اُشنا سہیل، ٹینس میں عالمی رینکنگ پانے والی پہلی پاکستانی خاتون | کھیل | DW | 09.09.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

اُشنا سہیل، ٹینس میں عالمی رینکنگ پانے والی پہلی پاکستانی خاتون

پاکستان کی ابھرتی ہوئی ٹینس کی کھلاڑی اُشنا سہیل بدھ کو بھارت روانہ ہو رہی ہیں، جہاں وہ حیدر آباد دکن میں ہونے والے آئی ٹی ایف ٹورنامنٹ میں حصہ لیں گی۔

default

پروفیشنل کھلاڑی بننے کا کوئی ارادہ نہ تھا، اُشنا سہیل

اُشنا سہیل نے حال ہی میں شرم الشیخ منعقدہ انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن ٹورنامنٹ میں اپنی بھارتی پارٹنر رشمی چکرورتی کے ہمراہ ڈبلز کا سیمی فائنل کھیل کر سب کو حیران کردیا تھا۔ وہ کسی بھی بین الاقوامی ٹینس ٹورنامنٹ کا سیمی فائنل کھیلنے اور ڈبلیو ٹی اے کی عالمی رینکنگ کا حصہ بننے والی پہلی پاکستانی خاتون کھلاڑی ہیں۔

اُشنا سہیل نے بھارت روانگی سے قبل لاہور میں اپنی رہائش گاہ پر ڈوئچے ویلے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ عالمی رینکنگ میں جگہ ملنا ان کی زندگی کا اہم سنگ میل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دنیائے ٹینس میں اس وقت سخت مقابلوں کا دور دورہ ہے اور ایسے میں ڈبلیو ٹے اے رینکنگ کا حصہ بننا ان کے لیے قابل فخر بات ہے۔

حیدرآباد ٹورنامنٹ کی بابت اُشنا کا کہنا تھا، ’’میری تیاری اچھی ہے۔ میں اب کامیابیوں میں تسلسل لانے کی کوشش کروں گی تاکہ رینکنگ کو مزید بہتر بنا کر گرینڈ سلیم میں حصہ لے سکوں، جو میرا سب سے بڑا مقصد ہے۔‘‘

ماضی میں پاکستان کی جانب سے طاہرہ حمید جو ٹیسٹ کرکٹر فاروق حمید کی ہمشیرہ بھی تھیں، پروین احمد کے ساتھ ٹینس کے انٹرنینشل مقابلوں میں حصہ لے چکی ہیں۔ البتہ اُشنا سہیل کے برعکس طاہرہ اور پروین روایتی پاکستانی لباس شلوار قمیص پہن کر ہی ٹینس کورٹ میں اترا کرتی تھیں۔

اُشنا سہیل کا اپنا تعلق بھی ملک کی سب سے مقبول ٹینس فیملی سے ہے۔ دو گرینڈ سلیم فائنل کھیلنے والے عصرحاضر کے مشہور پاکستانی کھلاڑی اعصام الحق ان کے پھوپھی زاد ہیں جبکہ ان کے دادا خواجہ افتخار آل انڈیا ٹینس چیمپئن تھے۔ اُشنا کے ایک اور کزن سامر افتخار بھی آج کل پاکستان کے لیے ڈیوس کپ کھیل رہے ہیں۔

Pakistan Sohail Khawaja Vater Tennisspielerin Ushna Sohail

اُشنا سہیل کے والد سہیل خواجہ کے بقول اُشنا جونیئر اور سینئر کے نوے بین الاقوامی ٹورنامنٹ کھیل چکی ہیں

اُشنا کا کہنا تھا، ’’میرا پروفیشنل کھلاڑی بننے کا کوئی ارادہ نہ تھا۔ شروع میں صرف شوقیہ ٹینس کھیلتی تھی۔ یہ تو کوچز نے میرے والدین کو باور کرایا کہ میں اچھی کھلاڑی بن سکتی ہوں۔ اب مجھے احساس ہوتا ہے کہ اگر میرا ٹینس فیملی سے تعلق نہ ہوتا تو شاید میں کبھی ٹینس کورٹ کے قریب بھی نہ جا پاتی۔ اعصام الحق جب بھی پاکستان آتے ہیں تو ان کے ساتھ کھیلنے کا موقع ملتا ہے۔ اپنے دادا کی بھی بہت کہانیاں سنی ہیں، اس لیے اب خاندانی روایت کی پاسداری کرنے پر فخرمحسوس کرتی ہوں۔‘‘

اُشنا سہیل، جن کے کم کلسٹرز اور راجر فیڈرر فیورٹ کھلاڑی ہیں، کہتی ہیں کہ انہوں نے یہ مقام نو برس کی سخت تگ ودو کے بعد حاصل کیا۔ اُشنا کے بقول پاکستان میں کرکٹ کے علاوہ ٹینس سمیت سبھی کھیل مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’میری کامیابیوں میں جن کوچز کا ہاتھ رہا، ان میں مانا صاحب، رشید ملک اور امریکا کے چک لوسی بھی شامل ہیں۔

اُشنا سہیل کے والد سہیل خواجہ کا کہنا تھا کہ اُشنا جونیئر اور سینئر کے نوے بین الاقوامی ٹورنامنٹ کھیل چکی ہیں، ’’ اُشنا نے بھارت میں ثانیہ مرزا کی اکیڈمی کے علاوہ امریکا اور بیلجیم میں بھی ٹینس کی تربیت حاصل کی ہے، جس کے تمام اخراجات ہم نے خود برداشت کیے۔ البتہ دوسال پہلے فوجی فرٹیلازر ایف ایف سی کی سفیر بننے کے بعد سے اُشنا کے گھر والوں پر مالی بوجھ کچھ کم ہو گیا ہے۔‘‘

اشتہار