ایرانی وفد کی آمد: کیا داعش کے خلاف مشترکہ پالیسی بنے گی؟ | حالات حاضرہ | DW | 16.07.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ایرانی وفد کی آمد: کیا داعش کے خلاف مشترکہ پالیسی بنے گی؟

ایران کے ایک اعلیٰ عسکری وفد نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے راولپنڈی میں ملاقات کی ہے۔ مستونگ دھماکے کے بعد ابھرنے والے سکیورٹی منظر نامے کے تناظر میں اس ملاقات کو پاکستان میں ماہرین انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں۔

وفد کی قیادت ایرانی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف میجر جنرل ڈاکڑ محمد باقری کر رہے تھے۔ پاکستان آرمی کے شعبہء تعلقات عامہ کے مطابق جنرل باجوہ نے اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔پاکستانی آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاک ایران فوجی تعاون خطے میں امن و امان اور سکیورٹی صورتِ حال پر مثبت اثر ڈالے گا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ایرانی وفد نے پاکستان میں دہشت گرد حملوں کی مذمت کی اور پاک ایران تعلقات میں بہتری کے لئے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ آئی ایس پی آر کے اعلامیے کے مطابق اس ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور خطے کی سلامتی پر تبادلہء خیال کیا گیا۔ پاکستان اور ایران کے درمیان دفاعی تعاون اور پاک ایران سرحدی صورتِ حال پر بھی بات چیت ہوئی۔
ماہرین کے خیال میں ایران افغانستان میں داعش کی موجودگی پر پہلے ہی پریشان تھا اور اب پاکستان میں اس دہشت گرد تنظیم کے حملوں نے تہران کی پریشانی میں اضافہ کر دیا ہے۔ معروف دفاعی تجزیہ نگار جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب کے خیال میں نہ صرف ایرانی خطے میں داعش کی بڑھتی ہوئی موجودگی پر پریشان ہیں بلکہ چینی، روسی اور پاکستانی حکام بھی اس عسکریت پسند تنظیم کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ پر تشویش کا شکار ہیں، ’’پاکستان، ایران، روس اور چین کے خفیہ اداروں کے حکام نے حال ہی میں اسلام آباد میں ایک اجلاس میں شرکت کی تھی اور اس کا موضوع بھی داعش تھا۔ خطے کے ممالک میں یہ تاثر ہے کہ بعض دوسرے ممالک جان بوجھ کر افغانستان میں داعش کو کھڑا کر رہے ہیں تاکہ خطے کے لئے مسائل پیدا کئے جا سکیں۔ افغان طالبان کے بر عکس کیونکہ داعش ایک بین الاقوامی دہشت گرد گروپ ہے، اس لئے ایران پاکستان اور خطے کے دوسرے ممالک کے ساتھ ملک کر اس خطرے سے نمٹنا چاہتا ہے۔‘‘


جنرل امجد کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں ایران اور پاکستان کے درمیان آنے والے وقتوں میں سکیورٹی تعاون مزید بڑھے گا، ’’یہ وفد آرمی چیف کی دعوت پر آیا تھا۔ میرے خیال میں مزید وفود کے تبادلے ہوں گے اور اس بات کا امکان ہے کہ پاکستان اور ایران مشترکہ طور پر اس عسکریت پسند تنظیم سے نمٹنے کے لئے کوئی پالیسی بنائیں گے۔‘‘

’طالبان کے بہترین جنگجوؤں کی تربیت ایران کر رہا ہے‘
پاکستان میں حکام ایک عرصے تک اس بات کے انکاری رہے کہ ملک میں داعش کا کوئی وجود ہے لیکن مستونگ حملے کے بعد اب اس بات میں کوئی شک نہیں کہ داعش کی پاکستان میں ’بہت منظم موجودگی‘ ہے۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی بہرام بلوچ کے خیال میں مستونگ حملے نے خطے کے ممالک اور اسلام آباد میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے،’’پہلے ہم کہتے تھے کہ داعش موجود نہیں ہے لیکن اس حملے میں اس دہشت گرد تنظیم نے ریاست نواز سیاست دان کو ہدف بنا کر ریاستی اداروں کو یہ باور کرایا ہے کہ وہ ملک میں اپنا وجود رکھتی ہے۔ کیونکہ اس تنظیم کی موجودگی سے پاکستان اور ایران دونوں کو خطرہ ہے۔ لہذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایرانی وفدکا دورہ اس مسئلے پر تعاون حاصل کرنے کی کوشش ہے۔ میرے خیال میں پاکستان، ایران اور خطے کے دوسرے ممالک کو اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے مشترکہ کوششیں کرنی پڑیں گی۔‘‘
لاہور سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار احسن رضا کے خیال میں اگر داعش پاکستان اور افغانستان میں مضبوط ہوتی ہے تو ایران اس کا اگلا ٹارگٹ ہوگا، ’’میرے خیال میں ایران کو بلوچستان میں داعش کی بڑھتی ہوئی موجودگی سے بہت پریشانی ہے کیونکہ بلوچستان کی سرحد ایرانی بلوچستان سے ملتی ہے، جہاں تہران کو پہلے ہی علیحدگی پسند تحریک کا سامنا ہے۔ کچھ عناصر ایران میں سنیوں کو تہران کے خلاف کھڑا کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے میں اگر داعش بلوچستان میں موجود ہوگی تو ان عناصر کو کامیابی ہوگی۔ ایران اس سازش کو ناکام کرنا چاہتا ہے اور پاکستان سے مل کر داعش کا قلع قمع کرنا چاہتا ہے۔ کیونکہ داعش پاکستان میں کئی حملے کر چکی ہے تو میرے خیال میں پاکستان اس مسئلے پر ایران اور دوسرے ممالک سے تعاون کرے گا اور سعودی و امریکی حکام کی ناراضگی یا اعتراضات کو نظر انداز کرے گا۔‘‘

DW.COM