بجٹ سے پہلے شہباز شریف کی پاکستان واپسی | حالات حاضرہ | DW | 09.06.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بجٹ سے پہلے شہباز شریف کی پاکستان واپسی

شہباز شریف کی واپسی ایسے وقت ہوئی ہے جب پی ٹی آئی کی حکومت کو آنے والے دنوں میں کئی سیاسی و معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔

پاکستان میں قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف برطانیہ میں دو ماہ قیام کے بعد واپس پاکستان پہنچ گئے۔

اتوار کی علی الصبح لاہور ایئرپورٹ پر لیگی رہنماؤں اور کارکنوں نے ان کا استقبال کیا۔

کیا مریم نواز شریف کے بیانیے کو آگے بڑھا پائیں گی؟

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی: شہباز شریف پیچھے کیوں ہٹے؟ افواہیں گرم

چند دن پہلے تک پی ٹی آئی حکومت کے وزراء کا بارہا اصرار تھا کہ شہباز شریف احتساب سے بھاگ کر لندن گئے ہیں اور واپس نہیں آئیں گے۔

مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب کی واپسی پر وزیراعظم عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف کا طیارہ لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اُتر گیا ہے، آپ کے گھبرانے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔

مریم اورنگزیب نے مزید کہا کہ 'عمران خان اب جھوٹ اور مصنوعی بیانیے سے عوام کو بیوقوف نہیں بنا سکتے۔‘

ادھر وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے ایک بیان میں الزام لگایا کہ شہباز شریف لندن میں این آر او کے لئے کوششیں کرتے رہے اور انہوں نے دو ہفتے کی مہلت کو دو مہینوں میں بدل دیا۔ انہوں نے مزید کہا، ”لندن کی سڑکوں پر جس برق رفتاری سے شہباز صاحب چلتے پھرتے نظر آئے، اس سے نہیں لگتا کہ ان کو کوئی تکلیف ہے، امید ہے کہ اب وہ بیرون ملک نہیں جائیں گے اور عدالتوں میں باقاعدگی سے حاضری دیں گے۔‘‘

شہباز شریف کی واپسی ایسے وقت ہوئی ہے جب پی ٹی آئی کی حکومت کو آنے والے دنوں میں کئی سیاسی و معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔

اس ہفتے حکومت کو قومی اسمبلی میں سالانہ بجٹ پیش کرنا ہے۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کے تحت تیار کیا جانے والا یہ بجٹ عام شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کرے گا، جس سے حکومت دباؤ میں آئے گی۔

آنے والے دنوں میں نواز لیگ اور پیپلز پارٹی سمیت اپوزیشن کی دیگر جماعتیں بھی اکھٹے بیٹھنے کی تیاری کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ احتساب کے نام پر انتقامی کارروائیاں بند ہونی چاہیئیں۔

ادھر ملک میں وکلاء تنظیمیں جسٹس فائز عیسیٰ پر صدارتی ریفرنس کے خلاف اسی ہفتے احتجاج اور دھرنے شروع کرنے جا رہی ہیں۔

اس سارے ماحول سے پاکستان میں جون کی گرمی میں سیاسی درجہ حرارت بھی بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔

شہباز شریف کو قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے کئی مقدمات کا سامنا ہے، جن میں آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل اور رمضان شوگر مل  کیس شامل ہیں۔ انہیں پچھلے سال اکتوبر میں نیب نے گرفتار کر کے اپنی حراست میں رکھا تھا۔ بعد میں عدالت نے انہیں ضمانت پر رہا کر دیا۔

شہباز شریف، لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کے حکم کے بعد نو اپریل کو لندن گئے تھے۔

ش ج / ع ت

DW.COM