بابر اعظم الیون کو ’ابر کرم‘ نے بچا لیا | کھیل | DW | 03.11.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

کھیل

بابر اعظم الیون کو ’ابر کرم‘ نے بچا لیا

پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین پہلا ٹی ٹوئنٹی بارش کی نذر ہو گیا۔ پاکستان کے لیے ’ابر کرم‘ اگر تھم جاتا تو سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں مہمان ٹیم کی جیت یقینی تھی۔

آسٹریلیا اور پاکستان کے مابین تین ٹی ٹوئنٹی سیریز کے سلسلے میں اتوار کے دن سڈنی میں کھیلا گیا پہلا میچ بارش کی وجہ سے مکمل نہ ہو سکا۔ محدود اوورز کے اس فارمیٹ میں بابر اعظم کی کپتانی میں پاکستانی ٹیم اپنا پہلا میچ کھیلی۔

سری لنکا کے خلاف ہوم سیریز میں ناقص کارکردگی کے تناظر میں پاکستان کے دورہ آسٹریلیا کو مشکل قرار دیا جا رہا تھا لیکن پہلے میچ میں پاکستانی بلے بازوں نے خدشات سے زیادہ بری پرفارمنس دکھائی۔

تاہم بارش کی وجہ سے پاکستان شکست سے بچ گیا۔ یوں یہ خراب موسم پاکستانی کرکٹ ٹیم کے لیے 'ابر کرم‘ میں بدل گیا۔ آسٹریلوی کپتان ایرون فنچ نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔ مسلسل بارش کی وجہ سے پاکستان کی اننگز پندرہ اوورز تک محدود کر دی گئی، جس میں پاکستانی بلے بازوں نے پانچ وکٹوں کے نقصان پر صرف ایک سو سات رنز ہی بنائے۔

اس میں کپتان بابر اعظم اور محمد رضوان کی عمدہ  بلے بازی کے علاوہ کوئی بھی  بلے باز آسٹریلوی بولنگ کا مقابلہ نہ کر سکا۔ بابر اعظم نے 59 رنز بنائے جبکہ دوسرے نمایاں بلے باز سابق کپتان سرفراز احمد کی جگہ ٹیم کا حصہ بننے والے وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان رہے، جنہوں نے 31 رنز کی انفرادی اننگز کھیلی۔

آسٹریلوی اوپنرز نے ایک آسان ہدف کا تعاقب شروع کیا تو معلوم ہو رہا تھا کہ فنچ اور ڈیوڈ وارنر یہ میچ دس اوورز سے پہلے ہی ختم کر ڈالیں گے لیکن بارش نے ان کا راستہ روک دیا۔ فنچ نے محمد عرفان کے ایک ہی اوور میں چوبیس رنز بنائے۔ جب بارش کی وجہ سے میچ بغیر نتیجے کے ختم ہوا تو آسٹریلوی اوپنرز نے 3.1 اوورز میں اکتالیس رنز بنا لیے تھے۔

میچ مکمل نہ ہو سکنے پر آسٹریلوی کپتان فنچ نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی ٹیم کو ایک سو سات رنز تک محدود کرنا ایک عمدہ کوشش تھی۔ ٹی ٹوئنٹی سیریز کا دوسرا میچ کینبرا میں پانچ نومبر کو کھیلا جائے گا جبکہ تیسرا اور آخری میچ جمعہ آٹھ نومبر کو پرتھ میں منعقد کیا جائے گا۔

اس پہلے میچ میں ناقص کارکردگی کے بعد پاکستانی ٹیم کے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق کو اپنی حکمت عملی اور کھلاڑیوں کی فارم پر سوچنا ہو گا۔ اس وقت پاکستانی ٹیم ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی عالمی رینکنگ پر پہلے نمبر پر ہے لیکن اگر پاکستان یہ سیریز ہار یا تو آسٹریلیا کی ٹیم پاکستان کی جگہ نمبر ایک پر آ سکتی ہے۔

DW.COM