ایک جرنیل، ایک جرنیل سے لبیک، لبیک تک | دستک | DW | 23.11.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

بلاگ

ایک جرنیل، ایک جرنیل سے لبیک، لبیک تک

ایک طرف عاصمہ جہانگیر انسانی حقوق کانفرنس میں ’ایک جرنیل، ایک جرنیل‘ کے نعرے لگ رہے تھے تو دوسری طرف کچھ ہی فاصلے پر ٹی ایل پی کے کارکن خادم رضوی کے عرس میں ’لبیک، لبیک‘ کے نعرے بلند کر رہے تھے۔

گویا ستر کی دہائی کا ادبی گہوارہ پاک ٹی ہاؤس والا لاہور پوری عدلیہ، میڈیا، وکلاء، اساتذہ اور سول سوسائٹی کی نمایاں ہستیوں کے اکٹھ میں آواری ہوٹل میں جگمگا رہا تھا، وہیں چند گز کے فاصلے پر 80 کی دہائی میں وطن عزیز میں در آنے والی ''مذہبی جنونیت‘‘ سڑکوں پر بال کھولے اپنی موجودگی کا احساس فلک شگاف نعروں سے دلا رہی تھی۔

اس شہر بے مثال میں، جہاں اب تک  داتا صاحب اور میاں میر کا عرس ہوا کرتا تھا، اب خادم رضوی کا عرس بھی ہوا کرے گا اور یقین مانیے عددی اعتبار سے اس ہجوم بے کراں نے دوسرے تمام عرسوں کو مات دے دی تھی۔ 

لاہور کے شاندار مال روڈ کی ٹھنڈی سڑک پر واقع آواری ہوٹل میں علی احمد کرد کی جاندار آواز نے عاصمہ جہانگیر کے دبنگ لہجے کی کمی پوری کر دی تھی۔ ایک جرنیل کی گردان نے حاضرین کو ایسا گرمایا کہ آزادی، آزادی کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔ سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن علی احمد کرد کا کہنا تھا، ''ایک جرنیل 22 کروڑ عوام پر حاوی ہو جاتا ہے۔ دو ہی صورتیں ہیں یا تو اس جرنیل کو نیچے آنا پڑے گا یا پھر لوگوں کو اوپر جانا پڑے گا، تب برابری ہو گی۔  پاکستان کی عدلیہ کو عالمی اعداد و شمار میں  قانون کے عالمی انڈیکس میں ایک سو چھبیس نمبر پر جرنیلوں نے پہنچایا ہے۔‘‘

جناب علی احمد صاحب کی اس بات سے اختلاف بھی کیا جا سکتا اور اتفاق بھی کہ شطرنج کی بساط پر چلنے والے مہروں کو چلانے والے نیک نامی یا رسوائی کا موجب تو بنتے ہیں لیکن اگر مہروں کے پاس مہرہ بننے یا نہ بننے کی چوائس ہو تو الزام تو مہروں پر بھی آئے گا۔

 کرد صاحب کی آواز جتنی بلند ہوتی گئی، حاضرین کے باغیانہ سُر اور تال بھی بلند سے بلند ہوتے گئے، یہاں تک کہ اعظم نذیر تارڑ صاحب کو تقریر کے دوران دخل اندازی کر کے تنبیہ کرنا پڑی کہ یہ نعرے بعد میں کسی اور سیشن میں لگا لیجیے گا، ابھی اس سیشن کو اپنے باغیانہ خیالات سے محفوظ رکھیں۔

  لیکن افسوس!  کہ دور سے آتی ''لبیک لبیک اور سر تن سے جدا‘‘ کی آوازیں لگانے والوں کو تنبیہ کرنے والا کوئی نہ تھا۔ اس محفل پروانہ و دیوانہ میں جا کر مخل ہونے کی کسی کی جرات نہ تھی۔ اس دن دو انتہاؤں کے بیچ منقسم اس شہر لاہور نے یہاں پر بسنے والوں کے بیچ کی تقسیم کو آشکار کر دیا تھا۔  یہ تقسیم بس اس قدر ہی ہے کہ علی وزیر کو جیل میں ڈال دیا جائے اور سعد رضوی کو رہا کر کے اس کے گلے میں پھولوں کے ہار ڈالے جائیں۔ اسی محفل میں موجود جناب چیف جسٹس صاحب نے علی احمد کرد صاحب کے بیانیے کو مکمل طور پر غلط قرار دیا ان کا کہنا تھا، ''آج تک کسی کی ہمت نہیں ہوئی ہمیں روکنے کی۔ ہماری عدالت جو فیصلہ کرنا چاہتی ہے، فری ہے، کرنے کے لیے وہ کرتی ہے۔ ہر ایک کا محاسبہ کرتی ہے، جس کا مقدمہ سامنے آتا ہے۔ بتا دیں کس کی ڈکٹیشن کے اوپر کون سا فیصلہ ہوا ہے آج تک؟ ایسا نہیں ہے۔ غلط فہمیاں پیدا نہیں کریں لوگوں کے اندر۔ میں اپنے ادارے کے بارے میں بات کرتا ہوں۔ لوگوں کو غلط باتیں نہیں بتائیں، انتشار نہیں پھیلائیں۔‘‘

یہ سن کر ایک تو ہمیں اسی وقت یقین ہو گیا کہ عدالتوں میں ہونے والے فیصلوں کے بیچ کوئی شے رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ وہ تو کمبخت اگلے ہی روز جسٹس ثاقب نثار کی مبینہ طور پر لیک ہونے والی ایک آڈیو نے چیف جسٹس کے بیانیے پر ہمارا ایمان متزلزل کر دیا۔ وہی مبینہ آڈیو، جس میں جسٹس ثاقب نثار اعتراف کرتے سنائی دے رہے ہیں کہ ان کو نواز شریف کو سزا دینے کا فیصلہ کرنے پر مجبور کیا گیا۔ لیکن اس آڈیو کے اصل ہونے پر بھی ابھی تک بحث جاری ہے۔ سچ کی تلاش ایک مشکل کام دکھائی دے رہا ہے۔

 لیکن یہ بات بھی درست ہے کہ اس آڈیو اور ایسی تمام آڈیوز اور ویڈیو ٹیپس کی مکمل تحقیقات ہونا چاہئیں کیونکہ غلطی مان کر مستعفی ہونے والے مغرب میں رہتے ہیں، ہماری سوسائٹی میں اس کا بلکل رواج نہیں۔ ہم اس کھیل کے آزمودہ کھلاڑیوں کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ اس ملک کے چوبیس کروڑ عوام نے اپنے ذہنوں سے جسٹس قیوم سے لے کر جسٹس منیر اور پی سی او ججز سے لے کر جسٹس ثاقب نثار کے ایسے تمام فیصلوں کو ذہن نا رسا سے کھرچ کر پھینک دیا ہے، جن کو آئے روز نا ہنجار ٹی وی اینکر اور تجزیہ نگار متنازعہ بنانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ یہ ہاتھیوں کی لڑائی ہے اور ہم اس میں پسنے کے خواہشمند نہیں۔  

دلچسپ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی، جب آخری سیشن میں نواز شریف کے خطاب کے وقت سلسلہ منقطع ہوا تو بتایا گیا کہ کسی نے تاریں کاٹ دی ہیں۔ منیزے جہانگیر کا کہنا تھا کہ ہم پہلے سے اس صورتحال کے لیے تیار ہیں، کوئی نہ کوئی جگاڑ لگا لی جائے گی اور پھر رابطہ بحال ہو گیا۔ نواز شریف کی تقریر کا لب لباب یہ تھا کہ سوال کرنے والوں کی زبانوں کو کھینچا تو نہیں جا سکتا۔ پولیٹیکل انجیئنرنگ کی فیکٹریاں لگائی جاتی ہیں اور آر ٹی ایس بند کر دیا جاتا ہے۔

پاکستان میں اس وقت گیس بجلی پانی ہو نا ہو۔ روپیہ بھلے دو ٹکے کے برابر ہو جائے لیکن آڈیو اور ویڈیوز کا ذخیرہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا اور یہ صورتحال ایک ایسے نتیجے پر جا کر اختتام پذیر ہو گی، جہاں یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ ماضی میں زور زبردستی سے کرائے گئے فیصلوں کو ریویو کرنا ہو گا۔  

پاکستان آج ایک ایسے چوراہے پر ہے، جہاں سے نکلنے والے چاروں راستے اس کی اگلی منزل کا تعین کریں گے۔ ایک راستہ لاہور کے آواری ہوٹل کے اس ہال تک آتا ہے، جہاں جسٹس قاضی فائز عیسی کو اپنے موقف کو بیباکی سے بیان کرنے کی آزادی ملتی ہے اور علی احمد کرد بھی ایک باغی کا چغہ پہنے پنڈی کی سلطنت کے در و دیوار ہلاتے نظر آتے ہیں۔ جہاں ڈاکٹر پرویز ہود بھائی کی بات سمجھنے والے موجود ہوں، جہاں  فاروق طارق جیسے لاہوری مزدور لیڈر کو بولنے کا موقع دیا جائے، جہاں جسٹس اطہر من اللہ علی احمد کرد کا شکریہ ادا کرتے دکھائی دیں کہ انہوں نے اتنے اہم نکتے کو اٹھا کر عدلیہ کو اس بات کا احساس دلایا کہ اعلی عدلیہ پر کتنی بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے، جہاں دن دیہاڑے اٹھا لیے جانے والے مطیع اللہ جان کو بولنے کی آزادی ہو تو گولی کھانے والے ابصار عالم کی شنوائی بھی ہو اور جہاں ہر طبقہ فکر اور ہر فرقہ سے متعلقہ لوگ ہر طرح کی سوچ کے حامل ایک بڑے مجمع کی صورت میں جمع ہوں، جو ایک دوسرے سے اختلاف کرتے نظر آئیں لیکن کوئی کسی کا سر تن سے جدا کا نعرہ لگانے والا ڈھونڈنے سے بھی نہ ملے۔

یہ راستہ ستر کی دہائی کے اس پاکستان کی جھلک دکھاتا ہے، جب یہاں ابھی شدت پسندی کا ناسور پروان نہیں چڑھا تھا اور نہ ہی اس معاشرے میں کتاب کی جگہ کلاشنکوف نے لی تھی۔ جس کے بارے میں ہم سنتے اور پڑھتے آئے ہیں کہ تب پاکستان تیزی سے ترقی کر رہا تھا۔

 یہی راہ اکیسویں صدی کے پاکستان کو آگے لے کر جائے گی لیکن ہم نے تہیہ کر رکھا ہے کہ ہم اس چوراہے ( کراس روڈز)  پر موجود اس روشن راستے سے نہیں بلکہ گھٹا ٹوپ اندھیرے والی اس راہ سے جائیں گے، جس طرف ہزاروں لوگ جمع ہو کر ایک ایسی آئیڈیالوجی کے بیج بوتے چلے جا رہے ہیں، جو آپ کو پتھر کے زمانے میں لے جا کر کھڑا کر دے گی، جہاں بقیہ پوری دنیا کے نوجوان اسپیس و ٹیکنالوجی کے سفر پر گامزن ہوں گے اور ہمارے بچے مدرسوں میں مولوی عزیز جیسوں کی نگرانی میں ہوں گے۔

 ہم نے اس کے لیے اہتمام بھی کر دیا ہے۔ ٹی ٹی پی اور ٹی ایل پی کو کالعدم کی فہرست سے نکال کر اب ان کو قومی دھارے میں شامل کرنے کا تاریخی فیصلہ کیا گیا ہے۔ ہمیں اسرائیل سے تعلقات قبول نہیں کیونکہ وہ فلسطینیوں کو مارتے ہیں لیکن ہمیں ٹی ٹی پی قبول ہے کیونکہ اس نے ہمارے ہی بچوں کو مارا ہے۔

 جیسے ماضی میں ہم نے ایک جن پیدا کیا پھر اس کو بوتل میں بند کیا اور پھر اس کو بوتل سے نکلنے دیا۔ اب وہ وقت بھی قریب ہے، جب ہم اس نئے جن کو بھی دوبارہ بوتل میں بند کرنے کی کوشش کریں گے لیکن وہ بوتل میں جانے سے انکاری ہو گا۔ پھر ہم زبردستی جب اس جن کو بوتل میں ڈال کر ڈھکن لگانے کی کوشش کریں گے تو یہ پچھلے والے جن کی طرح اپنا غصہ کسی اسکول کے معصوم بچوں کو خون میں نہلا کر نکالے گا۔

 لیکن ''جن  بنانے اور پروان چڑھانے‘‘  کی ہمیں عادت سی پڑگئی ہے کہ ''چھٹتی نہیں ہے ظالم منہ سے لگی ہوئی۔‘‘ یہ نشہ تو سیاسی جماعت بنانے سے بھی زیادہ دو آتشہ ہے۔ کیونکہ چناو کے دوران کسی گرتی ہوئی دیوار کو دھکا دینے یا گرتی ہوئی دیوار کو سنبھالا دینے کے لیے یہی ''بوتل کے جن‘‘  آگے بڑھ کر اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔