بھارت: موسمیاتی تبدیلیوں کے تباہ کن اثرات | سائنس اور ماحول | DW | 05.12.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

سائنس اور ماحول

بھارت: موسمیاتی تبدیلیوں کے تباہ کن اثرات

ماحولیاتی تبدیلی پر کام کرنے والے تھنک ٹینک ’جرمن واچ‘ کی طرف سے جاری ہونے والی رپورت میں کہا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلوں سے جن ممالک کو سب سے زیادہ خطرات در پیش ہیں ان میں بھارت اب پانچویں مقام پر پہنچ گيا ہے۔

ایک طرف ماحولیات کے تحفظ پر بات چيت کے لیے جہاں میڈرڈ میں ’سی او پی 25‘  کے تحت عالمی رہنماؤں میں بات چیت ہو رہی ہے تو دوسری جانب اس حوالے سے تازہ رپورٹ میں کہا گيا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ہونے والے ممالک میں عالمی سطح پر بھارت پانچویں مقام پر پہنچ گیا جبکہ پہلے یہ پندرہویں نمبر پر تھا۔  

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2018ء میں شدید بارشوں کے سبب ہونے والے زبردست جانی و مالی نقصان اور تباہی کے تجزیوں سے یہ نتائج اخذ کیے گئے ہیں۔

ماحولیات کے لیے کام کرنے والے تھنک ٹینک ’جرمن واچ‘ نے یہ رپورٹ جاری کی ہے جس نے دنیا کے  181 ممالک کا معاشی نقصان، جی ڈی پی میں گراوٹ اور انسانی اموات کے تفصیلی ڈیٹا کی بنیاد پر یہ جائزے پیش کیے ہیں۔ اس رپورٹ میں موسمیاتی تبدیلیوں سے جن ممالک کو سب سے زیادہ خطرات در پیش ہیں اس میں جاپان، فلپائن، جرمنی، مڈگاسکر اور بھارت کو بالترتیب پہلے سے لے کر پانچویں مقام پر رکھا گيا ہے۔  

Indien Zug steckt in Monsunfluten fest - 700 Reisende gerettet

رپورٹ کے مطابق سنہ 2018ء  میں جنوب مغربی مون سون نے بھارت کو بری طرح متاثر کیا اور اس میں ریاست کیرالہ کو بہت زیادہ نقصان پہنچا جس میں 324 افراد ہلاک ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق سنہ 2018ء  میں جنوب مغربی مون سون نے بھارت کو بری طرح متاثر کیا اور اس میں ریاست کیرالہ کو بہت زیادہ نقصان پہنچا جس میں 324 افراد سیلاب یا پھر بارش کی وجہ سے زمین کھسکنے جیسے واقعات کی زد میں آکر ہلاک ہوئے۔ تقریباﹰ سوا دو لاکھ لوگوں کو نقل مکانی کرنا پڑی، 20 ہزار مکانات اور 80 کے قریب ڈیم تباہ ہوئے اور تقریباﹰ پونے تین ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ بھارت کے شمالی ساحلوں پر بھی موسمیاتی تبدیلیوں سے زبردست نقصان ہوا۔

’گلوبل کلائمیٹ رسک انڈیکس 2020‘ کے مطابق، ''انتہائی موسمی واقعات ایک بہت بڑا چیلنج ہیں نا صرف غریب ممالک کے لیے بلکہ ترقی یافتہ ممالک کے بھی۔ آب و ہوا اور ماحولیات کی تبدیلی سے ترقی یافتہ ممالک کو بھی زیادہ سے زیادہ خطرات کا سامنا ہے۔‘‘

اس رپورٹ میں مزید کہا گيا ہے کہ شدید لُو کے سبب سال 2018ء جرمنی میں دوسرا گرم ترین برس تھا جس میں 1234 افراد ہلاک ہوئے۔ اسی برس بارش کی کمی کے سبب جرمنی کے کئی علاقوں میں خشک سالی کی صورتحال پیدا ہوئی جس سے فصلوں کی پیداوار بری طرح متاثر ہوئی۔

Indien Uttarakhand Naturkatastrophen

بھارت میں سب سے زیادہ اثر شدید بارشوں کا پڑا جس کے سبب کئی علاقوں میں شدید سیلاب کی صورت حال اور زمین کھسکنے کے واقعات پیش آئے.

ماہرین کے مطابق جاپان اور جرمنی جیسے صنعتی طور پر ترقی یافتہ ملکوں کو بھی سخت خشک سالی  اور شدیدگرمی کی مار جھیلنا پڑ رہی ہے۔ بھارت میں سب سے زیادہ اثر شدید بارشوں کا پڑا جس کے سبب کئی علاقوں میں شدید سیلاب کی صورت حال اور زمین کھسکنے کے واقعات پیش آئے جن کے باعث قریب ایک ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ بھارت کے بھی مختلف علاقوں میں موسم گرما میں زبرست گرمی کی لہر چلتی ہے۔ گرچہ گزشتہ برس اس میں اموات تو کم ہوئیں لیکن معاشی نقصان بہت زیادہ ہوا تھا۔

اس رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا میں سری لنکا اور پاکستان بھی موسمیاتی تبدیلیوں سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ سری لنکا کے ساحلی علاقوں میں زبردست بارشوں کے سبب کافی نقصان ہوا جبکہ پاکستان کے بھی مختلف علاقوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کا بہت زیادہ اثر پڑا اور کافی جانی و مالی نقصان پہنچا۔