ایران نے امریکہ کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ روک دیا
وقت اشاعت 1 جون 2026آخری اپ ڈیٹ 1 جون 2026
آپ کو یہ جاننا چاہیے
- ایران نے امریکہ کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ روک دیا، ایرانی میڈیا
- لبنان میں کشیدگی کے سبب جرمن وزیر برائے ترقیاتی امور کا دورہ منسوخ
- اسرائیلی وزیراعظم نے بیروت کے جنوبی مضافات پر حملوں کا حکم دے دیا
- پاکستان ایک اہم علاقائی طاقت اور اہم شراکت دار ہے، یورپی یونین
- اعتماد کے فقدان نے سفارتی امن کوششوں کو مشکل بنا دیا ہے، ایرانی وزارت خارجہ
- مذاکرات بھی، حملے بھی: امریکہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے تہران سے معاہدے کا خواہاں بھی
ایران نے امریکہ کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ روک دیا، ایرانی میڈیا
ایرانی نیوز ایجنسی تسنیم کے مطابق ایران نے پیر کے روز ثالثوں کے ذریعے امریکہ کے ساتھ ہونے والے تمام رابطے اور پیغامات کے تبادلے معطل کر دیے، کیونکہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے سے متعلق معاہدے پر دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔
تسنیم کے مطابق ایران اور اس کے اتحادیوں پر مشتمل ’مزاحمتی محاذ‘، جس میں حزب اللہ، یمن کے حوثی باغی اور عراق کے شیعہ اتحادی شامل ہیں، نے ایک ایسا لائحہ عمل طے کیا ہے جس کے تحت آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے اور دیگر محاذوں کو فعال کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان لبنان میں کشیدگی دوبارہ بڑھ رہی ہے، جبکہ ایران مسلسل یہ موقف اختیار کر رہا ہے کہ لبنان میں مؤثر جنگ بندی کسی بھی وسیع تر امن معاہدے کی لازمی شرط ہے۔
دوسری طرف اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے پیر کے روز بیروت کے ان جنوبی مضافاتی علاقوں پر حملوں کا حکم دے دیا، جو حزب اللہ کے زیر اثر سمجھے جاتے ہیں۔
اس اقدام سے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری سفارتی کوششوں کو مزید دھچکا پہنچ سکتا ہے، کیونکہ دونوں ممالک پہلے ہی جنگ بندی میں توسیع اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے حوالے سے اہم معاملات پر اختلافات کا شکار ہیں۔
ایران کا آبنائے باب المندب کو بھی شامل کرنے کا عندیہ
رپورٹ کے مطابق نئی ایرانی حکمت عملی میں آبنائے باب المندب کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ اسرائیل اور اس کے حامیوں کو ’سزا‘ دی جا سکے۔
اگر یمن میں ایران کے اتحادی حوثی باغی اس تنازعے میں نیا محاذ کھولتے ہیں، تو باب المندب ان کے ممکنہ اہداف میں شامل ہو سکتا ہے۔ یہ بحیرہ احمر اور نہر سوئز کی جانب جانے والی عالمی بحری تجارت کے لیے ایک نہایت اہم گزرگاہ ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پیر کے روز ایک بیان میں کہا، ’’ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ کسی بھی خلاف ورزی کے نتائج کی ذمہ داری امریکہ اور اسرائیل پر عائد ہوگی۔‘‘
انہوں نے یہ بیان لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے تناظر میں دیا۔
حالات مزید بگڑنے کا خدشہ
ایرانی نیوز ایجنسی تسنیم کے مطابق ایران کا موقف ہے کہ غزہ اور لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا فوری خاتمہ اور لبنان کے مقبوضہ علاقوں سے مکمل انخلا کسی بھی مذاکراتی عمل کے لیے بنیادی شرط ہے۔
ایجنسی نے مزید لکھا، ’’جب تک ایران اور مزاحمتی محاذ کے ان مطالبات کو تسلیم نہیں کیا جاتا، کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔‘‘
اگر آبنائے ہرمز یا باب المندب میں بحری آمد و رفت مزید متاثر ہوتی ہے، تو اس کے عالمی سطح پر تیل، مائع قدرتی گیس اور تجارتی سامان کی ترسیل پر سنگین معاشی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
لبنان میں کشیدگی کے سبب جرمن وزیر برائے ترقیاتی امور کا دورہ منسوخ
جرمنی کی وزیر برائے ترقیاتی امور ریم الابلی رادووان کا لبنان کا دورہ پیر کے روز اس وقت منسوخ کر دیا گیا جب ان کی پرواز بیروت کی جانب گامزن تھی۔ متعلقہ جرمن وزارت نے اس کی تصدیق کر دی ہے۔
جرمن وفاقی وزارت برائے ترقیاتی امور کے ایک بیان میں کہا گیا، ’’بیروت میں تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال کے مسلسل جائزے کی بنیاد پر یہ فیصلہ فوجی وجوہات کی بنا پر کیا گیا۔‘‘
رادووان اپنے دو روزہ دورے کے دوران ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہملیشیا اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے اثرات کا جائزہ لینا چاہتی تھیں۔ اس دورے میں ان کے ہمراہ ناروے کے وزیر اسمنڈ گروور آؤکرسٹ بھی شامل ہونے والے تھے۔
اس دورے کے دوران ان کی صدر جوزف عون، سماج امور کی وزیر سعید حنین اور وزیر تعلیم ریما کریمی سے ملاقاتیں طے تھیں۔
ان ملاقاتوں میں لبنان میں اندرون ملک بے گھر ہونے والے افراد کی صورتحال پر خصوصی توجہ مرکوز کی جانا تھی، کیونکہ ابھی تک جاری تنازعے کے باعث وہاں لاکھوں افراد متاثر ہو چکے ہیں۔
حالیہ دنوں میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے ملکی فوج کو بیروت کے مضافات میں ’حزب اللہ کے اہداف‘ پر حملے کرنے کی ہدایت دے دی ہے۔
اگرچہ لبنان اور اسرائیل نے اپریل کے وسط میں فائر بندی پر اتفاق کیا تھا، تاہم حزب اللہ اس معاہدے کا حصہ نہیں ہے اور اسرائیل کے ساتھ مذاکرات سے انکار کرتی ہے۔
لبنان میں سکیورٹی صورتحال کے بگڑنے کے باعث بین الاقوامی سفارتی سرگرمیوں اور امدادی کوششوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں جرمن وزیر کا یہ دورہ آخری لمحے پر منسوخ کرنا پڑ گیا۔
اسرائیلی وزیراعظم نے بیروت کے جنوبی مضافات پر حملوں کا حکم دے دیا
اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے پیر کے روز بیروت کے ان جنوبی مضافاتی علاقوں پر حملوں کا حکم دے دیا، جو حزب اللہ کے زیرِ اثر سمجھے جاتے ہیں۔ اس اقدام کو جنگ میں مزید شدت اور ایران امریکہ تنازعے کے حل کے لیے جاری سفارتی کوششوں کے لیے ایک نئی پیچیدگی قرار دیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی انتباہ کے بعد بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے الضاحیہ سے لوگ نقل مکانی کرنے لگے۔ یہ تنازعہ پہلے ہی لبنان میں 10 لاکھ سے زائد افراد کو بے گھر کر چکا ہے۔
نیتن یاہو نے ایک ویڈیو بیان میں کہا، ’’ایسی کوئی صورتحال قبول نہیں کی جائے گی جس میں حزب اللہ ہمارے شہروں اور شہریوں پر حملے کرے اور بیروت کے الضاحیہ میں اس کے دہشت گردی کے مراکز محفوظ رہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل لبنان میں اپنی زمینی کارروائیوں کو مزید وسعت دے رہا ہے۔ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں ایک خود ساختہ ’سکیورٹی زون‘ قائم کر رکھا ہے۔ اسرائیل اس کا مقصد اپنے شمالی علاقوں کو حزب اللہ کے حملوں سے محفوظ رکھنا بتاتا ہے۔
جنگ کے ابتدائی ہفتوں میں اسرائیل نے بیروت کے جنوبی مضافات پر شدید بمباری کی تھی، تاہم امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے 16 اپریل کو لبنان جنگ میں فائر بندی کے اعلان کے بعد سے اس علاقے پر صرف دو حملے کیے گئے تھے، اگرچہ جنوبی لبنان میں جھڑپیں اور حملے جاری رہے۔
یہ تنازعہ دو مارچ کو اس وقت شروع ہوا تھا، جب حزب اللہ نے ایران کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے اسرائیل پر فائرنگ کی، جبکہ ایران اس وقت امریکی اور اسرائیلی حملوں کی زد میں تھا۔
لبنانی حکام کے مطابق دو مارچ سے اب تک اسرائیلی حملوں میں لبنان میں 3,400 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب اسرائیل کا کہنا ہے کہ اسی مدت کے دوران اس کے 24 فوجی اور چار شہری بھی مارے جا چکے ہیں۔
پاکستان ایک اہم علاقائی طاقت اور اہم شراکت دار ہے، یورپی یونین
یورپی یونین کی خارجہ امور و سلامتی پالیسی کی اعلیٰ نمائندہ اور یورپی کمیشن کی نائب صدر کایا کالاس نے پیر کے روز پاکستان کو ایک اہم علاقائی طاقت اور یورپی یونین کا اہم شراکت دار قرار دیا ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والے یورپی یونین اور پاکستان کے اسٹریٹیجک ڈائیلاگ کے موقع پر پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کالاس نے کہا،’’پاکستان ایک بڑی علاقائی طاقت اور یورپی یونین کا ایک اہم شراکت دار بھی ہے۔‘‘
پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق دونوں رہنماؤں نے مشترکہ طور پر آٹھویں یورپی یونین۔پاکستان اسٹریٹجک ڈائیلاگ کی صدارت کی، جو دونوں فریقوں کے درمیان اعلیٰ سطحی اور منظم مذاکرات کا اہم ترین پلیٹ فارم ہے۔
کالاس نے کہا کہ ان کا یہ دورہ ایک نہایت اہم وقت میں ہو رہا ہےکیونکہ گزشتہ سال نومبر میں ہونے والی ملاقات کے بعد سے دنیا اور اس خطے میں گہری تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بدلتی ہوئی عالمی اور علاقائی صورتحال میں یورپی یونین اور پاکستان کے درمیان تعاون، مکالمے اور شراکت داری کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
کالاس نے کہا،’’آج ہمارے اسٹریٹیجک ڈائیلاگ میں ہم نے یورپی یونین اور پاکستان کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔‘‘
اس دوران پاکستانی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ اپنی طویل المدتی اور کثیر جہتی شراکت داری کو بہت اہمیت دیتا ہے، جو مشترکہ اقدار، مضبوط اقتصادی تعاون اور کثیرالجہتی نظام (ملٹی لیٹرلزم) کے لیے مشترکہ وابستگی پر مبنی ہے۔
بیان کے مطابق پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات مختلف شعبوں پر محیط ہیں، جن میں تجارت، ترقی، سفارت کاری، تعلیم، موسمیاتی تعاون اور بین الاقوامی امور میں مشترکہ کردار شامل ہیں۔
پاکستانی وزارت خارجہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کایا کالاس پاکستان کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کریں گی، جس میں صدر، وزیرِاعظم اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر شامل ہیں۔
اعتماد کے فقدان نے سفارتی امن کوششوں کو مشکل بنا دیا ہے، ایرانی وزارت خارجہ
ایرانی وزارت خارجہ نے پیر کے روز کہا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے رابطے مشکل حالات میں جاری ہیں، جس کی ایک بڑی وجہ امریکہ کی جانب سے آنے والے متضاد پیغامات ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا، ’’مذاکرات شدید شکوک و شبہات اور عدم اعتماد کے ماحول میں شروع ہوئے ہیں، اور پیغامات کا تبادلہ بھی اسی فضا میں ہو رہا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’دوسرا فریق مسلسل اپنا موقف تبدیل کر رہا ہے اور نئی یا متضاد شرائط پیش کر رہا ہے۔ ایسی صورتحال میں مذاکرات کا طویل ہو جانا ایک فطری امر ہے۔‘‘
بقائی نے یہ بھی کہا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی بھی ممکنہ معاہدے میں لبنان میں جنگ بندی ایک بنیادی شرط ہے، کیونکہ اسرائیل اب بھی وہاں اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ لبنان میں ایرانی حمایت یافتہ جنگجو تنظیم حزب اللہ کو نشانہ بنا رہا ہے۔
بقائی نے واضح کیا کہ اس وقت امریکہ کے ساتھ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔ ان کا کہنا تھا، ’’ہم جانتے ہیں کہ جوہری معاملات پر کب اقدام کرنا ضروری ہے۔ جوہری پروگرام کی تفصیلات پر کوئی مذاکرات نہیں ہوئے۔ اس مرحلے پر ہماری ترجیح جنگ کا خاتمہ ہے۔‘‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بارہا یہ موقف اختیار کر چکے ہیں کہ ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں کا بنیادی مقصد تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔
تاہم ایران مسلسل اس بات کی تردید کرتا رہا ہے کہ اس کی جوہری سرگرمیوں کا مقصد مبینہ جوہری ہتھیار تیار کرنا ہے۔ تہران اپنے جوہری پروگرام کو صرف پرامن مقاصد کے لیے قرار دیتا ہے۔
مذاکرات بھی، حملے بھی: امریکہ ایران سے معاہدے کا خواہاں بھی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کہا کہ ایران واقعی امریکہ کے ساتھ ایک معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور ایسا معاہدہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے فائدہ مند ہو گا۔ ادھر دونوں ممالک ایک دوسرے کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بھی بنا رہے ہیں۔
پیر کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت پر سامنے آیا جب چند گھنٹے قبل ہی امریکی فوج نے اعلان کیا تھا کہ اس نے ویک اینڈ پر ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران کی پاسداران انقلاب کور نے کہا کہ اس کے جواب میں ایک امریکی اڈے کو ٹارگٹ کیا گیا۔
آبنائے ہرمز کے راستے شپنگ پر ٹول کیوں وصول نہیں کیا جا سکتا؟
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا: ’’ایران واقعی ایک معاہدہ کرنا چاہتا ہے، اور یہ امریکہ اور ہمارے اتحادی ممالک کے لیے ایک اچھا معاہدہ ہو گا۔‘‘
تاہم ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ تنازعے کے گرد جاری سیاسی تبصروں کی وجہ سے ان کے لیے ایران کے ساتھ مذاکرات کرنا زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔
انہوں نے لکھا، ’’میرے لیے اپنا کام درست طریقے سے انجام دینا اور مذاکرات کرنا اس وقت بہت زیادہ مشکل ہو جاتا ہے جب سیاسی مخالفین مسلسل یہ کہتے رہیں کہ مجھے زیادہ تیزی سے یا زیادہ آہستگی سے آگے بڑھنا چاہیے، جنگ کرنا چاہیے یا نہیں کرنا چاہیے، یا اسی طرح کی دیگر بیانات دیتے رہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’بس سکون سے بیٹھیں اور آرام کریں، آخر میں سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا، ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے !‘‘
امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے پر حملے جاری
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے مذاکرات کے دوران دونوں ممالک ایک دوسرے پر حملے بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج نے ایران کے اندر واقع ریڈار اور ڈرون کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز پر ’دفاعی کارروائی‘ کے تحت حملے کیے ہیں۔
جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی مزید پیش قدمی: شدید فضائی و زمینی حملے
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ کارروائیاں ہفتے اور اتوار کے روز ایران کے شہر گروک اور جزیرہ قشم پر کی گئیں۔
امریکی فوج کے مطابق یہ کارروائیاں ایران کی ’جارحانہ سرگرمیوں‘ کے جواب میں کی گئیں، جن میں ایک امریکی ’ایم کیو ون‘ نامی ڈرون کو بین الاقوامی فضائی حدود میں مار گرانا بھی شامل تھا۔
امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اس کارروائی میں کسی امریکی فوجی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
ایران جنگ: تیل کی قلت گلوبل انرجی سکیورٹی کے لیے بڑا خطرہ
ادھر پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی ایرو اسپیس فورس نے اس فضائی اڈے کو نشانہ بنایا ہے جہاں سے مبینہ طور پر سیریک جزیرے کے ایک ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور پر امریکہ کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا۔
پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں اس فضائی اڈے کے جگہ کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ پاسداران انقلاب نے کہا کہ ان کی فورسز نے ’اس فضائی اڈے کو نشانہ بنایا جہاں سے جارحیت کا آغاز ہوا تھا‘ اور حملے کے دوران مقررہ اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا۔
حملوں سے جنگ بندی مذاکرات متاثر
یہ حملے امریکہ اور ایران کے درمیان تازہ ترین کشیدگی کی علامت ہیں، حالانکہ دونوں ممالک اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ مذاکراتی عمل جاری ہے، خاص طور پر ایران کے اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم کے ذخائر کے حوالے سے۔
ٹرمپ نے جمعے کے روز اپنے مشیروں سے ملاقات کی تھی، تاہم انہوں نے ابھی تک جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق مجوزہ معاہدے پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔
ایران کا بھی کہنا ہے کہ معاہدہ ابھی تک حتمی شکل اختیار نہیں کر سکا۔
اسرائیل اور لبنان میں امن مذاکرات، مگر اسرائیلی فوجی پیش قدمی بھی جاری
اگرچہ چند جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب ہوئے ہیں، لیکن عالمی توانائی کی فراہمی پر دباؤ بدستور برقرار ہے۔ اس کے علاوہ کیمیائی کھادوں کی ترسیل بھی متاثر ہو رہی ہے، جس کے باعث مستقبل میں خوراک کی قلت کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔
ایران کے ساتھ ڈیل یا تو بامعنی ہو گی یا ہو گی ہی نہیں، ٹرمپ
خلیجی خطہ دنیا میں کیمیائی کھادوں کی تجارت کی تقریباً 30 فیصد پیداوار سپلائی کرتا ہے، اس لیے وہاں جاری کشیدگی عالمی زرعی منڈیوں اور غذائی تحفظ کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔
ادارت: مقبول ملک