بارہ اکتوبر 1999: جب فوج نے نواز شریف حکومت کا تختہ الٹ دیا | حالات حاضرہ | DW | 12.10.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بارہ اکتوبر 1999: جب فوج نے نواز شریف حکومت کا تختہ الٹ دیا

بارہ اکتوبر 1999ء پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک سیاہ دن ہے۔ اس روز فوجی آمر جنرل پرویز مشرف نے ملکی وزیر اعظم نواز شریف کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر انہیں گرفتار کر لیا تھا۔

نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹنے والے پاکستان آرمی کے سربراہ جنرل پرویز مشرف جو بعد میں پاکستان کے صدر بھی بن گئے تھے

نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹنے والے پاکستان آرمی کے سربراہ جنرل پرویز مشرف جو بعد میں پاکستان کے صدر بھی بن گئے تھے

نواز شریف کی مخالف سیاسی جماعتوں نے منتخب حکومت کے خاتمے پر مٹھائیاں تقسیم کی تھیں لیکن پھر وقت گزرنے کے ساتھ ہی سب کو اپنی غلطی کا احساس بھی ہو گیا تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق 12 اکتوبر 1999 کا سانحہ دراصل کارگل کی جنگ کی وجہ سے نواز شریف اور جنرل پرویز مشرف کے درمیان شروع ہونے والی لڑائی کا نقطہ عروج تھا، کیونکہ نواز شریف کارگل میں مہم جوئی کے بعد پرویز مشرف کی مرضی کے خلاف امریکا گئے تھے اور انہوں نے فوجی دستے  واپس بلانے کے احکامات جاری کر دیے تھے، جس سے فوج میں بے چینی پھیل گئی تھی۔ پھر بالآخر یہی بے چینی حکومت اور فوج کے درمیان سرد جنگ کی شکل اختیار کر گئی تھی۔

'وزیر اعظم معافی مانگنے امریکا جارہا ہے‘

جب پاکستان میں تیار کی گئی آگسٹا آبدوز کی افتتاحی تقریب کے لیے جنرل پرویز مشرف بطور آرمی چیف کراچی آئے، تو انہو نے غیر رسمی بات چیت میں یہ بھی کہا تھا کہ نواز شریف امریکا جانے والے ہیں۔ تب ان کے الفاظ تھے، ''تمہارا وزیر اعظم معافی مانگنے امریکا جا رہا ہے۔‘‘

Premierminister Pakistan Nawaz Sharif mit US-Präsident Bill Clinton

پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کی جولائی 1999ء میں واشنگٹن میں امریکی صدر بل کلنٹن کے ساتھ لی گئی ایک تصویر

بارہ اکتوبر کو اسلام آباد میں کیا ہوا تھا؟

وزیر اعظم نواز شریف نے سری لنکا کے دورے پر گئے ہوئے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل پرویز مشرف کو برطرف کر کے جنرل ضیاء الدین بٹ کو نیا آرمی چیف مقرر کر دیا، لیکن نئے آرمی چیف کا فوج کے جنرل ہیڈکوارٹرز کا دورہ ابھی باقی تھا۔ پرویز مشرف جو وطن واپسی کے لیے روانہ ہو چکے تھے، ان کے طیارے کو ملک میں کہیں بھی اترنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا تھا۔ پھر اچانک فوجی جوان وزیر اعظم ہاؤس کے گیٹ پھلانگ کر اندر داخل ہو گئے، فوج کی جانب سے وزیر اعظم سے استعفٰی طلب کیا گیا اور انکار پر نواز شریف کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

اللہ سب خیر کرے گا، کورکمانڈر عثمانی

اسلام آباد کی طرح کراچی میں بھی ٹی وی اور ریڈیو سمیت دیگر اہم تنصیبات پر فوج تعینات کر دی گئی تھی۔ کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل مظفر حسین عثمانی پرویز مشرف کو لینے ایئر پورٹ پہنچے تو آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل محمود بھی وہاں پہنچ چکے تھے۔ ضیاء الدین بٹ کے مطابق کور کمانڈر عثمانی پرویز مشرف کا استقبال کرنے ایئر پورٹ نہیں جانا چاہتے تھے، مگر نئے آرمی چیف کی ہدایت پر وہ ایئر پورٹ گئے تھے۔

یہ اسی وقت کی بات ہے کہ تب راقم الحروف کی جنرل عثمانی سے ایئر پورٹ لاؤنج میں ملاقات ہوئی تھی، تو وہ صرف یہ کہہ کر کنٹرول ٹاور کی طرف بڑھ گئے تھے، ''اللہ خیر کرے گا۔‘‘ کنٹرول ٹاور میں جنرل عثمانی اور جنرل محمود کی ملاقات ہوئی اور طیارے کو لینڈنگ کے لیے رن وے خالی رکھنے کی ہدایت جاری کر دی گئی تھی۔

طیارے سے باہر آنے پر پرویز مشرف خاصے پرسکون اور مطمئن دکھائی دے رہے تھے۔ ایئر پورٹ پر موجود دونوں جرنیلوں نے طیارے سے اترنے پر پرویز مشرف کو سلیوٹ کیا تھا، جس کے بعد سب واضح ہوگیا تھا کہ تب ملک کی کمان کس کے ہاتھ میں تھی۔

طیارہ اغوا سازش کیس

جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف، شہباز شریف اور ان کے دیگر ساتھیوں کے خلاف طیارہ اغوا کرنے کی سازش کا کیس بنایا۔ یہ مقدمہ غیر معمولی طور پر طیارے میں سوار پرویز مشرف یا کسی دوسرے مسافر کی مدعیت میں درج کیے جانے کے بجائے زمین پر موجود ایک فوجی افسر کی درخواست پر درج کیا گیا تھا۔ مقدمہ کئی برس تک انسداد دہشت گردی کی عدالت میں زیر سماعت رہا، جس میں زیادہ سے زیادہ سزا موت کی ہو سکتی تھی۔ مگر نواز شریف، شہباز شریف، شاہد خاقان عباسی اور سینیٹر سیف الرحمان کو عمر قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ قانونی ماہرین کہتے ہیں اگر کسی جرم کی سزا موت ہو تو مجرم کو عمر قید کی سزا سنائے جانے کو مجرم کی فتح سے ہی تعبیر کیا جاتا ہے۔

DW.COM