بانجھ خواتین کے لیے امید کی نئی کرن | سائنس اور ماحول | DW | 02.10.2013
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

سائنس اور ماحول

بانجھ خواتین کے لیے امید کی نئی کرن

عالمی سائنسدانوں نے کہا ہے کہ ایک نئے طریقہ کار کے تحت بانجھ عورت کی بیضہ دانی ایک مرتبہ پھر تخم پیدا کرنے کے قابل ہو گئی، جس کے نتیجے میں وہ نہ صرف حاملہ ہوئی بلکہ اس نے بچے کو کامیاب طریقے سے جنم بھی دے دیا۔

امریکی سائنسی جریدے ننشنل اکیڈمی آف سائنسز میں شائع ہونے والی ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس طریقہ کار کے تحت یہ دوسری بانجھ خاتون تھیں، جو حاملہ ہوئیں۔ نیوز ایجنسی اے ایف پی نے اس رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس نئے سائنسی طریقے سے جس خاتون نے بچے کو جنم دیا ہے، اس کا تعلق جاپان سے ہے۔

اس کامیاب تجربے کے بعد سائنسدانوں نے البتہ خبردار کیا ہے کہ یہ طریقہ کار ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں ہے تاہم آئندہ برسوں کے دوران ایسی خواتین بھی ماں بننے کے قابل ہو سکیں گی، جن کی بیضہ دانیاں تخم پیدا کرنے کی حالت میں نہیں ہیں۔ خواتین میں پائی جانے والی اس حالت کو بیضہ دانی یا اووَریز کا ناکارہ ہو جانا کہا جاتا ہے۔ اس صورتحال میں ایسی کسی بھی خاتون کو ماں بننے کے لیے تخم ام‍داد میں لینے پڑتے ہیں۔

تاہم اب نئی سائنسی پیشرفت کے بعد اب ایسا امکان پیدا ہو گیا ہے کہ مستقبل میں بانجھ خواتین کو بچہ پیدا کرنے کے لیے تخم مستعار لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی بلکہ ان کی بیضہ دانی میں ایک ہلکی سے تحریک پیدا کرنے کے بعد ان میں موجود تخم یا انڈے ایکٹیو ہو سکیں گے۔

Ultraschall Untersuchung Schwangerschaft Bauch Frau Arzt

یہ طریقہ کار ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں ہے

اس نئی ریسرچ میں ایسی ستائیس خواتین کو شامل کیا گیا، جن کی بیضہ دانیاں مقررہ عمر سے پہلے ناکارہ ہو چکی تھیں۔ ان خواتین کی اوسط عمر 37 برس بتائی گئی ہے، جو اوسط عمر سے سات برس قبل ہی ’مینو پاز‘ تک پہنچ چکی تھیں۔ ان تمام خواتین نے اس تجربے کا حصہ بننے پر رضا مندی ظاہر کرتے ہوئے اپنی بیضہ دانیاں نکلوانے کی اجازت بھی دی۔

اس ریسرچ میں شامل اسٹنفورڈ یونیورسٹی سے وابستہ گائنیکولوجسٹ اور نوزائیدہ بچوں کے ماہر ایرن حضوح (Aaron Hsueh) نے بتایا، ’’ ہمارا یہ طریقہٴ علاج خاتون کی اوری یا بیضہ دانی میں پہلے سے ہی موجود خلیوں یعنی سیلز کو جگانے میں کامیاب ہو گیا اور نتیجتاﹰ اس نے تخم پیدا کرنا شروع کر دیے۔‘‘ اس ریسرچ کے نتائج کے مطابق اس تجربے میں شامل دیگر چار خواتین میں سے ایک حاملہ ہو چکی ہے، دو کی ٹریٹمنٹ ابھی جاری ہے جب کہ ایک خاتون حاملہ نہیں ہو سکی ہے۔

کئی عالمی سائنسدانوں نے جاپانی اور امریکی سائنسدانوں کی صدیوں پرانی اس بیماری سے نمٹنے کی اس کوشش کو سراہا ہے تاہم کچھ ماہرین نے اس طریقہ کار پر کچھ تحفظات بھی ظاہر کیے ہیں۔ نیویارک کے ایک معروف ڈاکٹر ایلن کوپرمین کہتے ہیں کہ اس نئے طریقہ کار پر کوئی رائے دینا ابھی قبل از وقت ہو گا، ’’ جو خواتین بیضہ دانی کے مسائل کا شکار ہیں، ان کے لیے اس ٹریٹمنٹ کو ممکن بنانے کے لیے ابھی کئی سال لگ جائیں گے۔‘‘

DW.COM