بھارت میں مسافر بس دریا میں جا گری، 32 افراد ہلاک | حالات حاضرہ | DW | 23.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بھارت میں مسافر بس دریا میں جا گری، 32 افراد ہلاک

بھارت کی مغربی ریاست راجستھان میں تئیس دسمبر کی صبح ایک مسافر بس کے حادثے میں کم از کم بتیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ سوائے مادھو پور ضلع میں یہ حادثہ اس وقت پیش آیا، جب ایک مسافر بس ایک دریائی پُل کے اوپر سے گزر رہی تھی۔

طبی حکام کے مطابق ریاستی دارالحکومت جے پور سے 160 کلومیٹر دوری پر واقع دریائے بناس میں پیش آنے والے اس حادثے کی وجہ سے دیگر دس مسافر شدید زخمی بھی ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق بس کے گرنے کی وجہ اُس کی تیز رفتاری تھی۔ عینی شاہدین کی ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایک دوسری گاڑی کو اوورٹیک کرتے ہوئے بس ڈرائیور کے کنٹرول سے باہر ہو گئی اور وہ پُل پر سے نیچے تیس میٹر گہرائی میں جا گری۔ مقامی پولیس ابھی تک یہ تصدیق نہیں کر سکی ہے کہ آیا بس کا ڈرائیور بچ گیا ہے۔

Indien Busunfall (Getty Images/AFP)

اس طرح کے حادثات کی وجہ سے بھارت میں سالانہ ایک لاکھ پچاس ہزار کے قریب افراد مارے جاتے ہیں

ایک مقامی ٹیلی وژن پر نشر کی جانے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ امدادی کارکن اور عام شہری دریا سے لاشیں باہر نکال رہے ہیں۔  ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کیلاش چند ورما کا نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ہم ابھی تک بتیس لاشیں نکال چکے ہیں اور زخمیوں کو ہسپتال پہنچایا جا رہا ہے۔‘‘ انہوں نے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق بس میں پھنسے افراد کو اسٹیل کٹرز سے بس کے حصے کاٹتے ہوئے نکالا گیا ہے۔ بھارت کی سڑکوں کو دنیا کی خطرناک ترین سڑکیں بھی قرار دیا جاتا ہے۔ اس طرح کے حادثات کی وجہ سے بھارت میں سالانہ ایک لاکھ پچاس ہزار کے قریب افراد مارے جاتے ہیں۔ اس ایشائی ملک میں سڑکیں ٹوٹ پھوت کا شکار ہیں اور ڈرائیونگ بھی  بے پروائی سے کی جاتی ہے۔

راجستھان کو صحرائی ریاست بھی کہا جاتا ہے۔ یہ نہ صرف مقامی بلکہ بین لاقوامی سیاحوں میں بھی مشہور ہے۔

DW.COM