ایک سال میں 3771 مہاجرین ڈوب گئے، آئی او ایم | مہاجرین کا بحران | DW | 05.01.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ایک سال میں 3771 مہاجرین ڈوب گئے، آئی او ایم

گزشتہ سال پناہ کی تلاش میں یورپ کا رخ کرنے والے مہاجرین کی تعداد لاکھوں میں رہی۔ بحیرہ روم اور بحیرہ ایجیئن عبور کر کے دس لاکھ سے زائد پناہ گزین یورپ پہنچے اور 3771 ایسی کوششوں میں ہلاک بھی ہوئے۔

بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرین (آئی او ایم) نے اپنے تازہ اعداد و شمار میں بتایا ہے کہ گزشتہ برس بحیرہ ایجیئن اور بحیرہ روم عبور کر کے یورپ پہنچنے کی کوشش میں 3771 پناہ گزین ڈوب کر ہلاک ہوئے۔

آئی او ایم کے ترجمان یوئل ملمان نے جرمن خبررساں ادارے ڈی پی اے سے کی گئی ایک گفتگو میں کہا، ’’2015ء میں یورپ کا رخ کرنے والے مہاجرین اور تارکین وطن کے لیے ہلاکت خیز سال رہا۔‘‘

آئی او ایم نے گزشتہ مہینے بھی ڈوبنے والے تارکین وطن کی تعداد کے بارے میں معلومات جاری کی تھیں۔ کرسمس تہوار سے قبل جاری کیے گئے اعداد و شمار میں بتایا گیا تھا کہ بحیرہ روم اور بحیرہ ایجیئن کے ذریعے یورپ پہنچنے کی کوشش میں 3692 مہاجرین ہلاک ہوئے۔

2015ء کے آخری ہفتے میں بھی مزید 79 افراد سمندر کی لہروں کی نذر ہوئے۔ آئی او ایم کے مطابق 2014ء کے مقابلے میں گزشتہ برس کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ 2014ء کے دوران 3279 افراد بحیرہ روم اور بحیرہ ایجیئن کے خطرناک سمندری راستوں میں ہلاک ہوئے تھے۔

بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرین نے یہ بھی بتایا ہے کہ 2015ء میں دس لاکھ سے زائد پناہ گزین سمندری راستہ اختیار کر کے یورپ پہنچے۔ یہ تعداد گزشتہ برس کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ ہے۔ 2014ء میں ترک اور لیبیا کے ساحلوں سے بحیرہ روم اور بحیرہ ایجیئن عبور کر کے یورپ پہنچنے والے پناہ گزینوں کی تعداد دو لاکھ انیس ہزار رہی تھی۔

گزشتہ برس کے دوران مجموعی طور پر 5350 مہاجرین اور تارکین وطن ہلاک ہوئے۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ بحیرہ روم کے علاوہ جنوب مشرقی ایشیا میں بھی آٹھ سو سے زائد تارکین وطن ہلاک ہوئے۔ جب کہ 330 مہاجرین میکسکو اور امریکا کے سرحد پر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

DW.COM

اشتہار