برلن مذاکرات: یوکرینی اور امریکی نمائندوں کی امن کوششیں تیز
وقت اشاعت 15 دسمبر 2025آخری اپ ڈیٹ 15 دسمبر 2025
آپ کو یہ جاننا چاہیے
- برلن مذاکرات: یوکرینی اور امریکی نمائندوں کی امن کوششیں تیز
- بونڈائی بیچ فائرنگ واقعہ، ہتھیاروں سے متعلق قوانین سخت کرنے پر اتفاق
- اسرائیلی فوج کا مغربی کنارے کے نور شمس پناہ گزین کیمپ میں 25 رہائشی عمارتیں گرانے کا منصوبہ
- کمبوڈیا کا تھائی لینڈ پر انگکور مندروں کے قریب بمباری کا الزام
- سعودی عرب میں رواں سال ریکارڈ 340 افراد موت کے گھاٹ اتار دیے گئے
- مراکش کے ساحلی شہر صافی میں اچانک سیلاب، ہلاکتوں کی تعداد 37 ہو گئی
- یورپی رہنما یوکرین کی حمایت مضبوط کرنے کے لیے متحرک
- پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے سال کی آخری قومی ویکسینیشن مہم کا آغاز
- فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے بونڈائی بیچ حملے کی مذمت
برلن مذاکرات: یوکرینی اور امریکی نمائندوں کی امن کوششیں تیز
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندوں کے مابین برلن میں ہونے والے مذاکرات میں جنگ کے خاتمے کی جانب ’’حقیقی پیش رفت‘‘ کے دعوے سامنے آ رہے ہے۔ یوکرین کے چیف مذاکرات کار رستم عمروف نے پیر کے روز سوشل میڈیا پر بتایا کہ جرمن دارالحکومت میں جاری طویل سفارت کاری تعمیری اور نتیجہ خیز رہی۔
عمروف کے مطابق امید ہے کہ دن کے اختتام تک ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو امن کے قریب تک لے جائے، تاہم انہوں نے متنازعہ امور، جیسے علاقائی رعایتوں اور سکیورٹی ضمانتوں کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔ صدر زیلنسکی نے مسلسل دوسرے روز بھی صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیئرڈ کشنر سے ملاقات کی، جو جرمن چانسلر فریڈرش میرس کی میزبانی میں ہوئی۔
اگرچہ امریکی ایلچی نے بھی پیش رفت کا ذکر کیا، تاہم مذاکرات سے باخبر ایک اہلکار کے مطابق واشنگٹن اب بھی امن بات چیت کے بدلے یوکرین سے مشرقی ڈونباس کے خطے کا کنٹرول چھوڑنے کا مطالبہ کر رہا ہے، جسے کییف اپنے لیے ایک ’’سرخ لکیر‘‘ قرار دیتا ہے۔
یوکرین کا موقف ہے کہ روس کے حق میں کسی بھی علاقائی رعایت سے قبل جنگ بندی ضروری ہے۔
بعد ازاں پیر کی شام یورپی رہنماؤں کا ایک اجلاس بھی متوقع ہے، جس میں برطانیہ، فرانس، اٹلی، پولینڈ اور فن لینڈ کے رہنماؤں کے علاوہ نیٹو اور یورپی یونین کے سربراہان بھی شامل ہوں گے۔ اس اجلاس میں صدر زیلنسکی بھی شرکت کریں گے۔ اس اجلاس کو یوکرین کے ساتھ یورپی یکجہتی کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یورپی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے سے ’’منصفانہ امن‘‘ یقینی بننا چاہیے تاکہ مستقبل میں روسی جارحیت کا راستہ بند کیا جا سکے۔ یوکرین نے عندیہ دیا ہے کہ وہ نیٹو کی رکنیت کے معاملے پر اصولی طور پر لچک دکھا سکتا ہے، بشرطیکہ اسے مضبوط اور قابل عمل سکیورٹی ضمانتیں دی جائیں۔
ادھر ماسکو میں کریملن نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے بنیادی مطالبات، خصوصاً علاقائی شرائط اور یوکرین کی نیٹو میں ممکنہ شمولیت سے دستبرداری، پر قائم رہے گا۔ روسی حکام کے مطابق ماسکو برلن میں زیر بحث امریکی تجاویز کی تفصیلات کا انتظار کر رہا ہے۔
بونڈائی بیچ فائرنگ واقعہ، ہتھیاروں سے متعلق قوانین سخت کرنے پر اتفاق
آسٹریلیا میں گزشتہ تقریباً تین دہائیوں کی بدترین فائرنگ کے واقعے کے بعد ملکی قیادت نے اسلحہ قوانین مزید سخت کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ یہ حملہ سڈنی کے مشہور ساحل بونڈائی بیچ پر یہودی تہوار حنوکہ کی ایک تقریب کے دوران کیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ ایک باپ اور بیٹے نے وہاں اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ایک بچے سمیت 15 افراد ہلاک اور 42 زخمی ہو گئے۔
حکام کے مطابق حملہ آوروں نے اتوار کی شام اس تقریب میں شریک ہزاروں افراد پر فائرنگ کی، جس سے ساحل پر بھگدڑ مچ گئی۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک 10 سالہ بچی، ایک ہولوکاسٹ سروائیور خاتون اور ایک مقامی ربی بھی شامل ہیں۔
اس واقعے کے بعد وزیر اعظم انتھونی البانیزی نے ریاستی اور علاقائی رہنماؤں کا ایک ہنگامی اجلاس بلایا، جس میں ملک بھر میں اسلحہ قوانین کو مزید مؤثر بنانے پر اتفاق کیا گیا۔
حکومت اسلحہ رکھنے والوں کی بیک گراؤنڈ چیکنگ سخت کرنے، غیر ملکی شہریوں کو اسلحہ لائسنس دینے پر پابندی اور قانونی اسلحے کی اقسام محدود کرنے پر غور کرے گی۔ آسٹریلیا میں 1996 کے پورٹ آرتھر قتل عام کے بعد بڑے پیمانے پر اصلاحات کی گئی تھیں، جن میں اسلحہ واپسی اسکیم، قومی اسلحہ رجسٹر اور نیم خودکار ہتھیاروں پر پابندی شامل تھے۔
پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ حملہ آوروں نے اسلحہ کیسے حاصل کیا؟ حکام کے مطابق یہ حملہ یہودی برادری میں خوف پھیلانے کے لیے کیا گیا اور وزیر اعظم نے اسے ایک یہود مخالف دہشت گردانہ حملہ قرار دیا۔ فائرنگ کے بعد قریب ہی کھڑی ایک گاڑی سے دیسی ساختہ بم بھی برآمد ہوا۔
اس واقعے کے دوران بعض افراد نے غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے زخمیوں کی مدد کی اور بچوں کو محفوظ مقامات تک پہنچایا۔ اس واقعے پر آسٹریلیا بھر میں سوگ منایا جا رہا ہے، قومی پرچم سرنگوں رہا اور بونڈائی بیچ پر متاثرین کی یاد میں ایک تعزیتی اجتماع بھی ہوا۔
یہ واقعہ ایسے وقت پر پیش آیا ہے جب آسٹریلیا میں پہلے ہی یہود مخالف حملوں کے باعث یہودی برادری میں تشویش پائی جاتی ہے۔ عالمی رہنماؤں نے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے۔
اسرائیلی فوج کا مغربی کنارے کے نور شمس پناہ گزین کیمپ میں 25 رہائشی عمارتیں گرانے کا منصوبہ
اسرائیلی فوج رواں ہفتے مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی علاقے میں واقع نور شمس پناہ گزین کیمپ میں 25 رہائشی عمارتیں مسمار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ مقامی حکام کے مطابق یہ عمارتیں تقریباً 100 خاندانوں کے گھروں پر مشتمل ہیں۔ طولکرم گورنریٹ کے گورنر عبداللہ کامل نے اے ایف پی کو بتایا کہ انہیں یہ اطلاع اسرائیلی وزارت دفاع کے ادارے کوگاٹ (COGAT) کی جانب سے دی گئی ہے، تاہم کوگاٹ نے اس معاملے پر کوئی بھی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
طولکرم کیمپ کی عوامی کمیٹی کے سربراہ فیصل سلامہ کے مطابق فوج اور سول رابطہ حکام نے آگاہ کیا ہے کہ 18 دسمبر بروز جمعرات ان عمارتوں کو منہدم کیا جائے گا۔ اسرائیلی فوج نے اے ایف پی کی طرف سے رابطے پر صرف اتنا کہا کہ وہ اس معاملے کو دیکھ رہی ہے۔
اسرائیل 1967کی جنگ کے بعد سے مغربی کنارے پر قابض ہے۔ 2025 کے آغاز میں اسرائیلی فوج نے شمالی ویسٹ بینک کے پناہ گزین کیمپوں، جن میں نور شمس، طولکرم اور جنین شامل ہیں، میں ایک وسیع فوجی کارروائی شروع کی تھی، جس کے بارے میں اسرائیلی موقف ہے کہ یہ کارروائی مسلح فلسطینی گروہوں کے خاتمے کے لیے کی گئی تھی۔ اس کارروائی کے نتیجے میں ان علاقوں کے تمام رہائشی بے گھر ہو گئے اور 30 ہزار سے زائد افراد اب تک اپنے گھروں کو واپس نہیں لوٹ سکے۔
اس کارروائی کے دوران اسرائیلی فوج نے کیمپوں کی تنگ گلیوں میں واقع سینکڑوں گھروں کو منہدم کیا تاکہ فوجی دستوں کے لیے رسائی آسان بنائی جا سکے۔ نور شمس سمیت مغربی کنارے کے یہ پناہ گزین کیمپ 1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد قائم ہوئے تھے، جب بہت بڑی تعداد میں فلسطینی اپنے گھروں سے بے دخل ہوئے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ کیمپ گنجان آباد علاقوں میں تبدیل ہو گئے، جہاں کے رہائشی نسل در نسل مہاجرین کی حیثیت سے زندگی گزار رہے ہیں۔
کمبوڈیا کا تھائی لینڈ پر انگکور مندروں کے قریب بمباری کا الزام
کمبوڈیا نے پیر کے روز تھائی لینڈ پر الزام عائد کیا کہ اس نے سرحدی تنازعے کے دوبارہ بھڑکنے کے دوران کمبوڈیائی حدود کے اندر حملے کرتے ہوئے سیئم ریپ صوبے پر بمباری کی، جہاں صدیوں پرانے انگکور مندر واقع ہیں۔ یہ کمبوڈیا کی سب سے بڑی سیاحتی کشش ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ اس تنازعے کے دوران تھائی فوج نے اس صوبے کو نشانہ بنایا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تنازعے کی جڑیں نوآبادیاتی دور سے جڑی ہیں۔ دونوں ممالک کی باہمی سرحد 800 کلومیٹر طویل ہے۔ جولائی میں دونوں ملکوں کے درمیان پانچ روزہ جھڑپوں کے دوران درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بعد میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی ہوئی تھی، تاہم چند ماہ کے اندر یہ سیزفائر معاہدہ ٹوٹ گیا تھا۔ رواں ماہ دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی میں اب تک فوجیوں اور عام شہریوں سمیت کم از کم 31 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ تقریباً آٹھ لاکھ افراد بے گھر بھی ہو گئے ہیں۔
کمبوڈیا کی وزارت دفاع کے مطابق پیر کے روز ایک تھائی جنگی طیارے نے سیئم ریپ صوبے کے ضلع سری سنام میں بے گھر شہریوں کے ایک کیمپ کے قریب بمباری کی۔ یہ علاقہ انگکور واٹ کے مشہور آثارِ قدیمہ سے کچھ ہی فاصلے پر واقع ہے۔ وزیر اطلاعات نیتھ فیکترا نے کہا کہ یہ کمبوڈیا کی حدود میں اب تک کا سب سے اندر تک کیا گیا حملہ ہے، جو سرحد سے 70 کلومیٹر سے زائد اندر ہے اور کسی بھی متنازعہ علاقے سے بھی دور ہے۔
ان کے مطابق اس بمباری کے نتیجے میں پہلے سے بے گھر سینکڑوں خاندانوں کو ایک بار پھر محفوظ مقامات کی جانب فرار ہونا پڑا۔ دونوں ممالک ایک دوسرے پر جھڑپیں شروع کرنے اور شہریوں کو نشانہ بنانے کے الزامات عائد کر رہے ہیں، جبکہ ہر فریق اپنے عسکری اقدام کو دفاعی ردعمل قرار دیتا ہے۔
سعودی عرب میں رواں سال ریکارڈ 340 افراد موت کے گھاٹ اتار دیے گئے
اے ایف پی کے اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب نے رواں سال موت کی سزاؤں پر عمل درآمد کا اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا۔ پیر کے روز مزید تین افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ یوں رواں سال اب تک سزائے موت پانے والوں کی مجموعی تعداد 340 ہو گئی ہے۔ یہ مسلسل دوسرا سال ہے کہ سعودی عرب نے اپنی ہی سابقہ بلند ترین تعداد کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ 2024 میں یہ تعداد 338 تھی۔
سعودی وزارت داخلہ کے مطابق مکہ ریجن میں تین افراد کو قتل کے مقدمات میں سزائے موت دی گئی۔ تاہم اے ایف پی کے مطابق رواں سال دی گئی مجموعی سزاؤں میں سے 232 کا تعلق منشیات کے مقدمات سے تھا، جو اکثریت بنتی ہے۔ تجزیہ کار اس اضافے کو سعودی عرب کی 2023 میں شروع کی گئی ’’منشیات کے خلاف جنگ‘‘ سے جوڑتے ہیں، جس کے تحت بڑی تعداد میں گرفتار افراد کو اب عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔
سعودی عرب نے تقریباً تین سال کے وقفے کے بعد 2022 کے آخر میں منشیات کے مقدمات میں سزائے موت پر دوبارہ عمل درآمد شروع کیا تھا۔ اقوام متحدہ کے مطابق سعودی عرب دنیا میں کیپٹاگون نامی نشہ آور مادے کی بڑی منڈیوں میں سے ایک ہے، جو شام میں بشار الاسد کے دور میں ایک بڑی غیر قانونی برآمد تھی۔
منشیات کے خلاف مہم کے تحت ملک بھر میں شاہراہوں اور سرحدی گزرگاہوں پر چیک پوسٹس کی تعداد بڑھا دی گئی ہے، جہاں ایسی کئی ملین نشہ آور گولیاں ضبط اور درجنوں اسمگلر گرفتار کیے گئے۔
انسانی حقوق کے گروپوں کے مطابق اس مہم کا سب سے زیادہ نشانہ غیر ملکی شہری بن رہے ہیں، حالانکہ سعودی عرب اپنی معیشت کے کئی شعبوں میں غیر ملکی محنت کشوں پر انحصار کرتا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیمیں سعودی عرب میں سزائے موت کے وسیع تر استعمال پر بھی سخت تنقید کر رہی ہیں۔ ریپریو نامی تنظیم کی نمائندہ ہیریئٹ مکلوچ کے مطابق بیشتر افراد پرتشدد جرائم میں ملوث نہیں تھے اور ان کو پھانسی دینا بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ سزائے موت کا تسلسل ولی عہد محمد بن سلمان کے وژن 2030 کے تحت ایک جدید اور کھلے سعودی معاشرے کے عکس کو نقصان پہنچاتا ہے۔
تاہم سعودی حکام کا موقف ہے کہ سزائے موت عوامی نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے اور اس پر تمام قانونی اپیلوں کے بعد ہی عمل کیا جاتا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق چین اور ایران کے بعد سعودی عرب گزشتہ چند برسوں سے دنیا میں سزائے موت دینے والا تیسرا بڑا ملک رہا ہے۔
مراکش کے ساحلی شہر صافی میں اچانک سیلاب، ہلاکتوں کی تعداد 37 ہو گئی
مراکش کے ساحلی شہر صافی میں اختتام ہفتہ پر آنے والے اچانک سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 37 ہو گئی ہے۔ مقامی حکام کے مطابق 14 افراد اب بھی زیر علاج ہیں، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں مراکش میں پیش آنے والا سب سے ہلاکت خیز موسمیاتی واقعہ ہے، جبکہ پیر کے روز بھی تلاش اور امدادی کارروائیاں جاری رہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا تھا کہ کیچڑ آلود سیلابی پانی صافی کی سڑکوں پر گاڑیوں اور کچرے کے ڈبوں کو بہا لے جا رہا تھا۔
صافی دارالحکومت رباط سے تقریباً 300 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔ اگرچہ مراکش میں شدید موسم اور سیلاب غیر معمولی نہیں، تاہم ملک اس وقت مسلسل ساتویں سال شدید خشک سالی کا شکار ہے۔ جنرل ڈائریکٹوریٹ آف میٹیورولوجی کے مطابق 2024 مراکش کی تاریخ کا سب سے گرم سال رہا، جس میں اوسط بارش معمول سے 24.7 فیصد کم ریکارڈ کی گئی۔
یاد رہے کہ 1995 میں مراکش میں اچانک سیلاب کے باعث سینکڑوں افراد ہلاک ہو گئے تھے اور حالیہ واقعے نے ایک بار پھر موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرناک اثرات کو اجاگر کر دیا ہے۔
یورپی رہنما یوکرین کی حمایت مضبوط کرنے کے لیے متحرک
یورپی رہنما پیر کے روز یوکرین کی حمایت کو مزید مضبوط کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، ایک ایسے وقت پر جب واشنگٹن کییف پر زور دے رہا ہے کہ وہ امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والے مجوزہ امن معاہدے کو جلد قبول کرے۔ برلن میں امریکی نمائندوں اور یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کے درمیان اتوار کو ہونے والی ملاقات کے بعد، یوکرینی اور یورپی حکام یورپ کے امن اور سلامتی کے تحفظ کے لیے مزید مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
فن لینڈ کے صدر الیکسانڈر اسٹب، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور زیلنسکی کے درمیان رابطوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، پیر کی صبح جرمن دارالحکومت برلن میں موجود تھے۔ زیلنسکی نے اتوار کو ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیئرڈ کشنر سے ملاقات کی، جس کا مقصد تقریباً چار سال سے جاری روسی یوکرینی جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار کرنا تھا۔ امریکی حکومت کے مطابق ان پانچ گھنٹے طویل مذاکرات میں ’’نمایاں پیش رفت‘‘ ہوئی ہے۔
صدر زیلنسکی نے عندیہ دیا ہے کہ اگر امریکہ اور دیگر مغربی ممالک نیٹو جیسی مضبوط سکیورٹی ضمانتیں دیں، تو یوکرین نیٹو میں شمولیت کی اپنی درخواست واپس لینے پر غور کر سکتا ہے، تاہم کییف نے روس کے حق میں اپنا علاقہ چھوڑنے کے مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پوٹن کا مطالبہ ہے کہ یوکرین ڈونباس کے ان علاقوں سے اپنی فوجیں نکالے جو اب بھی کییف کے کنٹرول میں ہیں۔
ادھر روس اور یوکرین کے ایک دوسرے پر ڈرون حملے بھی جاری ہیں۔ کییف حکومت کے مطابق روس نے گزشتہ شب یوکرین پر 153 ڈرونز کے ذریعے حملے کیے، جبکہ روس کا کہنا ہے کہ اس نے درجنوں یوکرینی ڈرونز کو مار گرایا، جن کے ساتھ ماسکو پر بھی حملے کیے گئے تھے، جن کے باعث عارضی طور پر ہوائی اڈے بند کرنا پڑ گئے۔
پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے سال کی آخری قومی ویکسینیشن مہم کا آغاز
پاکستانی حکام نے پیر کے روز ملک بھر میں سال کی آخری انسداد پولیو مہم شروع کر دی، جس کا مقصد 4 کروڑ 50 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کی ویکسین کے قطرے پلانا ہے۔ حکام کے مطابق رواں سال اب تک پولیو کے 30 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں رپورٹ ہونے والے 74 کیسز کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہیں۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق پاکستان اور ہمسایہ ملک افغانستان دنیا کے صرف دو ایسے ممالک ہیں، جہاں اب تک پولیو کا مکمل خاتمہ نہیں ہو سکا۔ یہ مہم پاکستان کی رواں سال کی پانچویں قومی پولیو ویکسینیشن مہم ہے، جو مسلسل سکیورٹی خدشات کے باوجود جاری رکھی جا رہی ہے۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے والدین پر زور دیا ہے کہ وہ پولیو ویکسینیشن ٹیموں سے تعاون کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف اعداد و شمار کا معاملہ نہیں، ہر کیس ایک بچے کے مستقبل اور معاشرے کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔
حکام کے مطابق چار لاکھ سے زائد فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز بلوچستان، سندھ، خیبر پختونخوا، پنجاب، گلگت بلتستان، پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر اور اسلام آباد میں گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو ویکسین کے قطرے پلا رہے ہیں۔ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ہزاروں پولیس اہلکاروں کو طبی ٹیموں کی حفاظت پر مامور کیا گیا ہے، کیونکہ ماضی میں شدت پسند عناصر پولیو ورکرز اور ان کی حفاظت کے ذمہ دار پولیس اہلکاروں کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔
فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے بونڈائی بیچ حملے کی مذمت
فلسطینی اتھارٹی نے سڈنی کی بونڈائی بیچ پر حنوکہ کی ایک یہودی مذہبی تقریب کے دوران دو مسلح افراد کی طرف سے فائرنگ کے ہلاکت خیز واقعے کی سخت مذمت کی ہے۔
فلسطینی خبر رساں ایجنسی وفا کے مطابق فلسطینی اتھارٹی نے اپنے ایک بیان میں ہر قسم کی انتہا پسندی اور دہشت گردی، خصوصاً عام شہریوں کے قتل کو مسترد کرتے ہوئے متاثرین کے اہل خانہ، آسٹریلوی حکومت اور عوام سے اظہارِ تعزیت کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ بیان میں غزہ پٹی اور مغربی کنارے میں اسرائیل کی جانب سے فلسطینی شہریوں کی ہلاکتوں کی بھی مذمت کی گئی۔
ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے آسٹریلیا پر یہود دشمنی کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے جیسے اقدامات یہود مخالف جذبات کو ہوا دیتے ہیں۔ نیتن یاہو کے مطابق انہوں نے چار ماہ قبل وزیر اعظم انتھونی البانیزی کو ایک خط لکھ کر خبردار کیا تھا کہ آسٹریلوی پالیسیوں سے یہود دشمنی کو تقویت مل رہی ہے۔
نیتن یاہو نے ایک راہگیر کی جرأت مندانہ کارروائی کو سراہا جس نے ایک حملہ آور کو اسلحے سے محروم کیا اور بتایا کہ وہ شخص ایک مسلمان تھا۔ انہوں نے مغربی ممالک سے مطالبہ کیا کہ یہود دشمنی کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں۔
یہ بیانات ایسے وقت پر سامنے آئے ہیں جب غزہ پٹی کی جنگ کے تناظر میں کئی ممالک بشمول آسٹریلیا نے رواں سال ریاست فلسطین کو تسلیم کیا ہے۔ اسرائیل کا موقف ہے کہ اس سے یہودیوں کے خلاف تشدد کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے جبکہ فلسطینی اتھارٹی ہر قسم کے تشدد اور شہریوں کے قتل کی مخالفت پر زور دیتی ہے۔