بھارت سے ادویات کی درآمد روکی گئی تو مسئلہ ہو گا، دوا ساز تنظیم | حالات حاضرہ | DW | 12.05.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بھارت سے ادویات کی درآمد روکی گئی تو مسئلہ ہو گا، دوا ساز تنظیم

وزیراعظم عمران خان نے بھارت سے ممنوعہ دواؤں کی درآمد پر تحقیقات کا حکم دیا ہے لیکن پاکستان میں ادویات بنانے والی کمپنوں کا کہنا ہے کہ اگر بھارت سے درآمد روکی گئی تو ملک میں کورونا سے لڑائی کو نقصان پہنچے گا۔

پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر دوائیوں کی تیاری میں بھارت سے درآمد کیے جانے والے خام مال پر پابندی لگائی گئی تو ملک میں ادویات کی قلت اور مہنگائی ہو سکتی ہے۔ پیر 11 مئی کو اپنے ایک بیان میں تنظیم نے کہا کہ ایسے کسی اقدام سے کورونا سے نمٹنے کی کوششوں کو ٹھیس پہنچے گی۔

تنظیم کے سینیئر وائس چیئرمین سید فاروق بخاری نے کہا، ''ایک ایسے وقت میں جب کورونا وبا سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جارہے ہیں، مریضوں کے لیے انتہائی ضروری ادویات کی ترسیل ناگزیر ہے۔‘‘

پاکستان نے پچھلے سال اگست میں کشمیر پر مودی حکومت کے یکطرفہ متنازع اقدامات کے بعد بھارت سے تجارت بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد ملک میں ادویات بنانے والی کمپنوں نے مل کر حکومت پر دباؤ ڈالا تھا کہ ان کی درآمدات پر پابندی ہٹائی جائے ورنہ ملک میں جان بچانے والی ادویات کی قلت شدید ہوجانے کا خطرہ ہے۔ حکومت نے بالآخر پاکستانی کمپنیوں کو یہ اجازت دے دی تھی۔

تاہم پاکستان میں ینگ فارمیسی ایسوسی ایشن کا الزام ہے کہ یہ اجازت کینسر اور دیگر جان لیوا ادویات کے حوالے سے تھی لیکن فارماسیوٹیکل کمپنیوں نے اس کے آڑ میں مختلف اقسام کی سینکڑوں دوائیں، وٹامن اور ویکسین درآمد کیں۔ اس حوالے سے تنظیم نے احتساب سے متعلق وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر کو ایک خط لکھ کر اس معاملے کی چھان بین کی درخواست کی ہے۔

وفاقی کابینہ کے پانچ مئی کے اجلاس میں نیشنل ہیلتھ سروس کی طرف سے وزیراعظم کو بتایا گیا کہ پاکستان میں ادویات بنانے والی کمپنیوں نے بھارت سے جو مال درآمد کیا اس میں بی سی جی، پولیو اور ٹیٹنس ویکسین کے علاوہ کئی طرح کی وٹامن اور طاقت کی دیگر دوائیں بھی شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وزیراعظم نے معاون خصوصی شہزاد اکبر کو اس معاملے کی چھان بین کا حکم دیا ہے۔

لیکن پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کا موقف ہے کہ وزیراعظم کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ پاکستانی کمپنیاں بھارت سے بعض تیار شدہ دوائیں منگواتی ہیں، جن میں کتے کے کاٹنے کی صورت میں لگائی جانے والی ریبیز ویکسین اور سانپ کے کاٹنے کے بعد لگائی جانے والی دوائی کے علاوہ ٹائیفائڈ کی دوائیں شامل ہیں جو پاکستان میں نہیں بنتیں۔

تنظیم کے سابق سربراہ زاہد سعید کے مطابق جن ادویات کو پاکستان  میں طاقت کی دوائیں سمجھا جاتا ہے وہ دراصل کئی بیماریوں سے بچنے کے لیے ناگزیر ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر ان کے بقول، ''فولک ایسڈ ویسے تو طاقت کی دوا ہے لیکن حاملہ خواتین کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہے۔ اسی طرح وٹامن بی۔ ون بیریبیری نامی بیماری سے بچاؤ کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہے۔‘‘

زاہد سعید کے مطابق، ''ہم لوگ بھارت کی بجائے چین سے دوائیں اور خام مال درآمد کر سکتے ہیں لیکن اس میں وقت لگے گا، تب تک انڈسٹری کو بھارت سے ہی ادویات منگانے کی اجازت دی جائے۔ ورنہ کورونا وبا کے دوران ملک میں مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔‘‘

 

DW.COM