت میں کووڈ ویکسینیشن کا آغاز سولہ جنوری کو ہوگیا

ہیلتھ کیئر میں مدد

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ سریواستوا نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ بھارت پڑوسی ملکوں کو ویکسین کی ترسیل سے قبل ان کے ہیلتھ  ورکروں کے لیے تربیتی پروگرام بھی منعقد کر رہا ہے۔ اب تک دو تربیتی پروگرام منعقد ہوچکے ہیں جس میں تقریباً نوے ماہرین صحت اور سائنس دانوں نے حصہ لیا۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے ستمبر میں اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ویکسین کی سپلائی کے سلسلے میں بھارت تمام ملکوں کو کولڈ چین اور اسٹوریج کی صلاحیت بڑھانے میں مدد کرے گا۔ انہوں نے دیگر ملکوں کے ساتھ کلینیکل ٹرائل اور ویکسین کی تیاری میں مدد کرنے کا بھی اعلان کیا تھا۔

کورونا وائرس کی وبا کے آغاز کے بعد بھارت نے بہت سے ملکوں کو ہائیڈرو کلوروکوین، ریمڈیسیور اور پاراسیٹامول کی گولیاں نیز جانچ میں استعمال ہونے والے سازو سامان، وینٹی لیٹر، ماسک، دستانے اور دیگر طبی اشیاء سپلائی کی تھیں۔

 

 

DW.COM