ایف اے ٹی ایف پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کرے، بھارتی مطالبہ | حالات حاضرہ | DW | 02.05.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ایف اے ٹی ایف پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کرے، بھارتی مطالبہ

بھارتی وزیر خزانہ ارون جیٹلی کے مطابق بھارت دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے لیے ناکافی اقدامات کرنے پر پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کرنے کا مطالبہ کرے گا۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے پاکستان کو پہلے ہی سے دہشت گردی کی مالی معاونت کے انسداد کے لیے عالمی معیار کے مطابق اقدام نہ کرنے کے باعث اپنی ’گرے لسٹ‘ میں شامل کر رکھا ہے۔

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے بھی گزشتہ ماہ کہا تھا کہ بھارت پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کرانے کی کوشش کر رہا ہے جس کے نتیجے میں پاکستان کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

جمعرات کے روز بھارتی وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’ہم چاہتے ہیں کہ ایف اے ٹی ایف کی فہرست میں پاکستان کو ڈاؤن گریڈ کیا جائے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ فرانس میں قائم اس ادارے کا آئندہ اجلاس مئی کے وسط میں ہو رہا ہے جس دوران بھارت ادارے کے سامنے یہ مطالبہ رکھے گا۔

FATF Treffen 2018 Sitzung

ایف اے ٹی ایف کی اگلا اجلاس مئی کے وسط میں ہو گا

گزشتہ روز اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی کمیٹی نے عسکریت پسند گروہ جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو بلیک لسٹ کر دیا تھا۔ اس فیصلے کو سفارتی سطح پر بھارت کی جیت قرار دیا جا رہا ہے۔

پاکستان اور اس کے حریف ملک چین ماضی میں مسعود اظہر کو بلیک لسٹ کیے جانے کی کوششوں کو ناکام بناتے رہے ہیں۔ مسعود اظہر کی پاکستان میں آزادانہ سرگرمیاں پاکستان اور مغربی ممالک کے مابین تناؤ کا سبب بنتی رہی ہیں۔ بھارت کا الزام ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کو فروغ دینے کے لیے عسکریت پسند گروہوں کا سہارا لیتا ہے جب کہ پاکستان ان بھارتی الزامات کو مسترد کرتا ہے۔

ارون جیٹلی نے مسعود اظہر کو بلیک لسٹ کیے جانے کے حوالے سے کہا، ’’بنیادی بات یہ ہے کہ انہیں (مسعود اظہر کو) بین الاقوامی دہشت گرد قرار دے دیا گیا ہے۔ اب انہیں اور ان کے ملک کو اس کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘‘

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے لیے اقدامات نہ کرنے پر اپنے رکن ممالک کے علاوہ دیگر ممالک کے بارے میں بھی تجاویز مرتب کرتا ہے تاہم اس بین الاقوامی ادارے کو پابندیاں عائد کرنے کے اختیارات حاصل نہیں ہیں۔

ش ح / ع ا (روئٹرز، اے پی)

DW.COM