1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
روسی صدر کا ’جوہری ہتھیاروں‘ کو خصوصی الرٹ پر رکھنے کا حکم
روسی صدر کا ’جوہری ہتھیاروں‘ کو خصوصی الرٹ پر رکھنے کا حکمتصویر: Russian Defense Ministry via AP/picture alliance

کونسے ممالک جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں؟

28 فروری 2022

یوکرائن جنگ کے تناظر میں صدر پوٹن کی جانب سے روسی جوہری ہتھیاروں کو الرٹ پر رکھنے کے حکم کے بعد دنیا میں ایک مرتبہ پھر ایٹمی جنگ کے خطرات منڈلا رہے ہیں۔ ماضی میں بھارت اور پاکستان نے بھی جوہری حملوں کی دھمکی دی تھی۔

https://www.dw.com/ur/%D8%A7%DB%8C%D9%B9%D9%85%DB%8C-%D8%AC%D9%86%DA%AF-%DA%A9%D8%A7-%D8%AE%D8%B7%D8%B1%DB%81-%DA%A9%D9%88%D9%86%D8%B3%DB%92-%D9%85%D9%85%D8%A7%D9%84%DA%A9-%D8%AC%D9%88%DB%81%D8%B1%DB%8C-%DB%81%D8%AA%DA%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1-%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D8%B9%D9%85%D8%A7%D9%84-%DA%A9%D8%B1%D9%86%DB%92-%DA%A9%DB%8C-%D8%AF%DA%BE%D9%85%DA%A9%DB%8C-%D8%AF%DB%92-%DA%86%DA%A9%DB%92-%DB%81%DB%8C%DA%BA/a-60942446

یوکرائن میں جاری روسی عسکری کارروائیوں  کے نتیجے میں مغربی ممالک کی طرف سے صدر پوٹن سمیت ماسکو پر  سخت ترین پابندیاں  عائد کی جا رہی ہیں۔ ایسے میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن  نے ملکی جوہری ہتھیاروں کا کھل کر نام لیے بغیر انہیں خصوصی الرٹ پر رکھنے کا حکم دیا ہے۔ ماسکو حکومت کے ایک بیان کے مطابق پوٹن نے نیٹو ممالک کے رہنماؤں کی جانب سے جارحانہ بیانات کے تناظر میں ملکی وزیر دفاع اور چیف آف جنرل اسٹاف کو کہا کہ وہ روسی فوج کی 'ڈیٹیرنٹ فورسز‘ کو خصوصی الرٹ کی سطح پر رکھیں۔

سوویت یونین اور امریکا کی ممکنہ جوہری جنگ

یہ ایسا پہلا موقع نہیں، جب کسی جوہری صلاحیت کے حامل ملک  نے بالواسطہ یا بلاواسطہ جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی دی ہے۔ اکتوبر سن 1962 میں سرد جنگ  کے دوران سوویت رہنما نکیتا خروشچف اور امریکی صدر جان ایف کینیڈی کے درمیان تیرہ روزہ کشیدگی نے ایٹمی جنگ کے خدشات  کو جنم دیا تھا۔

چودہ اکتوبر کے روز امریکا سے صرف 145 کلومیٹر (90 میل) کے فاصلے پر امریکی جاسوسی طیارے نے سابقہ سوویت یونین کے درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کے لانچ پیڈ کی تصاویر بنائی تھیں۔ امریکا نے اپنی سرزمین کے قریب سوویت جوہری ہتھیاروں کی تعیناتی کے خلاف شدید غصے کا اظہار کیا۔ صدر کینیڈی نے خروشچف کو خبردار کیا کہ اگر یہ میزائل یہاں سے نا ہٹائے گئے تو امریکا سوویت یونین پر حملہ کرے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک لاکھ چالیس ہزار فوجیوں کے ساتھ کیوبا کی سمندری حدود بلاک کر دی جائیں گی۔

بعدازاں سوویت رہنما خروشچف نے اس شرط پر میزائل پیچھے ہٹانے کا اعلان کیا کہ اس کے بدلے میں امریکا کیوبا پر چڑھائی نہیں کرے گا اور ترکی سے اپنے جیوپیٹر میزائل واپس لے لے  گا۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی جنگ کا خطرہ

بھارت اور پاکستان سن 1998 میں جوہری ہتھیاروں کے کامیاب تجربے کر چکے تھے۔ مئی سن 2002 میں ان دونوں جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان کشمیر تنازعہ پر ایک مرتبہ پھر کشیدگی نے شدت اختیار کرلی تھی۔

بھارت نے 13 دسمبر 2001 کو ہونے والے نئی دہلی میں پارلیمنٹ پر حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا تھا۔ اس حملے میں چودہ افراد ہلاک ہوگئے۔ اس کے بعد اپریل 2002 ء میں پاکستانی فوجی آمر جنرل پرویز مشرف نے خبردار کیا تھا کہ بھارت کی جانب سے حملوں کے جواب میں وہ  جوہری ہتھیاروں کا تباہ کن استعمال  کر سکتے ہیں۔ اُس وقت کے بھارتی وزیر دفاع جیورج فرنانڈس نے جواب میں کہا، ''بھارت جوہری حملہ برداشت کر سکتا ہے لیکن پاکستان نہیں۔‘‘

آئندہ دو سالوں کے دوران نئی دہلی اور اسلام آباد کی طرف سے ایک دوسرے کے مقابلے میں میزائلوں کے تجربے کیے جاتے رہے لیکن پھر واشنگٹن کے دباؤ کی وجہ سے تناؤ میں کمی ہوتی گئی۔ نومبر سن 2003ء میں جنگ بندی کے اعلان کے بعد جنوری 2004ء میں مذاکرات کی راہ ہموار ہوگئی۔

امریکا کے ہیروشیما پر ایٹم بم حملے

امریکا ایسا واحد ملک ہے، جو اب تک جوہری ہتھیاروں کا استعمال کر چکا ہے۔ سن 1945 میں دو جاپانی شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی  پر امریکی حملوں میں دو لاکھ چودہ ہزار افراد ہلاک ہو گئے۔ اس کے باعث جاپان نے ہتھیار ڈال دیے اور دوسری عالمی جنگ ختم ہوگئی۔

ع آ / ا ا (اے ایف پی)

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

Israel | Palästinenser | Raketenangriffe aus dem Gzsastreifen

مصری ثالثی سے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان جنگ بندی

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں