بنگلہ دیش: چھوٹے ٹائیگر کے بڑے منصوبے | حالات حاضرہ | DW | 25.12.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بنگلہ دیش: چھوٹے ٹائیگر کے بڑے منصوبے

بنگلہ دیش کا شمار دنیا کے غریب ممالک میں ہوتا ہے لیکن یہ انتہائی تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہے۔ ٹیکسٹائل برآمدات کی وجہ سے اس کی معیشت توانا ہو رہی ہے اور اس میدان میں یہ پاکستان اور بھارت کو پیچھے چھوڑ چکا ہے۔

بنگلہ دیش ترقی کر رہا ہے اور کئی شعبوں میں وہ ’جنوبی ایشیائی ممالک کے لیے ایک مثال‘ ہے۔ یہ الفاظ حکومتی سربراہ شیخ حسینہ کے نہیں ہیں، جو تیس دسمبر کے انتخابات کے ذریعے دوبارہ اقتدار میں آنا چاہتی ہیں۔ یہ الفاط مؤقر برطانوی جریدے ’اکانومسٹ‘ کے ہیں۔ ایک سو پینسٹھ ملین نفوس پر مشتمل اس ملک کی گزشتہ دہائی کی ترقی قابل ستائش ہے۔

سن دو ہزار آٹھ کے بعد سے اس ملک کی اقتصادی شرح نمو چھ فیصد سے زائد چلی آ رہی ہے۔ گزشتہ برس جی ڈی پی کی سالانہ شرح سات اعشاریہ تین فیصد رہی، جو کہ بھارت اور پاکستان سے بھی زیادہ ہے۔ اگر امریکی ڈالر کو بنیاد بنایا جائے، تو اس ملک میں  فی کس سالانہ پیداوار پاکستان سے زیادہ بنتی ہے۔

پاکستان کو ’بنگلہ دیش بننے‘ کے لیے کتنا وقت درکار ہے؟

بنگلہ دیش کی سالانہ اقتصادی نمو میں صنعتی حصہ تقریباﹰ تیس فیصد بنتا ہے جبکہ انیس سو اکہتر میں پاکستان سے علیحدگی کے وقت اس دور کے مشرقی پاکستان میں یہ حصہ صرف سات فیصد تھا۔ سن انیس سو ستر میں اس کو ایک تباہ کن طوفان کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا، جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

Bangladesch Textilfabrik Dhaka | Arbeiterinnen (Getty Images/AFP/M. uz Zaman)

اگر امریکی ڈالر کو بنیاد بنایا جائے، تو اس ملک میں  فی کس سالانہ پیداوار پاکستان سے زیادہ بنتی ہے

بعد ازاں بنگلہ دیش کے پہلے حکومتی سربراہ شیخ مجیب الرحمان کا کہنا تھا کہ اس وقت لاشوں کی تدفین کے لیے کفن کی خاطر کپڑا بھی کافی نہیں تھا۔ اب یہی ملک پاکستان اور بھارت دونوں سے زیادہ ٹیکسٹائل مصنوعات برآمد کرتا ہے۔

بھارت اور پاکستان سے آگے

بنگلہ دیش میں بچوں کی شرح اموات بھی پاکستان اور بھارت سے کم ہے جبکہ اس ملک میں اسکول جانے والے بچوں کی شرح بھی ان دونوں ملکوں سے کہیں زیادہ فیصد ہے۔ بنگلہ دیش کے شہریوں کی متوقع اوسط عمر بھی پاکستان اور بھارت کے شہریوں سے زیادہ ہے۔

واشنگٹن میں انٹرنیشنل فوڈ پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے گلوبل ہنگر انڈکس کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس بنگلہ دیش میں خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے شہریوں کی تعداد ساڑھے چھبیس فیصد تھی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس ملک کو ابھی تک سنگین مسائل کا سامنا ہے لیکن سن انیس سو بانوے کے مقابلے میں یہ تعداد نصف ہے۔ اس وقت یہ شرح تریپن اعشاریہ چھ فیصد بنتی تھی۔ دوسری جانب پاکستان اور بھارت میں غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے شہریوں کی تعداد اس سے زیادہ ہے۔

بنگلہ دیش کی اس کامیابی کے پیچھے بنیادی وجہ بچوں کی شرح پیدائش ہے۔ عالمی بینک کے سن دو ہزار سولہ کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں پچوں کی شرح پیدائش فی عورت 3.5 ہے جبکہ بنگلہ دیش میں یہ شرح بھارت (2.3) سے بھی کم ہے، جو 2.1 بنتی ہے۔

اس کے علاوہ حکومتی ترقیاتی منصوبے بھی اس ملک کی اقتصادی ترقی کا باعث بن رہے ہیں۔ یہ ملک نہ صرف چین بلکہ بھارت کی توجہ کا بھی مرکز ہے۔ یہ دونوں ممالک اپنے اثر و رسوخ میں اضافے کے لیے بنگلہ دیش میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔

اکانومسٹ کے مطابق بنگلہ دیش کے آئندہ مزید ترقی کرنے کے مواقع اور امکانات بہت زیادہ ہیں لیکن داخلی سیاست کی وجہ سے وہ اپنی اقتصادی ترقی کی راہ میں خود ہی ایک بڑی رکاوٹ بھی بن سکتا ہے۔

DW.COM