1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
مہاجرتایشیا

پناہ گزین کیمپوں میں آتشزدگی سے ہزاروں روہنگیا بے گھر

10 جنوری 2022

حکام کا کہنا ہے کہ بانس اور تر پال سے بنے خیموں میں آگ لگنے کی وجہ سے پانچ ہزار سے زائد روہنگیا رہائش گاہوں سے محروم ہو گئے۔ شدید سردی میں سر پر چھت نہ ہونے کی وجہ سے ان کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔

https://p.dw.com/p/45Kjx
TABLEAU | Rohingya | Bangladesh, Brand in Balukhali Cox's Bazar
تصویر: Stringer/REUTERS

بنگلہ دیش میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے جنوب مشرقی علاقے میں پناہ گزین کیمپوں میں آگ لگنے سے روہنگیا مہاجرین کے سینکڑوں گھر جل کر خاک ہو گئے، جس کی وجہ سے پانچ ہزار سے بھی زیادہ پناہ گزین بے گھر ہو کر رہ گئے ہیں۔

آگ لگنے کا واقعہ اتوار کی شام کو پیش آیا۔ پناہ گزین کیمپوں کی نگرانی کے ذمہ دار ایک پولیس افسر کامران حسین کا کہنا تھا، ''آگ کے سبب تقریبا ً1200 گھر جل کر خاک ہو گئے۔'' انہوں نے بتایا کہ آگ کی ابتدا کیمپ نمبر 16 سے ہوئی اور بانس اور ترپال سے بنی پناہ گاہوں میں بہت تیزی سے پھیل گئی، جس سے 5000 سے بھی زائد افراد بے گھر ہو گئے۔

انہوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات چیت میں کہا کہ آگ بجھانے میں دو گھنٹے سے بھی زیادہ وقت لگا۔ پناہ گزینوں سے متعلق امور کے نگراں افسر محمد شمس الضحٰی کا کہنا تھا کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو پا یا ہے کہ آخر آگ لگنے کی وجہ کیا ہو سکتی ہے۔

متاثرین کے تاثرات

بائیس سالہ روہنگیا پناہ گزیں عبد الرشید کا کہنا تھا کہ ان کے گھر میں آگ اتنی تیزی سے لگی کہ وہ جان بچانے کے لیے باہر بھاگے۔ '' میرے گھر میں جو کچھ بھی تھا سب جل گیا۔ میری اہلیہ اور بچہ اس وقت گھر سے باہر تھے۔ لیکن گھر میں بہت کچھ ضروری سامان تھا جو سب خاک ہو گیا۔ اب ہم کھلے آسمان کے نیچے رہنے پر مجبور ہیں۔ میرے سارے خواب چکنا چور ہو گئے۔''

گزشتہ برس مارچ میں بھی بنگلہ دیش میں پناہ گزینوں کی سب سے بڑی بستی میں آگ لگنے سے 15 افراد ہلاک اور تقریباً 50,000 بے گھر ہو گئے تھے۔ انتیس سالہ روہنگیا پناہ گزین محمد یاسین نے کیمپوں میں فائر سیفٹی آلات کی کمی پر افسوس کا اظہار کیا۔

Bangladesch | Brand zerstört Ronhingya Flüchtlingscamp in Cox's Bazar
تصویر: KM Asad/ZUMA/picture-alliance

ان کا کہنا تھا، ''یہاں اکثر آگ لگ جاتی ہے۔ ہمارے پاس آگ بجھانے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ پانی نہیں تھا۔ میرا گھر جل گیا ہے۔ بہت سے دستاویزات، جو میں میانمار سے لایا تھا وہ بھی جل گئے ہیں۔ اور اس وقت یہاں بہت سردی ہے۔''

میانمار سے جان بچا کر فرار ہونے والے روہنگیا پناہ گزینوں کو قبول کرنے کے لیے بنگلہ دیش کو کافی سراہا گیا ہے، لیکن ان تمام کوششوں کے باوجود ان مہاجرین کو مستقل گھر تلاش کرنے میں بہت کم کامیابی ملی ہے۔

میانمار سے آنے والے روہنگیا پناہ گزین کئی برسوں سے پناہ کی تلاش کے لیے ملائیشیا، تھائی لینڈ اور انڈونیشیا جیسے ممالک کا سفر کر رہے ہیں۔ پچھلے مہینے ہی انڈونیشیا نے روہنگیا پناہ گزینوں سے بھری ایک کشتی کو بڑی مشکل سے اپنے ملک میں پناہ کی اس وقت اجازت دی جب انسانی حقوق کی تنظیموں نے آواز اٹھائی۔ یہ کشتی انڈونیشیا کے ساحل پر کئی روز تک پھنسی رہی۔

سن 2017 میں میانمار میں ہونے والے فوجی آپریشن کے بعد سے ہی بنگلہ دیش کے جنوب مشرقی علاقوں میں تقریباً دس لاکھ روہنگیا پناہ گزین ان کیمپوں میں مقیم ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ میانمار کی حکومت نے نسل کشی کی نیت سے روہنگیاؤں کے خلاف کارروائی کی جبکہ میانمار کے حکام اس سے انکار کرتے ہیں۔

ص ز/ ج ا (روئٹرز، اے  ایف پی)

روہنگیا مہاجرین کے کیمپوں میں کورونا وائرس پھیلنےکا خوف

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں