#بولو بھی بیرومیٹر کیا ہے؟ | بولو بھی بیرومیٹر | DW | 01.08.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

بولو بھی بیرومیٹر

#بولو بھی بیرومیٹر کیا ہے؟

#بولو بھی بیرومیٹر ڈی ڈبلیو اکیڈیمی کا ایک ایسا منصوبہ ہے جس کے تحت چند منتخب ممالک میں ڈیجیٹل شراکت داری، آزادی اظہار اور معلومات تک رسائی کے درمیان ربط کا جائزہ لیا گیا ہے۔

یہ وہ ممالک ہیں، جہاں ڈی ڈبلیو اکیڈیمی اپنے مقامی پارٹنر اداروں کے ساتھ مل کر میڈیا کی ترقی کے منصوبوں پر کام کرتی ہے۔

#بولو بھی بیرومیٹر کا مقصد ان ممالک میں ڈیجیٹل شراکت داری کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینا اورمستقبل میں ممکنہ خدشات کی نشاندہی کرنا ہے۔

#بولو بھی بیرومیٹر ذرائع ابلاغ کی ترقی کے لیے کام کرنے والی تنظیموں، این جی اوز، صحافیوں اور دیگر شراکت داروں کو ان کی ڈیجیٹل شراکت داری بہتر بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد آزادی اظہار اور معلومات تک رسائی کے حقوق کا تحفظ ہے۔

#بولو بھی بیرومیٹر ڈیجیٹل شراکت داری کے موضوع پر مباحثے کی حوصلہ افزائی اور اس سےمتعلق خبروں اور معلومات کا ایک ذریعہ بھی ہے۔

اس منصوبے کی بنیاد ایک ایسے ماڈل پر رکھی گئی ہے جو ڈیجیٹل شراکت داری کی شرح  کو پرکھنے میں مدد دیتا ہے۔

ڈیجیٹل شراکت داری کا جائزہ ہی کیوں؟

 آج کی تیز رفتار دنیا میں انٹرنیٹ ابلاغ کا ایک بنیادی ذریعہ بن چکا ہے۔ اسی سبب اب انٹر نیٹ صارفین کو مختلف ٹیکنالوجیز اور معلومات تک رسائی حاصل ہے۔ ان سہولیات کا استعمال کرتے ہوئے صارفین اپنے طور پر میڈیا مواد کی تیاری اور اشاعت کے بعد اس پر دوسرے لوگوں کی آراء  بھی جان سکتے ہیں۔ تاہم بہت سے ایسے انسان جنہیں ڈیجیٹل میڈیا تک رسائی میسر نہیں، وہ عام زندگی کے بہت سے پہلوؤں میں شرکت سے محروم رہ جانے کے خدشے سے دوچار رہتے ہیں۔

موجودہ دور میں ڈیجیٹل میڈیا کی افادیت کے پیش نظر ذاتی مراسم سے لے کر سیاسی مباحث تک بھی آن لائن فورمز پر منتقل ہو چکے ہیں۔ اسی باعث ڈیجیٹل شراکت داری اب سماجی روابط کے لیے ناگزیر ہو چکی ہے اور یہ آزادی اظہار اور معلومات تک رسائی کے حقوق کے استعمال کے لیے بھی ایک پیشگی شرط ہے۔ تاہم اس ڈیجیٹل دور کے ارتقاء کے ساتھ ہی جعلی خبروں، آن لائن پراپیگنڈے اور نفرت انگیز مواد کی بھرمار بھی بڑے چیلنج بن کر ابھرے ہیں۔ اس صورت حال سے یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ لوگوں کو محض آواز اٹھانے کا موقع مہیا کرنا ہی کافی نہیں۔ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ ایک مثبت اور تعمیری سماجی بحث میں شمولیت کے لیےصرف انٹرنیٹ کنکشن ہونا ہی کافی نہیں بلکہ اس کی کامیابی کے لیے چند دیگر پہلو بھی لوازمات میں شامل ہیں۔

ہمارا مقصد کیا ہے؟

ہمارا بنیادی مقصد ڈیجیٹل شراکت داری کے ذریعے آزادی اظہار اور معلومات تک رسائی کے ذرائع کو مضبوط بنانا ہے۔ انٹرنیٹ ہر کسی کو آزادی اظہار اور سماجی روابط کے تخلیقی مواقع مہیا کرتا ہے۔ یہی عمل ہماری ڈیجیٹل شراکت داری کی تعریف کا آئینہ دار اور  ہمارے #بولو بھی بیرومیٹر کی بنیاد بھی ہے۔ اس  منصوبے کا مقصد مختلف ڈیجیٹل فورمز پر لوگوں کو آزادی، خود مختاری اور اعتماد کے ساتھ ابلاغ کے قابل بنانا ہے۔ یہ میڈیا کی ترقی کے لیے کام کرنے والے افراد، غیر سرکاری تنظیموں، صحافیوں اور ہر اس شخص کے لیے ہے، جو ڈیجیٹل شراکت داری کے موضوع میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اس منصوبے میں ٹھوس مثالوں کا استعمال کرتے ہوئے یہ واضح کیا گیا ہے کہ اس شراکت داری کو کس طرح بڑھایا جاسکتا ہے۔

اس مقصد کے لیے ہم دنیا کے مختلف ممالک سے ماہرین کی آراء لیتے ہیں اور صارفین کے تجربات بیان کرتے ہیں کہ انہیں ڈیجیٹل شراکت داری میں کس طرح کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس ضمن میں ڈی ڈبلیو اکیڈیمی نے مختلف ممالک میں ایسے سروے بھی کرائے ہیں، جن کی مدد سے وہاں مستقبل میں ڈیجیٹل شراکت داری میں بہتری لانے کے حوالے سے ممکنہ راستوں کا تعین کیا گیا ہے۔

 ہمارا طریقہ کار کیا ہے؟

ڈیجیٹل شراکت داری کی پیچیدگیوں کو عام فہم اور  سہل بنانے کے لیے عام لوگوں پر مرتکز ایک ماڈل کا انتخاب کیا گیا ہے۔ یہ ماڈل ڈیجیٹل شراکت داری سے متعلق مختلف سرگرمیوں اور پہلوؤں  پر مشتمل ہے۔ ان  میں سے کسی بھی عمل کو کسی ایک پہلو کے ساتھ ملا کر مختلف نتائج اخذ کیے جاسکتے ہیں۔

اعمال کے ساتھ شراکت کا مجموعہ ایک تجریدی سطح پر امکانات کی تصویر کشی کرتا ہے۔ تاہم ہم اس منصوبے کے ذریعے کسی ملک میں ڈیجیٹل شراکت داری کی اصل شرح کا اندازہ نہیں لگا سکتے اور یہی ہم جاننا چاہتے ہیں۔ اس لیے ہم نے ڈیجیٹل شراکت داری کو ٹھوس انداز میں بیان کرنے اور چانچنے کے لیے ایک طریقہ کار وضع کیا ہے۔ اس کے تحت پہلے مرحلے میں ہم نے حقیقی زندگی میں  ڈیجیٹل شراکت داری کی سطح اور اس کے راستے میں ممکنہ طور پر حائل رِکاوٹوں کا تجزیہ کرنے کے لیےایک سو اوصاف تشکیل دیے۔ دوسرے مرحلے میں ہم نے ان اوصاف کو موضوعاتی فیلڈ  گروپوں میں تقسیم کیا: رسائی، اختراع، معاشرہ، میڈیا اور صحافت۔

پھر ہم نے ان پانچ گروپوں کو اپنے ماڈل میں ضم کیا۔ یہ اہم ہے کیونکہ ڈیجیٹل شراکت داری ہمیشہ ایک مخصوص ماحول کی اقدار پر منحصر ہوتی ہے۔ مثال کے طور پرایک ملک کا ٹیلی مواصلاتی ڈھانچہ اس بات کا تعین کرتا ہے کہ وہاں رہنے والے انسان انٹرنیٹ سے جڑ سکتے ہیں یا نہیں۔ اس کے علاوہ میڈیا اور معلومات کے حصول کے نظام کا متنوع ہونا بھی ناگزیر ہے تا کہ معاشرے کے تمام گروہوں کی ذرائع ابلاغ میں نمائندگی کو یقینی بنایا جا سکے۔

ڈیجیٹل شراکت داری کی نقشہ کشی

نیچے دیا گیا مائنڈ میپ ہمارے حاصل کردہ وہ تمام اوصاف دکھا رہا ہے، جو آزادی اظہار اور معلومات تک رسائی کے تناظر میں ڈیجیٹل شراکت داری کو واضح کرنے کے حوالے سے اہم ہیں۔ ڈی ڈبلیو اکیڈیمی کا ماڈل برائے ڈیجیٹل شراکت داری پانچ عمومی گروپوں میں امتیاز کرتا ہے: رسائی، ڈیجیٹل حقوق، میڈیا، صحافت، اختراع اور معاشرہ۔ ہر ایک کے لیے ہم نے دوسرے درجے  میں مزید چھوٹے گروپ تشکیل دیےتاکہ ہم ڈیجیٹل شراکت داری کو مزید گہرائی میں جا کر بیان کر سکیں۔

ایک تیسرا درجہ چھوٹے گروپوں میں تمام عناصر کے اوصاف پر مشتمل ہے۔ خصوصاﹰ ان سے متعلق تحقیقی سوالات کا احاطہ کرتے ہوئے، مثال کے طور پر گروپ 'رسائی‘ میں ہم نے ذیلی  گروپ 'پبلک انٹرنیٹ‘ بنایا اور اس سے وابستہ تحقیقی سوال یہ تھا: ''کیا پبلک وائی فائی دستیاب ہے؟‘‘ اس نقشے کو آن لائن مکالماتی انداز میں دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ڈیجیٹل شراکت داری کی سطح جانچنے کے لیے ہم کن ٹھوس اقدامات پر عمل پیرا ہیں؟

 اپنے ماڈل کی بنا پر ہم تین مراحل میں تحقیق کرتے ہیں:

پہلا مرحلہ:

تحقیقی سوال: کسی ملک میں ڈیجیٹل شراکت داری کی سطح کیا ہے؟

اعشاریوں کی بنیاد پر مفصل ڈیسک ریسرچ

اعشاریوں کی بنیاد پر اس ملک کے ماہرین کے ساتھ تفصیلی انٹرویوز

دوسرا مرحلہ:

ہر موضوعاتی فیلڈ میں تحقیقی تجزیے کی کوڈنگ

تحقیقی سوال: ہر موضوعاتی میدان (فیلڈ) میں ڈیجیٹل شراکت داری کے کیا امکانات موجودہیں؟

مجموعی طور پر پانچ درجہ بندیاں (یا ریٹنگ لیول) رکھے گئے ہیں:

-4 پوائنٹس: بہت زیادہ امکانات

-3 پوائنٹس: زیادہ امکانات

-2 پوا ئنٹس: درمیانے امکانات

-1 پوائنٹ: تھوڑے امکانات

-0 پوائنٹ: کوئی امکان نہیں

#بولوبھیبیرومیٹر کے نتائج کیسے پڑھے جا سکتے ہیں؟

موضوعاتی فیلڈز کے ساتھ ہم نے ایک ملک کے لیے زیادہ سے زیادہ پچیس پوائنٹس رکھے ہیں۔ کوڈنگ کے لیے ہم ایک تخمینہ جاتی گرڈ استعمال کرتے ہیں۔ یہ ہر موضوع کے لیے ٹھوس معیار پر مبنی کوڈنگ کے ضابطوں پر مشتمل ہے، جس کی بنیاد پر تحقیقی نتائج کو پرکھا جاتاہے۔ تمام موضوعاتی فلیڈز کو پرکھنے کے گرڈ عام ہیں اور یہاں دیکھے جاسکتے ہیں۔

تیسرا مرحلہ: اسکورنگ

حتمی نتیجہ ہر موضوعاتی فیلڈ کے لیے ایک سکور (ہر فیلڈ کے لیے زیادہ سے زیادہ بیس پوائنٹس) اور ایک مجموعی سکور جو سبھی پانچ موضوعاتی فلیڈز کے اسکور کا مجموعہ ہوتا ہے (زیادہ سے زیادہ سو پوائنٹس)۔

نتائج کیا ہیں؟

بیرومیٹر کو ایک ملک میں ڈیجیٹل شراکت داری کی مجموعی صورت حال یعنی اس کے لیے موجود ممکنہ مواقع، خدشات اور چیلنجز کا مفصل جائزہ پیش کرنا چاہیے۔

ہم مثبت مثالوں،کہانیوں اور ماہرین کی مدد سے مستقبل کے لیے ایک خاکہ پیش کرنا چاہتے ہیں:

کن مقامات پر دلچسپ پیش رفت، رجحانات اورمنصوبوں پر نظر رکھی جاسکتی ہے؟

مختلف شعبوں میں ڈیجیٹل شراکت داری بڑھانے کے لیے کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے مستفید ہو سکیں؟

زیادہ حوصلہ افزا اختراعات، نئی اسٹارٹ اپس اور تحقیقاتی منصوبے کون سے ہیں؟

ہم نے ہر ملک میں ڈیجیٹل شراکت داری کی سطح ناپنے کے لیے مختلف رنگوں پر مشتمل بیرومیٹر متعارف کرایا ہے۔ یہ مختلف رنگ حالات کی مندرجہ ذیل صورتوں کی نشاندہی کرتے ہیں:

لوگوں کو (ملک میں) سماجی رابطوں اور معلومات کے حصول کے لیے انٹرنیٹ کے استعمال میں پابندیوں کا سامنا ہے۔ ان لوگوں کو اپنے ڈیجیٹل حقوق کے تحفظ کے لیے مستقبل میں جدوجہد جاری رکھنا پڑے گی۔ ڈیجیٹل حقوق پر کڑی پابندیاں عائد ہیں۔ صحافی اور میڈیا عام طور پرانتہائی مشکل صورتحال میں کام کرتے ہیں۔ کل آبادی کے صرف ایک چھوٹے سے حصے ہی کو ڈیجیٹل میڈیا پر پیش کیے جانے والے تمام مواد تک رسائی حاصل ہے۔ عوامی اور علاقائی گروپوں کے درمیان ڈیجیٹل تقسیم کی علامات موجود ہیں۔ جدت یا اختراع کا کوئی امکان موجو نہیں۔


اس ملک میں لوگ ڈیجیٹل شراکت داری بڑھانے کے لیے سرگرمی سے مواقع تلاش کرتے ہیں اور وہ مستقبل میں ان مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں گے۔ موجودہ دور میں یہاں ڈیجیٹل حقوق پر جزوی پابندی عائد ہے۔ صحافی اور میڈیا اکثر آزادانہ کام نہیں کر سکتے۔ معاشرے کے مختلف گروپوں کو اس وقت ڈیجیٹل میڈیا سے مستفید ہونے کے یکساں مواقع میسر نہیں ہیں۔ عوامی اور علاقائی گروپوں کے درمیان ڈیجیٹل تقسیم کی علامات موجود ہیں۔ جدت  یا اختراع کے امکانات کم ہیں۔


لوگوں میں ڈیجیٹل شرکت داری کی شرح بلند ہے اور یہ مستقبل میں بھی ممکنہ تخلیقی مواقع کی تلاش جاری رکھیں گے۔ یہاں زیادہ تر لوگوں کو ڈیجیٹل حقوق کے تحفظ کی ضمانت حاصل ہے۔ صحافی اور میڈیا عام طور پر آزادانہ کام کرسکتے ہیں۔ معاشرے کے زیادہ تر طبقات ڈیجیٹل میڈیا سے مستفید ہو رہے ہیں۔ یہاں عوامی اور علاقائی بنیادوں پر ڈیجیٹل تقسیم کی علامات کم ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں جدت کو بھر پور طریقے سے اپنایا جا رہا ہے۔


اس ملک کے لوگ ڈیجیٹل شراکت داری کا اعلیٰ معیار حاصل کر چکے ہیں اور یہ صورت حال مستقبل میں بھی ایسی ہی رہنے کا امکان ہے۔ شہریوں کو ڈیجیٹل حقوق کی مکمل ضمانت حاصل ہے۔ صحافی اور میڈیا آزادانہ طور پر اپنا کام کر سکتے ہیں۔ معاشرے کے تمام طبقات کو ڈیجیٹل میڈیا سے فائدہ اٹھانے کے یکساں مواقع میسر ہیں۔ یہاں عوامی اور علاقائی بنیادوں پر ڈیجیٹل تقسیم کی علامات موجود نہیں۔ اس کے علاوہ یہاں جدت بھرپور انداز میں موجود اور بین الاقوامی دنیا سے جڑی ہوئی ہے۔

نتائج کی ایک اور شکل گروپس (یا کلسٹرز) کی صورت میں بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ ہم ہر ایک گروپ سے متعلق مضامین اور جدول (گرافس) کے ذریعے اپنے تجزیے کی سمری پیش کریں گے۔

کن ممالک میں ڈیجیٹل شراکت داری کا جائزہ لیا جا رہا ہے؟

ڈی ڈبلیو اکیڈیمی نے 2018ء میں یوگنڈا سے اپنے اس کام کا آغاز کیا اور پھر اس کے بعد گھانا اور کینیا میں بھی تحقیق کی گئی۔ ہم 2018ء اور 2019 ء میں لاطینی امریکا، مشرقی یورپ، مشرق وسطیٰ اور کئی ایشیائی ممالک میں بھی ڈیجیٹل شراکت داری کی صورت حال کا جائزہ لیں گے۔