ایران کشیدگی میں کمی چاہتا ہے، پاکستانی وزیرخارجہ | حالات حاضرہ | DW | 18.01.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ایران کشیدگی میں کمی چاہتا ہے، پاکستانی وزیرخارجہ

پاکستانی وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ کشیدگی میں کمی کا خواہش مند ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے اور پاکستان کی کوشش ہے کہ اس میں کمی کے لیے وہ اپنا کردار ادا کرے۔

پاکستانی وزیرخارجہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ دنوں میں متعدد اہم واقعات کے بعد دونوں ملکوں کے مابین کشیدگی میں کمی کی کوشش میں مصروف ہیں۔ جمعے کے روز واشنگٹن میں اپنے امریکی ہم منصب مائیک پومپیو سے ملاقات کے بعد قریشی نے کہا کہ تہران حکومت امریکا کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتی۔

پومپیو سے ملاقات کے پانچ روز قبل شاہ محمود قریشی نے تہران میں ایرانی صدر حسن روحانی سے بھی ملاقات کی تھی۔  پومپیو کے ساتھ اس ملاقات میں پاکستانی وزیرخارجہ نے افغانستان میں امن عمل سے متعلق بھی بات چیت کی۔

’ایران کے ساتھ فوجی تنازعہ تباہ کن ہو گا‘: عمران خان کا ڈی ڈبلیو کے ساتھ خصوصی انٹرویو

امریکا ایران کشیدگی: پاکستانی وزیر خارجہ کا دورہ تہران اور ریاض

شاہ محمود قریشی نے یہ تو نہیں کہا کہ آیا وہ ایران کا کوئی پیغام امریکا تک پہنچا رہے ہیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایرانی جنگ نہیں چاہتے اور نہ ہی مزید خون ریزی ان کی خواہش ہے۔

یہ بات اہم ہے کہ تین جنوری کو امریکا نے عراقی دارالحکومت بغداد کے ہوائی اڈے کے قریب ایک فضائی کارروائی میں ایران کی القدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کو ہلاک کر دیا تھا۔ جس کے بعد آٹھ جنوری کو ایران نے عراق میں دو امریکی عسکری اڈوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا تھا۔ ان واقعات کے بعد تاہم دونوں ملکوں کی جانب سے کشیدگی میں کمی کے اشارے دیے گئے۔

پاکستان، جس کے ایران کے حریف ملک سعودی عرب کے ساتھ انتہائی گہرے تعلقات ہیں، اس کوشش میں ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات میں کھچناؤ میں کمی لائی جائے۔ شاہ محمود قریشی کے مطابق ایرانی حکومت نے اشارہ دیا ہے کہ وہ اپنے عرب ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات میں بہتری چاہتی ہے۔

قریشی نے کہا، ''وہ (ایرانی) کہہ رہے ہیں کہ وہ خطے میں امن کے لیے ہر سطح اور ہر طرح کے مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔‘‘

ویڈیو دیکھیے 01:58

پاکستان اور افغانستان سے ایران کیا توقع کر رہا ہے؟

واضح رہے کہ سن 2018 میں امریکا کی جانب سے ایرانی جوہری معاہدے سے نکل جانے اور ایران پر سخت ترین پابندیوں کے نفاذ کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ برس ستمبر میں سعودی عرب میں آرامکو کی اہم تیل تنصیبات پر ڈرون اور میزائل حملوں کی ذمہ داری گو کہ یمن میں متحرک ایران نواز حوثی باغیوں نے قبول کی تھی، تاہم  امریکا اور سعودی عرب نے ان حملوں کا الزام ایران پر عائد کیا تھا۔ ایران ان الزامات کو رد کرتا ہے۔

ع ت، ع ح (روئٹرز، اے ایف پی)