بھارت کو جلاد کی تلاش | معاشرہ | DW | 10.12.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

بھارت کو جلاد کی تلاش

 نئی دہلی کی'نربھیا‘جنسی زیادتی کے مجرموں کو پھانسی پر لٹکایا جانا تقریباً یقینی ہوچکا ہے لیکن تختہ دار کا لیور کھینچنے کے لیے کوئی جلاد دستیاب نہیں ہے، جس نے بھارتی جیل حکام کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔

جیل حکام نے جلاد کی تلاش شروع کردی ہے تاکہ انہیں اس طرح کی کوئی پریشانی پیش نہ آئے جیسی انہیں بھارتی پارلیمان پر حملہ کے مجرم افضل گورو کو پھانسی دینے کے وقت 2013 ء میں پیش آئی تھی۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ نربھیا مقدمے کے چار مجرموں کو سولہ دسمبر سے قبل کسی بھی دن بھی پھانسی دی جا سکتی ہے۔ بھارتی صدر کی طرف سے رحم کی درخواست مسترد ہوتے ہی 'بلیک وارنٹ‘ جاری کردیا جائے گا اور اس کے فوری بعد چاروں مجرموں کو پھانسی دے دی جائے گی۔

تاہم حکام کے سامنے مسئلہ یہ پیدا ہوگیا ہے کہ انہیں پھانسی دینے کے لیے کوئی جلاد موجود نہیں ہے۔ اس سے قبل 2013ء میں جب افضل گورو کو نصف شب کو پھانسی دینے کا فیصلہ کیا گیا تو بھی جیل حکام کو کافی پریشانی ہوئی تھی۔ اس وقت جیل کے ایک اہلکار نے رضاکارانہ طورپر جلاد کی خدمات انجام دیتے ہوئے افضل گورو کی زندگی کا چراغ گل کر دیا تھا۔

تہاڑ جیل کے حکام گزشتہ ایک ماہ سے اسی شش و پنج میں مبتلا ہیں کہ اس مرتبہ بھی ایسی کوئی ہنگامی صورت نہ پیدا ہوجائے۔ تہاڑ جیل کے حکام ملک کے دیگر جیلوں کے حکام سے رابطہ کر کے یہ معلوم کر رہے ہیں کہ آیا ان کے یہاں کوئی جلاد موجود ہے؟ وہ اترپردیش میں میرٹھ کے اس گاؤں سے بھی معلومات حاصل کر رہے ہیں، جہاں سے آخری مرتبہ جلاد کو بلایا گیا تھا۔

تہاڑ جیل کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ”اس مرتبہ بھی کسی جلاد کی باضابطہ تقرری نہیں کی جائے گی اور اسے ایک مرتبہ کے لیے ٹھیکہ پر حاصل کیا جائے گا۔ ہمارے نظام میں پھانسی کی سزا عام نہیں ہے۔ شاذ و نادر معاملات میں ہی کسی کو پھانسی دی جاتی ہے۔ اس لیے کل وقتی جلاد رکھنا مناسب نہیں ہے۔ اس کے علاوہ اس کام کے لیے کل وقت ملازم کا حصول مشکل بھی ہے کیوں کہ کوئی بھی شخص اس کام کے لیے تیار نہیں ہوتا ہے۔"

بھارت میں کسی کو پھانسی پر لٹکانے کے عوض میں جلاد کو عام طور پر اعزازیہ دیا جاتا ہے۔ ممبئی پر دہشت گردانہ حملہ کے مجرم اجمل عامر قصاب کو پھانسی دینے والے جلاد کو پانچ ہزار روپے دیے گئے تھے۔ پھانسی پر لٹکانے کے لیے خصوصی رسی کو بہار کے بکسر جیل کے سزا یافتہ قیدی تیار کرتے ہیں۔ اسے منیلا رسی کہا جاتا ہے کیوں کہ انگریزوں کے دور میں اس کے لیے کپاس منیلا سے منگوائی جاتی تھی۔

اس دوران ایک دلچسپ پیش رفت میں ڈاکٹر، انجینئر اور چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ جیسے متعدد پروفیشنلز نے جلاد کی خدمات انجام دینے کی پیش کش کی ہے۔ تہاڑ جیل کے ایڈیشنل آئی جی راجکمار کا کہنا ہے، ”ان کے پاس کئی ایسی ای میل آئی ہیں جن میں نربھیا کے مجرموں کو پھانسی پر لٹکانے کے لیے پروفیشنلز نے درخواست کی ہے۔ ان لوگوں نے لکھا ہے کہ اگر جلاد دستیاب نہیں ہوتا ہے تو مجرموں کو پھانسی پر لٹکانے کے لیے وہ تیار ہیں۔"

نربھیا معاملے کے ایک مجرم ونئے شرما نے آخری امید کے طور پر بھارتی صدر سے رحم کی اپیل کی ہے۔ اس سے پہلے دہلی حکومت اور وفاقی وزارت داخلہ اس کی رحم کی درخواست مسترد کرچکی ہے۔ حیدرآباد میں ایک خاتون ڈاکٹر کے ساتھ جنسی زیادتی اور زندہ جلا دینے کے ساتھ ساتھ اترپردیش کے اناو میں جنسی زیادتی کی شکار لڑکی کو زندہ جلانے کے واقعہ سے پیدا شدہ کشیدہ ماحول میں رحم کی اس کی درخواست کا منظور ہونا مشکل ہی دکھائی دے رہا ہے۔

دہلی میں 16 دسمبر 2012 ء کو ایک چلتی بس میں میڈیکل کی 23 سالہ طالبہ نربھیا کے ساتھ وحشیانہ طریقے سے جنسی زیادتی کرنے والے چھ مجرمو ں میں سے ایک نابالغ تھا۔ اس لیے اسے جوینائل جسٹس کورٹ میں پیش کیا گیا تھا، ایک ملزم نے تہاڑ جیل میں خودکشی کرلی تھی، تین دیگرنے رحم کی درخواست نہیں کی ہے۔ لہذا اب چاروں مجرموں کو ایشیا کی سب سے بڑی دہلی کی تہاڑ جیل میں کسی بھی دن پھانسی دی جاسکتی ہے۔

ویڈیو دیکھیے 01:50

بھارت: گینگ ریپ کے ملزم کی رہائی پر احتجاج

جاوید اختر، نئی دہلی

 

DW.COM

Audios and videos on the topic