1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
Indien | Coronakrise: Wanderarbeiter kehren zurück
تصویر: Manish Kumar/DW

بھارت: ایک ماہ میں 75 لاکھ افراد روزگار سے محروم

جاوید اختر، نئی دہلی
7 مئی 2021

بھارت میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے نتیجے میں لاک ڈاؤن کے سبب روزگار کی صورت حال بھی انتہائی تشویش ناک ہو گئی ہے۔ ماہ اپریل میں بے روزگاری کی شرح بڑھ کر آٹھ فیصد ہو گئی ہے، جو پچھلے چار ماہ کے دوران سب سے زیادہ ہے۔

https://www.dw.com/ur/%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%B1%D8%AA-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D9%85%D8%A7%DB%81-%D9%85%DB%8C%DA%BA-75-%D9%84%D8%A7%DA%A9%DA%BE-%D8%A7%D9%81%D8%B1%D8%A7%D8%AF-%D8%B1%D9%88%D8%B2%DA%AF%D8%A7%D8%B1-%D8%B3%DB%92-%D9%85%D8%AD%D8%B1%D9%88%D9%85/a-57458799

بھارت میں معیشت اور روزگار پر نگاہ رکھنے والے ادارے سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکونومی(سی ایم آئی ای) نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ کووڈ انیس کی دوسری لہر کے نتیجے میں لاک ڈاؤن کے سبب صرف اپریل کے مہینے میں ہی 75 لاکھ سے زائد افراد روزگار سے محروم ہو گئے۔

سی ایم آئی ای کے مینیجنگ ڈائریکٹر مہیش ویاس کا کہنا ہے کہ روزگار کی منڈی میں تشویش ناک صورت حال ابھی برقرار رہے گی۔ مارچ کے مقابلے میں اپریل میں روزگار سے محروم ہو جانے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ اپریل میں 75لاکھ سے زائد افراد بے روزگار ہوئے۔

مہیش ویاس کا کہنا تھا کہ مرکزی حکومت کے اعدادو شمار کے مطابق بھارت میں قومی سطح پر بے روزگاری کی شرح 7.97 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ شہری علاقوں میں یہ شرح اس سے بھی زیادہ یعنی 9.78 فیصد ہے جبکہ دیہی علاقوں میں یہ شرح 7.13 فیصد ہے۔ مارچ میں بے روزگاری کی قومی شرح 6.5 فیصد تھی۔

کووڈ انیس کی دوسری لہر کے دوران لاک ڈاؤن کی وجہ سے بہت سارے شعبے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ اور صرف لازمی سرگرمیوں کی ہی اجازت ہے جس کے وجہ سے بیشتر اقتصادی سرگرمیاں بند ہو گئی ہیں اور نتیجتاً ملازمتوں پر برا اثر پڑا ہے۔

Indien Coronavirus - Bihar
تصویر: IANS

مہیش ویاس کا کہنا تھا،”مجھے نہیں معلوم کہ کووڈ کی لہر کب اپنے پورے عروج پر ہو گی لیکن میں اس کی وجہ سے ملازمت کے محاذ پر پڑنے والے دباؤ کو دیکھ سکتا ہوں۔اس کے نتیجے میں بے روزگار کی شرح بڑھ جائے گی۔ ورکروں کی شراکت کی شرح گھٹ جائے گی اور بدتر حالات میں یہ دونوں ہو سکتے ہیں۔"  مہیش ویاس کا تاہم کہناتھا کہ انہیں لگتا ہے کہ گزشتہ برس کے پہلے لاک ڈاؤن کے مقابلے فی الحال صورت حال اتنی زیادہ خراب نہیں ہے۔ گزشتہ برس بے روزگاری کی شرح 24 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔

کووڈ کیسز میں مسلسل اضافہ

کووڈ انیس کی دوسری لہر پر قابو پانے کے لیے کوشش کے مرکزی حکومت کے تمام تر دعوؤں کے باوجود نئے کیسز اور اموات کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

جمعہ سات مئی کو بھارتی وزارت صحت کی طرف سے جاری اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں ریکارڈ چار لاکھ چودہ ہزار 188 نئے کیسز درج کیے گئے جس کے ساتھ کووڈ انیس سے متاثرین کی تعداد بڑھ کر دو کروڑ 14 لاکھ 91 ہزار 598 ہو گئی ہے۔ جبکہ تقریباً چار ہزار مزید اموات کے ساتھ ہلاک ہونے والوں کی تعداد دو لاکھ 34 ہزار 83 ہو گئی ہے۔

Indien Lockdown
تصویر: DW/A. Ansari

لاک ڈاؤن، مکمل یا جزوی

کیرالا، مدھیہ پردیش اور راجستھان ریاستوں نے مکمل لاک ڈاؤن نافذ کر دیے ہیں جبکہ دیگر ریاستیں بھی بندشوں میں سختی کر رہی ہیں۔

 تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا مرکزی حکومت ملک گیر لاک ڈاؤن نافذ کرے گی یا نہیں۔ گزشتہ برس مارچ میں وزیر اعظم نریندر مودی نے اچانک ملک گیر لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا تھا، جس کے نتیجے میں لاکھوں لوگوں کی ملازمتیں ختم ہو گئی تھیں اور معیشت میں ریکارڈ گراوٹ آگئی تھی۔وزیر اعظم مودی کے اس اقدام کی خاصی نکتہ چینی بھی ہوئی تھی۔ اس لیے انہوں نے ریاستوں سے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن کو آخری چارہ کار کے طور پر اختیار کریں۔

Indien Wanderarbeiter verlassen Neu Delhi wegen der Corona Pandemie
تصویر: Reuters/A. Abidi

 انتہائی نازک صورت حال

ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی معیشت کا بہت کچھ انحصار اس بات پر ہو گا کہ ملک کووڈ انیس کی دوسری لہر پر کتنی تیزی سے قابوپاتا ہے۔

دہلی یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف اکنامک گروتھ میں پروفیسر اروپ مترا کا کہنا تھا،”سن 2020 میں ملک گیر لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا تھا لیکن اس مرتبہ یہ ملک گیر نہیں ہے۔ ریاستوں کو جزوی یا مکمل پابندی عائد کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ لیکن عملی طور پر اس سے بھی اقتصادی سرگرمیاں رک جاتی ہیں کیونکہ لوگوں میں انفیکشن پھیلنے کے ڈر سے خوف پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ خوف حقیقی بھی ہے اور اس کا سب سے پہلا اثر لیبر مارکیٹ پر پڑتا ہے۔"

اروپ مترا کہتے ہیں کہ بے روزگار ہو جانے والوں کی تعداد کافی زیادہ ہے۔ اس میں تنخواہ یافتہ ملازمین، عارضی ملازمین اور خود کاروبار کرنے والے افراد شامل ہیں۔اس طرح لیبر مارکیٹ میں ایک ساتھ تین مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔ ملازمت یافتہ افراد کی تعداد گھٹ گئی ہے، افرادی قوت کی شراکت کم ہو گئی ہے اور ملازمت کے متلاشی افراد کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے۔یہ انتہائی نازک صورت حال ہے۔"

کورونا: بھارت کی سب سے بڑی کچی بستی ميں مستقبل غير واضح

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

Pakistan | Finanzminister Ishaq Dar

اسحاق ڈار چوتھی مرتبہ وزیر خزانہ بن گئے

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں