1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تصویر: MUNIR UZ ZAMAN/AFP/Getty Images

بنگلہ دیش میں ساحل پر عید، سینکڑوں روہنگیا مہاجرین گرفتار

5 مئی 2022

بنگلہ دیشی پولیس نے کم از کم ساڑھے چار سو ایسے روہنگیا مہاجرین کو گرفتار کر لیا، جو ساحل پر عیدالفطر کی خوشیاں منا رہے تھے۔ اس جنوبی ایشیائی ملک میں لاکھوں روہنگیا مہاجرین کو اپنے کیمپوں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں۔

https://www.dw.com/ur/%D8%A8%D9%86%DA%AF%D9%84%DB%81-%D8%AF%DB%8C%D8%B4-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%B3%D8%A7%D8%AD%D9%84-%D9%BE%D8%B1-%D8%B9%DB%8C%D8%AF-%D9%85%D9%86%D8%A7%D9%86%DB%92-%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92-%D8%B3%DB%8C%D9%86%DA%A9%DA%91%D9%88%DA%BA-%D8%B1%D9%88%DB%81%D9%86%DA%AF%DB%8C%D8%A7-%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%AC%D8%B1%DB%8C%D9%86-%DA%AF%D8%B1%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%B1/a-61695082

بنگلہ دیش میں کوکس بازار سے جمعرات پانچ مئی کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق حکام  نے بتایا کہ گرفتار کیے گئے روہنگیا نسل کے مسلمان مہاجرین کی تعداد کم از کم بھی 450 بنتی ہے۔ جنوبی ایشیائی ملک میانمار میں 2017ء میں ملکی فوج کی طرف سے روہنگیا نسلی اقلیت کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیے جانے کے بعد تقریباﹰ ایک ملین روہنگیا باشندے ہمسایہ ملک بنگلہ دیش میں پناہ گزین ہو گئے تھے۔ روہنگیا ایک بےوطن برادری ہے، جس کے افراد کو میانمار میں بنگالی مہاجرین سمجھا جاتا ہے۔

مہاجر کیمپوں سے باہر نکلنا ممنوع

میانمار میں روہنگیا کے خلاف  فوجی کریک ڈاؤن کو اسی سال مارچ میں امریکہ نے باقاعدہ طور پر نسل کشی بھی قرار دے دیا تھا۔ اس کریک ڈاؤن کے دوران اپنی جانیں بچانے کے لیے جو روہنگیا باشندے بنگلہ دیش میں پناہ گزین ہوئے تھے، ان کی موجودہ تعداد تقریباﹰ نو لاکھ بیس ہزار بنتی ہے۔ وہ گزشتہ کئی برسوں سے ایسے کیمپوں میں مقیم ہیں، جن کے ارد گرد خار دار تاریں لگی ہوئی ہیں اور جن سے باہر نکلنے کی ان کو اجازت نہیں۔

بنگلہ دیش: پناہ گزین کیمپوں میں آتشزدگی سے ہزاروں روہنگیا بے گھر

پولیس کے مطابق جن روہنگیا مہاجرین کو گرفتار کیا گیا، وہ کوکس بازار کے ایک ایسے مشہور ساحلی علاقے میں عید منا رہے تھے، جہاں جانے کی ان کو اجازت نہیں تھی۔ ان مسلم مہاجرین کو عیدالفطر کی چھٹیوں کے دوسرے روز کل بدھ چار مئی کو رات گئے مارے گئے چھاپوں کے دوران حراست میں لیا گیا۔

انڈونیشیا نے بالآخر روہنگیا مسلمانوں کو ملک میں داخل ہونے  کی اجازت دے دی

پولیس ترجمان رفیق الاسلام نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا، ''کوکس بازار کا ساحلی علاقہ دنیا کے سب سے بڑے ساحلی علاقوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں سے 450 سے زائد روہنگیا مہاجرین کو گرفتار کیا گیا۔ انہیں اپنے کیمپوں سے نکلنے کی اجازت نہیں تھی۔ یہ گرفتاریاں اس لیے عمل میں آئیں کہ ان روہنگیا باشندوں کی ساحل پر موجودگی خطرے کی بات تھی۔‘‘

جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات

بنگلی دیشی حکام اپنے ملک میں زیادہ تر کوکس بازار کے ضلع میں مقیم ان لاکھوں روہنگیا مہاجرین پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ کئی طرح کے جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں اور خاص طور پر ان کی ساحلی علاقے میں موجودگی ان لاکھوں سیاحوں کے لیے خطرناک تھی، جو بڑے قومی یا مذہبی تہواروں کے موقع پر اس ساحلی علاقے کا رخ کرتے ہیں۔

بنگلہ دیش میں روہنگیا مہاجر کیمپ پر قبضے کی جنگ

بنگلہ دیش: کیا روہنگیا پناہ گزین سیکورٹی کے لیے خطرہ ہیں؟

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ گرفتار شدہ روہنگیا مہاجرین میں ایسے نابالغ لڑکے بھی شامل ہیں، جن کی عمریں صرف تیرہ برس ہیں۔ زیر حراست ایک بیس سالہ روہنگیا خاتون نے بتایا کہ وہ پہلی مرتبہ کوکس بازار کے ساحل پر گئی تھی، جہاں پولیس نے اسے اس کے شوہر اور بچوں سمیت گرفتار کر لیا۔

ساحل مہاجر کیمپوں سے چالیس کلومیٹر دور

بنگلہ دیش میں پولیس حالیہ مہینوں میں روہنگیا مہاجرین کے کیمپوں میں بلا اجازت چلائی جانے والی تقریباﹰ تین ہزار دکانیں اور چند مقامی نجی اسکول منہدم بھی کر چکی ہے۔ ملک کے ڈپٹی کمشنر برائے مہاجرین کے مطابق ساحل سے گرفتار کیے گئے روہنگیا باشندوں کو جلد واپس ان کے کیمپوں میں بھیج دیا جائے گا۔

جن ساڑھے چار سو سے زائد مہاجرین کو گرفتار کیا گیا، وہ اپنے کیمپوں سے نکل کر تقریباﹰ 40 کلومیٹر (25 میل) کا سفر طے کر کے کوکس بازار کے مشہور ساحلی علاقے تک پہنچے تھے۔

م م / ش ر (اے ایف پی)