ایرانی وزیر خارجہ کی پاکستان میں اہم رہنماوں سے ملاقاتیں | حالات حاضرہ | DW | 11.11.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ایرانی وزیر خارجہ کی پاکستان میں اہم رہنماوں سے ملاقاتیں

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف آج بدھ کو صدر پاکستان، وزیراعظم اور آرمی چیف سے ملاقات کے دوران اہم باہمی، علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف پاکستان کے دو روزہ سرکاری دورے پر گزشتہ رات اسلام آباد پہنچے۔ وہ آج صدر پاکستان عارف علوی، وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقاتیں کریں گے۔

امریکی صدارتی انتخابات کے فوراً ایرانی وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان اس لحاظ سے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ جواد ظریف نے اپنے دورے سے قبل ہمسایہ ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے ایک ٹوئٹ میں کہا تھا”امریکی صدر ٹرمپ 70 روز بعد چلے جائیں گے۔ لیکن وہ سب یہیں رہیں گے۔ اپنی سکیورٹی کے لیے باہر والوں پر انحصار کرنا مناسب نہیں اور ایران اپنے پڑوسی ممالک کو باہمی اختلافات کو بات چیت کے ذریعہ ختم کرنے کی دعوت دیتا ہے۔"

جواد ظریف کا پچھلے ڈھائی برس کے دوران پاکستان کا یہ چوتھا دورہ ہے۔ پچھلی مرتبہ وہ مئی 2019 میں دو روزہ دورے پر اسلام آباد آئے تھے۔

ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ ایک اعلی سطحی وفد بھی آیا ہے۔ جس میں سیاسی اور اقتصادی ماہرین کے علاوہ ایران کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان محمد ابراہیم طاہریان بھی شامل ہیں۔ خصوصی ایلچی کے عہدے کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد یہ پاکستان کا ان کا پہلا دورہ ہے۔ اس لیے اس دورے کے دوران پاکستان، ایران اور افغانستان کے سرحدی امور نیز بین الافغان مذاکرات کے حوالے سے دونوں ملکوں کے مابین اہم بات چیت بھی ان ملاقاتوں کے دوران متوقع ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کی طرف سے جاری ایک بیان کے مطابق جواد ظریف، وزیر اعظم عمران خان سے بھی ملاقات کریں گے، ان کی قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ملاقاتیں شیڈول ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ پاکستان کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتوں کے علاوہ اپنے ہم منصب شاہ محمود قریشی سے وفود کی سطح پر مذاکرات بھی کریں گے۔

اطلاعات کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ کی پاکستانی رہنماوں کے ساتھ میٹنگ میں پاکستان ایران باہمی تعلقات، امریکی صدارتی انتخاب، متوقع پی فائیو پلس ون معاہدے کی بحالی کے تناظر میں آئی پی گیس پائپ لائن پر خصوصی بات چیت ہوگی۔ اس کے علاوہ افغانستان میں قیام امن، افغان امن عمل، پاکستان ایران اقتصادی تعلقات، پاکستان ایران سرحدی انتظامی امور اور غیر قانونی منشیات و انسانی اسمگلنگ کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ جواد ظریف کے دورے سے دوطرفہ تعاون کے فروغ اور متعدد علاقائی معاملات پر اتفاق رائے بڑھانے میں مدد ملے گی۔ بیان میں کہا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات ہیں جو باہمی اعتماد، عقیدے اور ثقافت پر مبنی ہیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ بھی واضح رہے کہ ایرانی حکومت، بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے عوام کے لیے آواز اٹھاتی رہی ہے۔

دریں اثنا ایرانی روزنامے 'تہران ٹائمز‘ کے مطابق ایرانی پارلیمان میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے ایک رکن فدا حسین مالکی نے جواد ظریف کے دورہ پاکستان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ”ہمارے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان دونوں ملکوں کے لیے اس لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے کہ ہمارے درمیان سیاسی، سکیورٹی، سرحدی امور، تجارت اور معیشت کے حوالے سے اچھے تعلقات ہیں۔ خطے کے دو اہم ملکوں کے درمیان بہت ساری مماثلتیں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔“

ویڈیو دیکھیے 01:58

پاکستان اور افغانستان سے ایران کیا توقع کر رہا ہے؟

فداحسین مالکی کا مزید کہنا تھا ”ایران اور پاکستان کے درمیان تعلقات جتنے زیادہ مستحکم ہوں گے، دونوں ملکوں کے مابین اقتصادی صورت حال بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ، بہت سے دہشت گرد گروپوں اور غیر ملکیوں کی تخریبی سرگرمیوں کے خدشات بھی بڑھ جائیں گے۔ بد قسمتی سے اسلامی جمہوریہ ایران کے مشرقی سرحدی علاقے نیزسرحدی صوبے مثلاً سیستان اور بلوچستان میں ہمیں دہشت گرد گروپوں کی تخریبی کارروائیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں اور اس سے پاکستانیوں پر کافی بوجھ بڑھ گیا ہے۔"

ایرانی پارلیمان میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن فداحسین مالکی کا خیال ہے کہ ”پاکستانی اس خطے میں بھارتیوں کی موجودگی کے حوالے سے خاصے فکر مند ہیں۔" انہوں نے ایران اورپاکستان کے درمیان دیرینہ تعلقات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں اضافہ کرکے اس مسئلے کو حل کیا جاسکتا ہے۔

ج ا/ ص ز  (ایجنسیاں)

ویڈیو دیکھیے 02:33

پاکستان ایران سرحد پر تیل کی خطرناک اسمگلنگ

DW.COM