بھارت کا شہریت ترمیمی بل انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، عمران خان | حالات حاضرہ | DW | 10.12.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بھارت کا شہریت ترمیمی بل انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے مودی حکومت کے کشمیر میں اقدامات اور شہریت سے متعلق متنازعیہ قانون پر اسے ’فاشسٹ‘ قرار دیا۔ البتہ انہوں نے پاکستان میں بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں پر کوئی بات نہیں کی۔

انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کشمیری عوام کو سلام پیش کیا اور کہا کہ نریندرمودی حکومت کے اقدامات ’آر ایس ایس کے ہندو راشٹرا‘ نظریے کی مثال ہے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی بھارتی پارلیمان میں شہریت ترمیمی بل کی منظوری کی مذمت کی اور کہا ہے کہ یہ قانون مذہب کے نام پر تقسیم کے خاتمے کے عالمی قوانین کے منافی ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق بھارت کا یہ اقدام مذہب کے نام پر پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے۔

دس سمبر انسانی حقوق کا عالمی دن ہے۔  پاکستان میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق ملک میں انسانی حقوق سے متعلق متعدد چیلنجز ہیں جن میں اظہار آزادی پر قدغنیں، انتخابات میں مداخلت، سکیورٹی اداروں کی زیادتیاں، جبری گمشدگیاں، بچوں پر تشدد، اور اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک جیسے مسائل شامل ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے اس موقع پر کہا کہ ملک کی سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ کم از کم انسانی حقوق پر ایک چارٹر پر اتفاق کرلیں ۔ انہوں نے ایک ٹوئیٹ میں کہا کہ دنیا بھر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں سامنے آ رہی ہیں، خاص طور پر پاکستان میں۔ فرحت اللہ بابر کے مطابق یہ خلاف ورزیاں تب ہی ہوتی ہیں جب کوئی ادارہ یا انفرادی شخص اپنے دائرہ اختیار سے بڑھ کر کام کریں۔

اس سال کا ایشیا ڈیموکریسی اور ہیومن رائٹس ایوارڈ کا حق دار ایک آسٹریلین غیر سرکاری تنظیم ڈپلومیسی ٹریننگ پروگرام کو دیا گیا ہے۔ یہ تنظیم گزشتہ انتیس برسوں سے ایشیا اور بحر الکاہل میں جمہوری اقدار کی ترویج اور انسانی حقوق کے لیے کام کر رہی ہے۔

DW.COM