1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بولے تو کہہ دینا عمران آیا تھا

1 اکتوبر 2022

ویسے خان صاحب کی جانب سے اس عاجزانہ مظاہرے سے یہ نظیر تو قائم ہو گئی کہ آئندہ جو بھی ملنا چاہے وہ بلا کھٹکے ملاقات کا وقت طے کئے بغیر بنی گالا کے گیٹ پر پہنچ کے پوچھے کہ خان صاحب کدھر ہیں؟

https://p.dw.com/p/4HcQy
News Blogger Wusat Ullah Khan
کیا آپ اسی طرح اچانک کسی کے ہاں بھی پیشگی اطلاع کے بغیر پہنچ جاتے ہیں؟تصویر: privat

گذشتہ ماہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے ایک بھرے جلسے میں اپنے مشیرِ خاص شہباز گل کو پولیس ریمانڈ میں دینے کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسلام آباد کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج زیبا چوہدری کا نام لیتے ہوئے کہا  کہ زیبا صاحبہ ہم آپ کو بھی عدالت میں دیکھ لیں گے ۔

اس دھمکی کا اسلام آباد ہائی کورٹ نے نوٹس لیتے ہوئے عمران خان کے خلاف مجرمانہ توہینِ عدالت کی درخواست کی سماعت شروع کر دی اور غیر مشروط معافی مانگنے کا نوٹس دیا ۔عمران خان نے اپنے جواب میں ان حالات  اور زہنی دباؤ کی وضاحت کی جس کے سبب ایسے سخت الفاظ ان کی زبان سے نکلے اور ان الفاظ پر افسوس کا اظہار کیا ۔ مگر عدالت نے انہیں غیر مشروط معافی کے لئے ایک اور بیانِ حلفی داخل کرنے کا موقع دیا۔

دوسری بار بھی عمران خان کی جانب سے غیر مشروط معافی مانگنے کے بجائے یہ پیش کش کی گئی کہ وہ جج زیبا چوہدری سے زاتی طور پر معافی مانگنے کو تیار ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے فراغ دلی سے کام لیتے ہوئے انہیں ایک اور موقع دیتے ہوئے  کہا کہ وہ جج زیبا سے ملاقات کے بعد نیا بیانِ حلفی داخل کریں تاکہ یہ فیصلہ ہو سکے کہ ان کے خلاف توہینِ عدالت کی فردِ جرم برخواست کی جائے یا برقرار رکھی جائے ۔اگلی سماعت کے لئے تین اکتوبر کی تاریخ مقرر کی گئی ۔

کل ( تیس ستمبر ) اچانک عمران خان بنا اطلاع دئیے جج زیبا چوہدری کی عدالت میں پہنچے تو انہیں عدالت کے ریڈر اور اسٹینو گرافر نے بتایا کہ جج صاحبہ تو چھٹی پر ہیں ۔عمران خان نے کہا کہ ” میڈم زیبا کو بتانا کہ عمران خان آیا تھا ، معذرت کرنا چاہتا تھا ۔میرے الفاظ سے اگر کوئی دل آزاری ہوئی ہے تو۔انہیں ضرور بتا دینا ۔‘‘

 نہیں معلوم کہ اسلام آباد ہائی کورٹ پیر تین اکتوبر کو جب توہینِ عدالت کے اس مقدمے کی  سماعت کرے گی تو  وہ عمران خان کے اس اقدام کو ان کی معافی کا درجہ دے گی یا پھر یہ پوچھے گی کہ آپ نے جج صاحبہ سے پیشگی رابطہ کر کے انہیں اپنے آنے کی اطلاع دی تھی یا نہیں ؟

اگر آپ کا  جج صاحبہ سے کسی سبب پیشگی رابطہ نہیں ہو سکا تو آپ کی جانب سے کسی نے عدالتی عملے سے رابطہ کر کے  پوچھا  کہ آج جج صاحبہ دفتر آئیں گی یا نہیں ؟

کیا آپ اسی طرح اچانک کسی کے ہاں بھی پیشگی اطلاع کے بغیر پہنچ جاتے ہیں؟

یا پھر آپ نے ایک تیر سے دو شکار کرنے کی کوشش کی ۔یعنی جب آپ کو بتایا گیا کہ جج زیبا آج چھٹی پر ہیں تو آپ نے بڑی 'معصومیت ‘ سے ان کے دفتر جانے کا فیصلہ کیا ۔تاکہ جج صاحبہ سے سامنا بھی نہ ہو اور ہر جانب واہ واہ بھی ہو جائے کہ دیکھو خان صاحب کتنے عاجز شخص ہیں کہ خود چل کے جج صاحبہ  کے دروازے تک پہنچے ۔اب جج صاحبہ ہی چھٹی پر تھیں تو بچارے خان صاحب کیا کرتے ۔

کیا یہ کافی نہیں کہ انہوں نے جج صاحبہ کے ریڈر اور اسٹینو گرافر کو اپنی خوش نیتی سے آگاہ کر دیا  کہ محترمہ کو بتا دیا جائے کہ عمران خان معذرت کرنے آیا تھا۔

لوگ خامخواہ ہی کہتے ہیں کہ خان صاحب کی گردن میں سریا ہے ۔ ایسا ہوتا تو  کاہے کو وہاں خود چل کے جاتے۔

ویسے خان صاحب کی جانب سے اس عاجزانہ مظاہرے سے یہ نظیر تو قائم ہو گئی کہ آئندہ جو بھی ملنا چاہے وہ بلا کھٹکے ملاقات کا وقت طے کئے بغیر بنی گالا کے گیٹ پر پہنچ کے پوچھے کہ خان صاحب کدھر ہیں ۔اور جب یہ پوچھا جائے کہ کیا آپ کی ملاقات پہلے سے طے ہے تو یہ اچانک ملاقاتی بتائے کہ طے تو نہیں تھی ۔بس  پڑوس میں ایک دوست کی عیادت کے لئے آیا تھا ۔سوچا کہ  خان جی سے بھی ہیلو ہائے کرتا چلوں ۔چلیے مصروف ہیں تو کوئی بات نہیں ۔بس یاد سے کہہ دینا کہ محمد اسلم آیا تھا۔

معروف شاعر اور ہمارے مشفق دوست جمال احسانی مرحوم  نے ایک دفعہ اچانک ہم چار پانچ لوگوں سے کہا یار چلو عبیداللہ علیم کے گھر چلتے ہیں۔بہت دنوں سے ملاقات نہیں ہوئی ۔ہم سب اٹھ کھڑے ہوئے ۔سیڑھیاں اترتے ہوئے جمال نے کہا یار جا تو رہے ہیں کہیں عبید اللہ علیم مل ہی نہ جائیں۔

جن دنوں میڈم نور جہاں کراچی کے ایک اسپتال میں داخل تھیں تو بہت سے مداح ان کی خیریت دریافت کرنے آتے ۔میڈم کے اہلِ خانہ میں سے کوئی نہ کوئی  ملاقاتیوں سے ملنے کے لئے کاریڈور میں ہمیشہ موجود رہتا۔ایک دن ایک صاحب  آئے ۔میڈم کی صاحبزادی نے ان سے  کہا کہ ماں تو اس وقت آرام کر رہی ہیں مگر انکل آپ اپنا نام بتا دیں ۔انکل نے کہا ارے بھئی بس ہمارا سلام کہیے گا اور بتا دیجے گا کہ قریشی آئے تھے۔

اور پھر انکل قریشی گلدستہ پکڑا کے کاریڈور میں غائب ہو گئے ۔

نوٹ: ڈی ڈبلیو اُردو  کے کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا ڈی ڈبلیو کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔

 

ملتے جلتے موضوعات سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

China I Kronprinz Mohammed bin Salman in Peking

امریکہ کے ساتھ کشیدگی کے درمیان چینی صدر کا دورہ سعودی عرب

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں