بھارت امریکہ مشترکہ بیان: نئی دہلی کو خوش کرنے کی کوشش قرار | حالات حاضرہ | DW | 13.04.2022

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بھارت امریکہ مشترکہ بیان: نئی دہلی کو خوش کرنے کی کوشش قرار

بھارت اور امریکہ نے ایک مشترکہ بیان میں پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری، مضبوط اور ناقابل واپسی اقدامات کے ذریعے لازمی بنائے کہ پاکستانی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔

پاکستان کی حکومت اور مبصرین کی طرف سے اس بیان پر سخت رد عمل سامنے آیا ہے اور مبصرین نے اسے واشنگٹن کی طرف سے نئی دہلی کو خوش کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

پاکستان کا بھارت میں دہشت گردی کا منصوبہ ناکام بنا دیا، دہلی پولیس

داسو بس حملے میں افغان اور بھارتی خفیہ ایجنسیاں ملوث ہیں، پاکستان

یہ مشترکہ بیان ٹو پلس ٹو ڈائیلاگ کا حصہ تھا، جس کا کل اختتام واشنگٹن میں ہوا۔ بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اس ڈائیلاگ کے حوالے سے اپنے امریکی ہم منصبوں سے ملاقاتیں کیں۔ مشترکہ بیان میں مذید کہا گیا ہے کہ پاکستان ممبئی اور پٹھان کوٹ کے حملوں میں ملوث لوگوں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے۔

دفتر خارجہ کا رد عمل

پاکستان کے دفتر خارجہ کی طرف سے اس بیان میں پاکستان کے غیر ضروری تذکرے کو مسترد کر دیا ہے۔ دفتر خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس مشترکہ اعلامیہ میں ختم کی جا چکی اور غیر موجود اکائیوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کی دہشت گردی کے خلاف ترجیحات کا رخ نہ مناسب ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ افسوناک امر ہے کہ دو ممالک کے دوطرفہ تعاون میں سیاسی وجوہات اور عوام کی توجہ دہشت گردی کے اصل خطرات سے ہٹانے کے لیے ایک تیسرے ملک کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ بھارت کی طرف سے یہ ریاستی دہشت گردی کو چھپانا کی کوشش ہے۔

بھارت کو خوش کرنے کی کوشش

 پاکستان میں مبصرین کا خیال ہے کہ اس مشترکہ بیان کا لب ولہجہ بھارت کو خوش کرنے والا ہے۔ پاکستانی مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سرزمین کبھی بھی دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہوئی ہے۔ اس کے برعکس پاکستان خود دہشت گردی کا شکار رہا ہے، جس میں تیس ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے اور اربوں ڈالرز کا ملک کو نقصان ہوا۔ کچھ ناقدین کا خیال ہے کہ امریکہ کے  دہشت گردی کے حوالے سے دوہرے معیار ہیں۔ وہ طالبان کو دہشت گرد کہتا رہا لیکن پھر انہی سے مذاکرات کر کے ان کے اقتدار کا راستہ ہموار کیا۔

دفاعی مبصر جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب کا کہنا ہے کہ یہ بیان امریکہ کی طرف سے بھارت کو خوش کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، '' امریکہ بھارت کو چین کے مقابلے میں خطے میں کھڑا کرنا چاہتا ہے لیکن نئی دہلی کی حجت یہ ہے کہ جب تک پاکستان بھارت کو آنکھیں دکھانے کے لیے موجود ہے، وہ چین کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اس لیے امریکہ کے ذریعے پاکستان پر دباؤ ڈال جارہا ہے تاکہ وہ سی پیک کوبند کرے اور چین سے تعلقات کو خراب کرے، خطے میں بھارت کی بالادستی کو قبول کر لے، جو پاکستان کبھی نہیں کرے گا۔‘‘

ان کا مذید کہنا تھا کہ بیان میں پٹھان کوٹ اور ممبی کا تذکرہ ہے۔ ''لیکن بالا کوٹ کا کوئی تذکرہ نہیں۔ بھارت کی ریاستی دہشت گردی کی کوئی مذمت نہیں، اس سے یہ صاف ظاہر ہے کہ امریکہ بھارت کو خوش کرنا چاہتا ہے۔‘‘

اپنے مفادات میں اقدامات کرنے چاہیں

تاہم کچھ ناقدین کی رائے میں پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف خود اقدامات کرنے چاہیے تاکہ بین الاقوامی برادری پاکستان پر انگلی نہ اٹھا سکے۔ پشاور یونیورسٹی کے ایریا اسٹڈی سینٹر کے سابق سربراہ ڈاکٹر سرفراز خان کا کہنا ہے کہ ماضی میں پاکستان کی طرف سے دہشت گرد تنظیموں کی حمایت کی گئی، اسی لیے دنیا پاکستان پر الزام لگاتی ہے۔ ''ہمیں نیشنل ایکشن پلان پر سختی سے عملدرآمد کرانا چاہیے اور کسی بھی اندرونی یا بیرونی دہشت گرد گروپ کو اپنی سرزمین استعمال کے لیے نہیں دینا چاہیے۔‘‘