’بلوچستان میں سکیورٹی مخدوش لیکن کرسمس کی تیاریاں بھرپور‘ | حالات حاضرہ | DW | 23.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’بلوچستان میں سکیورٹی مخدوش لیکن کرسمس کی تیاریاں بھرپور‘

سکیورٹی کے مخدوش حالات، مہنگائی اور مذہبی ہم آہنگی کے برعکس تمام تر مسلح واقعات کے باوجود پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں بھی کرسمس اور نیا مسیحی سال منانے کے لیے اقلیتی مسیحی برادری کی طرف سے بھرپور تیاریاں جاری ہیں۔

کرسمس کے موقع پر صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت صوبے بھر میں بہت سے گرجا گھروں کو خوب سجایا گیا ہے اور مسیحی برادری کی جانب سے اس حوالے سے عبادات اور دعائیہ تقاریب کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ کوئٹہ کے وسط میں واقع جناح روڈ ، عبدالستار روڈ، لیاقت بازار اور دیگر کاروباری مراکز میں کرسمس اور نئے سال کی خریداری کرنے والے افراد کا رش بھی بڑھ گیا ہے۔

رنگ برنگے برقی قمقموں سے سجی مارکیٹوں میں کرسمس کے تحائف کے طور پر دی جانے والی اشیاء سمیت خوبصورت موم بتیاں،سانتاکلاز کے لباس، مٹھائیاں، اورخوبصورت کرسمس ٹری بھی رکھے گئے ہیں۔ کرسمس کے باعث بلوچستان میں صوبائی محکمہ خزانہ نے مسیحی ملازمین کی ماہ دسمبرکی تنخواہیں بھی 18 دسمبر کو ہی ادا کردی تھیں تاکہ وہ اپنے اس مذہبی تہوار کو بھرپور طریقے سے منا سکیں۔

پاکستان میں کرسمس تقریبات پر خوف کے سائے

رواں ماہ کوئٹہ میں زرغون روڈ پر واقع میتھل میتھوڈسٹ چرچ پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد کرسمس کے حوالے سے اس سال بلوچستان بھر میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کے بقول کرسمس کے موقع پر دہشت گردی کی کسی بھی ممکنہ واردات سے بروقت نمٹنے کے لیے سکیورٹی کا ایک جامع پلان مرتب کیا گیا ہے۔

ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’بلوچستان میں دہشت گردی کی تازہ لہرکے باعث سکیورٹی انتظامات کا ازسرنو جائزہ لیا گیا ہے۔ کوئٹہ میں تمام گرجا گھروں اور اقلیتی برادری کے دیگر مذہبی مقامات سمیت رہائشی علاقوں کی سکیورٹی بھی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ شدت پسند اقلیتی برادری پر حملے کر کے ایک نئے زاویے سے حکومت کی رٹ چیلنج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ گزشتہ ماہ سرحدی شہر چمن اور رواں ماہ کوئٹہ میں زرغون روڈ پر واقع مشہور چرچ پر جو حملہ کیا گیا، ان کی کڑیاں آپس میں ملتی ہیں۔‘‘

کرسمس کے موقع پر معافی، جرمنی میں آٹھ سو سے زائد قیدی رہا

سرفراز بگٹی نے بتایا کہ کوئٹہ کے تمام گرجا گھروں کے باہر سادہ لباس میں ملبوس سکیورٹی اہلکاروں کو بھی گشت پر مامور کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا، ’’کرسمس اور نئے سال کی مناسبت سے ہونے والی تمام تقاریب کے لیے مشترکہ سکیورٹی پلان ترتیب دیا گیا ہے۔ پولیس، ایف سی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار ایسے مقامات پر بھی تعینات کیے گئے ہیں، جہاں لوگوں کی آمد و رفت زیادہ ہوتی ہے۔ گرجا گھروں میں تمام افراد کو ’واک تھرو‘ دروازوں سے ہو کر داخلے کی اجازت دی جا رہی ہے تاکہ کوئی بھی مشتبہ یا مسلح شخص ان عبادت گاہوں میں داخل نہ ہوسکے۔‘‘

بلوچستان میں گرجاگھروں کی مجموعی تعداد 60 ہے جن میں کرسمس کے حوالےسے 35 کو حساس قراردیا گیا ہے۔ جن گرجا گھروں کو حساس قرار دیا گیا ہے، ان میں سے اکثر کوئٹہ میں واقع ہیں۔ صوبائی محکمہ داخلہ کے ذرائع کے مطابق حفاظتی انتظامات کے تحت صوبے کے تمام گرجا گھروں کے داخلی اور بیرونی حصوں کے باہر ویڈیو کیمرے بھی نصب کیے گئے ہیں۔

سکیورٹی امور کے سینئر تجزیہ کار میجر ریٹائرڈ عمر فاروق کے بقول شدت پسند تنظیمیں ایک ’منظم سازش کے تحت‘ اقلیتوں کو نشانہ بنا رہی ہیں تاکہ عوام میں مذہبی منافرت کو ہوا دی جا سکے۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’اقلیتوں پر حالیہ حملے ایک سازش کا حصہ ہیں۔ ہمیں اس سازش کو سنجیدگی سے لینا ہو گا۔ ملک دشمن عناصر بیرونی ایجنڈے کے تحت پاکستان میں ایک بار پھر مذہبی منافرت کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اقلیتوں پر حملوں کے لیے بلوچستان میں ماحول انتہا پسندوں کے لیے سب سے زیادہ سازگار ہے۔‘‘

کرسمس  منانے پر انتہا پسند ہندوؤں کی دھمکیاں

بلوچستان میں حالیہ دہشت گردانہ حملوں کے بعد اگرچہ مسیحی برادری کے باشندے اپنی سلامتی کے حوالےسے فکر مند ہیں تاہم ان کی اکثریت نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا ہے کہ حکومت ان کی حفاظت کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔

لیاقت ولیم کوئٹہ نواں کلی کا رہائشی ہے۔ مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والا 55 سالہ ولیم کوئٹہ کے ایک نجی اسکول میں پڑھاتا ہے۔ وہ ان فراد میں شامل تھا، جو زرغون روڈ پر واقع چرچ پر حالیہ حملے کے وقت اس عبادت گاہ کے اندر موجود تھے۔ لیاقت کا کہنا ہے کہ چرچ حملے کے بعد اس پر شدید خوف کی کیفیت تھی، جو اب کافی کم ہو چکی ہے۔

ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے لیاقت ولیم نے کہا، ’’دہشت گردانہ حملوں کے خبریں تو آئے روز سننے کو ملتی ہیں۔ لیکن میرے لیے وہ دن کسی قیامت سے کم نہیں تھا جب میتھوڈسٹ چرچ میں ہر طرف دہشت گرد گولیاں برسا رہے تھے۔ اس روز چرچ میں خون کی جو ہولی کھیلی گئی، اس نے ہمارے ذہنوں پر گہرے نقوش چھوڑے۔‘‘

لیاقت ولیم نے مزید کہا کہ کوئٹہ میں اگرچہ خوف کے سائے بدستور موجود ہیں تاہم مسیحی کرسمس کی تیاریاں کرتے ہوئے پرعزم ہیں کہ شدت پسندوں کا سماجی اتحاد اور باہمی یکجہتی کے ذریعے ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔ کوئٹہ میونسپل کارپوریشن کے 28 سالہ مسیحی ملازم ذاکر مسیح نے بتایا، ’’موجودہ حالات کو ہم نے اپنے لیے ایک امتحان کے طور پر لیا ہے۔ جو عناصر ہمیں نشانہ بنا کر بدامنی پھیلا رہے ہیں، وہ کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ بلوچستان کے لوگ امن اور بھائی چارے کی فضا قائم کرنے کے لیے متحد ہیں۔ ہم ان انتہا پسندوں کو ناکام بنا دیں گے، ہمیں کرسمس کے موقع پر خوشیوں کو غم میں بدل دینا چاہتے ہیں۔‘‘

بلوچستان میں سیاسی امور کے ماہر ندیم خان کے بقول وقت کے ساتھ ساتھ ملک میں عدم برداشت میں جو اضافہ ہوا ہے، اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’اس وقت ملک میں جو عدم برداشت اور نفرت پھیل رہی ہے، اسے ختم کرنے کے لیے مؤثر اقدمات بہت ضروری ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ مذاہب کے مابین ہم آہنگی کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کرے۔‘‘

DW.COM